نئے چیف الیکشن کمشنر کو درپیش چیلنج

نئے چیف الیکشن کمشنر کو درپیش چیلنج

  

کیا وہ انتخابات کا اعتبار قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار رضا خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک نے نئے چیف الیکشن کمشنر سے حلف لیا، جسٹس(ر) سردار رضا خان مُلک کے اٹھارہویں چیف الیکشن کمشنر ہیں اور وہ پانچ سال تک اس عہدۂ جلیلہ پر فائز رہیں گے، حلف اٹھانے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس(ر) سردار رضا خان نے کہا کہ وہ دھاندلی کی شکایات کے خاتمے کے لئے اختیارات کا بھرپور استعمال کریں گے، الیکشن کمیشن کے وقار کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عہدے پر نامی گرامی لوگ خوار ہوئے، یہاں چیلنج ہی چیلنج ہیں، مقابلہ آئین و قانون کے ذریعے کروں گا۔

مستقل چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ایک سال پانچ ماہ بعد عمل میں آیا، 2013ء کے عام انتخابات کے بعد جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم نے اس عہدے سے استعفا دے دیا تھا، جس کے بعد اب تک مستقل چیف الیکشن کمشنر کا تقرر عمل میں نہیں آ سکا تھا اور عہدے پر قائم مقام تقرر کر کے کام چلایا جا رہا تھا، لیکن جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو فاضل عدالت کی طرف سے حکومت کو تین بار مستقل تقرر کے لئے حکم نامے جاری کئے گئے، حکومت مختلف وجوہ کی بنا پر عدالت سے تاریخیں لیتی رہی، آخری بار عدالت نے حکم دیا تھا کہ5دسمبر سے سپریم کورٹ کے فاضل جج انور ظہیر جمالی کو واپس بُلا لیا جائے گا جو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر کام کر رہے تھے، تب حکومت نے جلدی جلدی اس تقرر کا اہتمام کیا یوں سارے مراحل مکمل ہونے کے بعد ہفتے کے روز نئے چیف الیکشن کمشنر نے حلف اٹھا لیا۔

پاکستان میں انتخابات کا المیہ یہ ہے کہ ان کا اعتبار قائم نہیں ہو سکا، اب تک جو بھی انتخابات ہوئے ان پر کسی نہ کسی انداز میں دھاندلی کا الزام لگا، سب سے زیادہ متنازعہ الیکشن1977ء میں منعقد ہوئے جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں کرائے گئے، قومی اسمبلی کے انتخابات والے دن ہی حکومت مخالف پاکستان قومی اتحاد نے ان انتخابات کو مسترد کر دیا اور تین روز بعد ہونے والے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے حکومت مخالف تحریک شروع کر دی۔ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات والے دن (10مارچ1977ء) سے ہی یہ تحریک شروع کر دی گئی اور پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت آتی چلی گئی، نئی اسمبلیوں کے ارکان نے حلف اُٹھا کر کام شروع کر دیا، مگر یہ تحریک جاری رہی۔ فریقین میں مذاکرات بھی ہوئے، لیکن معاہدہ ہونے والا تھا (یا نہیں ہونے والا تھا) کہ5جولائی1977ء کو جنرل ضیاء لحق نے مارشل لاء لگا کر اقتدار سنبھال لیا، ان انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے ہر انتخاب پر دھاندلی کا الزام لگا، یہاں تک کہ آئینی طور پر یہ طے کر دیا گیا کہ انتخابات کرانے کے لئے نگران حکومتیں بنائی جائیں گی، اِسی آئینی ترمیم کے تحت 2013ء میں وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوئیں، جنہوں نے الیکشن کروائے، تمام جماعتوں نے نتیجے کو (مشروط یا غیر مشروط) تسلیم کر کے اسمبلیوں میں حلف اٹھا لئے، لیکن تحریک انصاف نے اچانک انتخابی دھاندلیوں کا شور مچا دیا، جس میں اس وقت کے نیک نام چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم پر بھی الزام تراشیاں کی گئیں، بعد میں عمران خان نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری(ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد) اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو بھی اس میں ملوث کر دیا، ریٹرننگ افسروں پر دھاندلی کرانے کے الزامات لگائے گئے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے بھی ان الیکشنوں کو آر اوز کا الیکشن کہا تاہم اس سب کے باوجود دونوں جماعتیں دو صوبوں میں حکومتیں بھی کرتی ہیں۔ عمران خان کی جماعت بھی ایک صوبے میں مخلوط حکومت کر رہی ہے اور وفاقی حکومت کے خلاف دھاندلی کے الزامات کے تحت تحریک چلائے ہوئے ہے، جس میں صوبے کا وزیراعلیٰ بھی پیش پیش ہے، اس جماعت نے 14اگست2014ء سے اسلام آباد میں دھرنا دیئے رکھا ہے اور آج(پیر) فیصل آباد بند کرنے جا رہی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک نے بھی، جس نے 2013ء کا الیکشن نہیں لڑا تھا اور اس طرح دھاندلی کے حوالے سے اس کی کوئی شکایت ہی نہ بنتی تھی، اسلام آباد میں72دن دھرنا دیئے رکھا، اس کا یہ دھرنا انقلاب کے لئے تھا،جو نہیں آیا تو ڈاکٹر طاہر القادری بیمار ہو کر بیرون مُلک چلے گئے اور اب امریکہ میں علاج کرا رہے ہیں۔

