دینی جماعتوں کے اتحاد کے بجائے ادغام کی ضرورت

دینی جماعتوں کے اتحاد کے بجائے ادغام کی ضرورت
دینی جماعتوں کے اتحاد کے بجائے ادغام کی ضرورت

  


پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی باہمی کشمکش اور خلفشار کے پیش نظر برادر عزیز مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری نے جذبہ وحدت ملی کے تحت کمال دانشمندی کے ساتھ مختلف مذہبی جماعتوں کا اتحاد قائم کرنے کی مستحسن کوشش کی ہے اور سید عطاء المومن شاہ بخاری کی مساعی، حسنہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں پر مشتمل پاکستان میں قبل ازیں بھی کئی متحدہ محاذ قائم ہوتے رہے ہیں۔ کبھی اسلامی محاذ، کبھی قومی متحدہ محاذ، کبھی دینی محاذ، کبھی متحدہ مجلس عمل کے عنوان سے کبھی اسلامی جمہوری اتحاد وغیرہ کئی ناموں سے شغل محاذ سازی جاری رہا ہے، ان متحدہ محاذوں کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور عوامی سطح پر دینی جماعتوں کو کیا پذیرائی ملی۔ اس کی بابت یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ موثر اور مفید مطلب ہوتے تو آج بھائی سید عطاء المومن شاہ کو ان دینی جماعتوں کا نیا متحدہ محاذ بنانے کی زحمت نہ اٹھانا پڑتی۔

جہاں تک پاکستان میں موثر دینی محاذ کی پہلی کوشش کا تعلق ہے، وہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی حسب ہدایت آل مسلم پارٹیز کنونشن کے تحت مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان کی زیر صدارت مجلس عمل کا قیام تھا، دینی جماعتوں کی اکثریت نے ایک مقدس مقصد کے حصول کی خاطر جس وحدت و یگانگت کا مظاہرہ کیا تھا، وہ ایک مثال تھا۔ بعدازاں 1973ء کے دستور اسلامی کی تدوین اور 1974ء میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں وحدت امت کی شاندار مثال قائم کی گئی تھی، لیکن چند برس سے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے بعض علماء کرام اور دینی حلقے جماعتی اور مسلکی تعصب میں مبتلا ہو کر عوام الناس میں غیر موثر اور نامقبول ہوچکے تھے اور مذہبی جماعتوں کی غیر موثر کارکردگی کے باعث لوگوں میں دینی جماعتوں کی بابت مایوسی کی فضا ہمہ گیر ہو رہی تھی کہ ناگفتنی صورت حال کا احساس کرتے ہوئے سید عطاء المومن شاہ بخاری نے اپنے اسلاف کی اتباع میں دینی محاذ قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ یہ پہلا قدم علماء دیو بند کے مکتب فکر کے اتحاد پر مشتمل ہے اور دیگر مسالک اور جماعتوں کو بھی دعوت اتحاد دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، میری نگاہ میں عصر حاصر کا تقاضا محاذ سازی کا نہیں، بلکہ ادغام کا ہے، بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’فک کل نظام‘‘ کہ غیرموثر نظام توڑ کر ایک نیا نظام قائم کرکے امتِ وحدہ کا صحیح مظاہرہ ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں ان دنوں محض دینی جماعتوں میں ہی خلفشار نہیں، بلکہ حصول اقتدار اور کرسی کی خاطر سیاسی جماعتیں تشدد اور انتہا پسندی کا مظاہرہ کرکے مقصدِ قیام پاکستان کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ مسلم لیگ پاکستان کی بانی جماعت ہے، اگر یہ کئی دھڑوں میں تقسیم نہ ہوتی تو دوسری جماعتوں میں بھی حروف تہجی کے مطابق ف، س ، قاف، وغیرہ دھڑے قائم نہ ہوتے، آج اگر مذہبی جماعتیں اپنے اپنے دھڑوں کا وجود قائم رکھ کر کوئی متحدہ محاذ قائم کر لیتی ہیں تو اس کے نتائج مایوس کن ہوں گے اور یہ سعی لاء حاصل کے زمرے میں آئے گی، لہٰذا دور حاضر کے تقاضے اور معاشرے میں اسلامی قدروں کے تحفظ کی خاطر لازم ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں کسی منظم اور صحیح خطوط پر کام کرنے والی جماعت میں شرکت اختیار کرلیں، یا مختلف دھڑوں میں تقسیم دینی جماعتیں نئے نام کے ساتھ ایک ایسی جماعت بروئے کار لائیں جو حصول مقصد اور پاکستان کا نظام اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی خاطر موثرکردار ادا کرنے کی بھرپور جدوجہد کر سکے اور باطل کی یلغار کا مُنہ توڑ جواب دے سکے۔

