پیدل چلنے والوں کے لئے پلوں کی تعمیر

پیدل چلنے والوں کے لئے پلوں کی تعمیر

  

دیر سے سہی ایل ڈی اے کے دوسرے ادارے ٹیپا کو فیروز پور روڈ کے دونوں اطراف سے سڑک پار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ موٹر وہیکلز چلانے والوں پر بھی رحم آ ہی گیا اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ فیروزپور روڈ پر پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کی سہولت مہیا کی جائے۔ اس سلسلے میں پانچ اوور ہیڈ پُل بنائے جا رہے ہیں جن پر ایک ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ پُل قرطبہ چوک اور ایل او ایس کے درمیان، شمع چوک اور اچھرہ بازار کے درمیان، شاہ جمال، رحمن پورہ موڑ اور غازی چوک پر بنائے جائیں گے۔ ایل ڈی اے نے لاہور کو سگنل فری بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا اس کا تجربہ فیروز پور روڈ سے شروع کیا گیا۔ تاہم یہ خیال نہیں کیا کہ پیدل لوگ سڑک کس طرح پار کریں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری فیروز پور روڈ پر لوگ تیز چلتی ٹریفک کے دوران ہی سڑک پار کرتے ہیں۔ اس سے حادثات کا خدشہ پایا جاتا اور کئی بار حادثے اور ان کے نتیجے میں جھگڑے بھی ہوئے۔ یوں اب یہ خیال آیا ہے۔

ہمارے منصوبہ ساز ادارے اور افسروں کی یہ پہلی بھول نہیں، رِنگ روڈ پر بھی یہی کچھ کیا گیا، سڑک تعمیر کر کے دونوں اطراف کی آبادیوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ شمال والے جنوب اور جنوب والے شمال کی طرف نہیں آ سکتے۔ اس طرح رنگ روڈ ہی کو پار کرنا مناسب سمجھا گیا۔ یہاں بھی بعدازاں خیال آیا اور انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور دو تین ایسے منصوبے شروع ہوئے جو تکمیل کے قریب ہیں، لیکن ان سے کام نہیں چلے گا ، پوری رِنگ روڈ کے منصوبے پر نظرثانی کی جائے اور ضرورت کے مقام پر انڈر پاس منظور کر کے جلد تعمیر کئے جائیں تاکہ لوگوں کو آر پار آنے کی سہولت ہو اور رنگ روڈ سے نہ گزرنا پڑے اور حادثات نہ ہوں۔ اس طرح رِنگ روڈ کی افادیت بڑھے گی۔

مزید :

اداریہ -