بہر نوع، ہماری دینی جماعتوں کے رہنماؤں سے ایم کیو ایم اور طاہرالقادری کے یہ بیانات مخفی نہ ہوں گے، جن میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستور سے ’’اقلیت‘‘ کا لفظ خارج کرکے مساوات قائم کرنا چاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ غیر ملکی آقاؤں کی خواہش اور عیسائیوں، قادیانیوں کی خوشنودی کی خاطر ایسے بیانات سے وہ مادی فوائد حاصل کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ دینی جماعتیں چھوٹے چھوٹے گروہوں اور دھڑوں میں بٹ کر ہر گز غیر مسلم طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ کیا ختم نبوت کے نام سے عالمی مجلس ختم نبوت اور انٹرنیشنل ختم نبوت کے علاوہ ختم نبوت ہی کے نام سے دیو بندیوں، اہل حدیثوں، بریلویوں کی تنظیمیں بھی سرگرم عمل رہیں اور ان کا متحدہ محاز بھی قائم رہے:

ایں خیال است و محال است و جنوں:ختم نبوت کے تقدس کا تقاضا اگر علماء کرام اور دینی جماعتیں خود ہی پورا نہیں کر پاتیں تو ان کے متحدہ محاذ کس لئے موثر اور مفید ہو سکتے ہیں؟ علماء کرام اور دینی حلقے کو اپنی صلاحیتیں ضائع کرکے دنیا میں جگ ہنسائی کا سامان فراہم نہ کرنا چاہیے۔ اگر دنیا کے چھوٹے ممالک حالات سے مجبور ہو کر باہمدگر مدغم ہو کر ایک ملک کا روپ دھار سکتے ہیں تو پاکستان کی غیر موثر اور بے مقصد مذہبی جماعتوں کے دھڑے اپنے وجود ختم کرکے ایک موثر، جاندار اور مفید مقصد نئی جماعت قائم کرنے کا اقدام کیوں نہیں کرتے! کیا یہ دینی جماعتیں نہیں دیکھتیں کہ عمران خان اور طاہر القادری وغیرہ دھڑے پاکستان میں دین و مذہب کے اثرات ختم کرکے عورتوں اور نوجوانوں کو دھرنوں کی اور ناچ گانے کی تربیت دے کر قوم کو کدھر لے جا رہے ہیں اور پرانے پاکستان کی جگہ نیا پاکستان کس نوعیت کے عمل و کردار کا آئینہ دار ہوگا؟ علماء کرام اور دینی طبقے کو خواب غفلت سے بیدار ہوکر ذرا تیزی سے بدلنے والے حالات کا بھی کھلی آنکھ سے مشاہدہ کرنا چاہیے۔

محکمہ ڈاک کی ناقابل معافی بدعنوانی:ویسے تو پاکستان کا کوئی محکمہ بھی ہوشربا بدعنوانی سی پاک نہیں ہے، لیکن روزنامہ ’’پاکستان‘‘ 24نومبر 2014ء کی شائع کردہ خبر ایسی ہے ، جس کے مطابق ڈاک خانہ خانکی ہیڈ میں عدالتوں ، طلبہ و طالبات کی ڈگریوں، داخلہ فارم اور منی آرڈروں سمیت نہایت اہم دستاویزات چھ ماہ سے متعلقہ افراد تک اس لئے نہیں پہنچ سکیں کہ اس پوسٹ آفس کا ڈاکیہ چھ ماہ سے غائب ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ و طالبات کے داخلہ فارم وغیرہ اہم دستاویزات بروقت نہ ملنے کے سبب ان کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے، علاوہ ازیں سیشن کورٹ، ہائی اور سپریم کورٹوں، ایم ایڈ اور بی ایڈ کی ڈگریوں سمیت اپوائنٹ منٹ آرڈروں کو محکمہ ڈاک کی بوریوں میں بند رکھ کر متعلقہ محکمہ ڈاک کا انچارج گھر بیٹھے ہی اوکے رپورٹ بھیج کر افسران بالا کو مطمئن کرتا رہا ہے، جامکے چٹھہ ساروکی کے مکین باشندوں نے ایک چار پائی پر ضروری دستاویزات بکھیر کر زبردست احتجاج کیا ہے۔یاد رہے کہ حکومت پاکستان کا محکمہ ڈاک ان دِنوں جمعیت العلمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے سپرد ہے، اگر جمعیت العلمائے اسلام جیسی نامور مذہبی جماعت کے وزیر محکمہ ڈاک کے دور میں اس نوعیت کی سنگین بدعنوانی ہو سکتی ہے اور طلبہ و طالبات کے علاوہ عام شہریوں کو ڈاک کے ذریعے ارسال کی گئی دستاویزات اور فارم دستیاب نہیں ہوتے تو اور کون اس دیانت داری میں مشہور محکمہ ڈاک میں پرورش پانے والی بدعنوانی کا تدارک کر سکتا ہے؟ مولانا عبدالغفور حیدری کو اس ہوشرباء بدعنوانی کا فوراً نوٹس لے کر مرتکب افراد کو عبرتناک سزا دینی چاہیے اور جن طلبہ و طالبات کو داخلہ فارم یا ضروری دستاویزات نہیں مل سکی ہیں،متعلقہ محکمے کے ذمہ داروں سے مل کر ان کی محرومی کاتدارک کرنا چاہیے۔یہ صرف محکمہ ڈاک ہی کی نہیں، بلکہ جمعیت علماء اسلام کی بھی بدنامی کا معاملہ ہے، اسے نظر انداز کرنا مزید بدنامی کا موجب ہوگا۔

جاگیریں واپس لیں گے،سراج الحق:جماعت اسلامی پاکستان کے نئے امیر محترم سراج الحق نے لاہور کے تاریخی اجلاس منعقدہ 22نومبر2014ء آزادی پارک لاہور میں اعلان کیا ہے کہ وہ جاگیرداروں سے زمین واپس لے کر کسانوں کو دے گی، یہ اعلان خوش کن ضرور ہے، مگر اس پر عمل جماعت اسلامی کے بس کی بات نہیں، کیونکہ نظام جاگیرداری کی بابت بانی امیر جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور جناب سراج الحق کے نظریات میں فرق ہے، پہلے امیر جماعت اسلامی کو دوسرے جید علماء کرام اور زمیندارہ سسٹم میں دلچسپی اور مہارت رکھنے والے دانشوروں سے مل کر پاکستان سے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا طریق کار طے کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہوکہ جلسے میں خوش کن اعلانات کے بعد یہ ’’مسئلہ کڑھی کے ابال‘‘ کا مصداق نہ بن جائے، اسے سنجیدگی اور دور اندیشی سے لینا چاہیے، کیونکہ یہ آسان معاملہ نہیں ہے، اس پر مشاورت اور مذاکرہ ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا حکومت سے الگ ہو جانے کا عندیہ: روزنامہ اسلام لاہور میں اشاعت پذیر خبر کے مطابق جمعیت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگی حکومت کے ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی شرط پر ہم اقتدار میں شامل ہوئے تھے،چونکہ حکومت نے ہماری شرائط پوری نہیں کی ہیں، اس لئے ہم حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کررہے ہیں، نیز حکومت نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا، اس لئے بھی ہم مسلم لیگی حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

مولانا فضل الرحمن نے جنرل (ر) پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہونے سے لے کر موجودہ مسلم لیگی حکومت کے ساتھ ملک میں نظام اسلام کے نفاذ کی کبھی شرائط نہیں رکھیں، البتہ کشمیر کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی اور مرکز میں اپنی پسند کی دو وزارتوں کی شرائط کا ضرور تذکرہ ہوا تھا،چنانچہ حکومت نے وہ شرائط تسلیم کرکے جمعیت کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری اور اکرم خان درانی کو وزارتیں تو عطا کر دی تھیں، لیکن محکموں کا اعلان چند ماہ بعد ہوا تھا، چنانچہ مولانا عبدالغفور حیدری کو محکمہ ڈاک اور اکرم خان درانی کو وزارت ہاؤسنگ پر فائز کیا گیا ہے۔

جہاں تک پاکستان میں ’’نفاذ اسلام‘‘ کا تعلق ہے، اس سلسلے کے مطالبے کا آغاز تو قیام پاکستان کے مرحلہ ء آغاز ہی میں ہو گیا تھا، چنانچہ بانی پاکستان قائداعظم ؒ کی حسب ہدایت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی اور علامہ سید محمد سلیمان ندوی کی مساعی ء حسنہ سے قرار داد مقاصد منظور ہوئی اور علماء کرام کے 22نکات پر مشتمل دستوری سفارشات مرتب ہوئیں۔ بعدازاں 1973ء کے دستور کی تدوین اور منظوری اور 1974ء میں منکرین عقیدہ ء ختم نبوت قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے تھے، پاکستان کے مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے علماء کرام اور دینی طبقے کے بامقصد اجتماعات جن کا ایجنڈا صرف پاکستان میں دستور اسلامی کا نفاذہو، وہ ان کے علاوہ کبھی معرض وجود میں نہیں آئے، جیسا کہ وفاق المدارس کے اجلاس، ختم نبوت کی تنظیموں کے متحدہ محاذ کے، یا علماء دیوبند کے متحدہ گروپ کی تشکیل وغیرہ۔ اجتماعات اپنے جزوی مقاصد کی خاطر تو منعقد ہوتے رہے ہیں، لیکن پاکستان کے تمام مکاتب و مسالک اور مذہبی تنظیموں کے ایسے اجتماعات جن کا تعلق صرف پاکستان کے موجودہ نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا مقصود ہو ایسا کوئی قابل ذکر اجلاس شاید ہی منعقد ہوا ہو، یا کسی بھی مذہبی تنظیم جمعیت العلمائے اسلام سمیت وزارتوں اور چیئرمینوں کے سوا ملک میں نفاذ اسلام کی شرط کے ساتھ حکومت میں شمولیت اختیار کی ہو اور شرائط پوری نہ ہونے پر اقتدار سے علیحدگی کا اعلان کرکے نفاذ اسلام کی جدوجہد کا آغاز کیا ہو، جبکہ جمعیت العلمائے اسلام کو حکومت کا ساتھ دیتے وقت وزارتوں اور چیئرمین شپ کی شرائط رکھنے کے بجائے اگر صرف یہ تین شقیں نفاذ اسلام کی شرائط رکھ لی جاتیں، چوری کی سزا، بلاسود بینکنگ اور ملاوٹ ختم کرنا۔ تو اس کے نتائج نفاذ اسلام کی ایک موثر کوشش ہوتے، جمعیت العلمائے اسلام کی جانب سے نہ تو جنرل پرویز مشرف کے دور میں ، نہ بے نظیر اور آصف علی زرداری کے دور حکومت میں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ شریک اقتدار ہوتے وقت اسلامی نظام کے نفاذکی کوئی شرط سامنے آ سکی، البتہ اب مسلم لیگی حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دیتے وقت پتہ چلا کہ اس حکومت میں شرکت کی شرائط نفاذ اسلام تھیں، حقائق کیا ہیں، اللہ جانے یا مولانا فضل الرحمن۔

مزید : کالم


loading...