اِس پس منظر میں یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں صاف شفاف الیکشن کرانا کتنا مشکل کام ہے، اِسی لئے اب تک چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی نہیں ہو پایا تھا اور جو دو نیک نام سامنے آئے تھے انہوں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ جسٹس(ر) بھگوان داس اور جسٹس(ر) جیلانی اُستروں کی یہ مالا اپنے گلے میں ڈالنے پر آمادہ نہ ہوئے تو جسٹس(ر) سردار رضا خان یہ عہدہ قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ نامی گرامی لوگ خوار ہوئے اور یہاں چیلنج ہی چیلنج ہیں۔

اب جبکہ نئے چیف الیکشن کمشنر نے کام شروع کر دیا ہے اُن کی ذات پر کسی جانب سے انگلی بھی نہیں اُٹھی، سوائے ایک جماعت، مسلم لیگ(ق) کے، جس نے اس تقرر کو پسند نہیں کیا،عمومی طور پر ان کا خیر مقدم ہی کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب انتخابات کا اعتبار قائم ہو جائے گا؟ اور کیا اب جو بھی الیکشن ہوں گے اُنہیں ہر جماعت صاف شفاف آزادانہ و منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تسلیم کر لے گی؟ ہمارے خیال میں اس سوال کا جواب بہت پیچیدہ ہے یہ ایک مشکل کام ہے ، چیف الیکشن کمشنر انتخابات کو منصفانہ بنانے کے لئے جو بھی کر لیں کِسی نہ کِسی جانب سے دھاندلی دھاندلی کی آوازیں اُٹھتی رہیں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اِن میں کس حد تک صداقت ہو گی، ہو گی بھی یا نہیں، لیکن ہمارے سیاسی و انتخابی کلچر کا ’’تقاضا‘‘ یہ ہے کہ ایسی آوازیں اُٹھتی رہیں، آئندہ بھی جو لوگ ہاریں گے چاہے اُن کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو وہ دھاندلی کا شور ضرور مچائیں گے، اب اگرچہ عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ بزعم خویش بہت ہی ہائی پچ پر پہنچا دیا ہوا ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ وہ انتخابی ٹریبونلوں میں دھاندلی کے ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ گزشتہ روز حلقہ این اے122میں انتخابی دھاندلیوں کی شکایت سُننے والے ٹریبونل کے روبرو مخالف امیدوار کے وکیلوں کی جرح کے انہوں نے جو جوابات دئے اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے پاس دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں،کوئی عینی شاہد نہیں، جو کچھ ہے وہ سُنی سنائی باتیں ہیں اور انہی باتوں پر ریت کا محل تعمیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ماحول اور اس فضا میں کل کلاں جب بھی انتخابات ہوں گے کیا انہیں آسانی سے منصفانہ، شفاف اور آزادانہ مان لیا جائے گا؟ فرض کریں اگلے انتخابات کے بعد بھی اگر تحریک انصاف کو حسبِ خواہش انتخابی کامیابی نہیں ملتی تو کیا وہ کھلے دل سے شکست مان لے گی؟ یا پھر ہارنے والے سارے امیدوار اور ساری جماعتیں شکست تسلیم کر لیں گی؟

یہی وہ چیلنج ہیں، جو منصفانہ الیکشن کے تمام تقاضے پورے کرنے کے باوجود موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو قدم قدم پر درپیش ہوں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ساری جماعتیں جن کی اس وقت قومی اسمبلی میں نمائندگی ہے، مل بیٹھ کر طے کر لیں کہ اگلے انتخابات کو منصفانہ بنانے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے اور جب یہ اقدامات انجام پذیر ہو جائیں، تو پھر تمام جماعتیں اس امر کا حلف اٹھائیں کہ وہ نتیجے کو اسی طرح تسلیم کریں گی، جس طرح بھارت میں کیا جاتا ہے۔ وہاں چیف الیکشن کمشنر عموماً حاضر سروس بیورو کریٹ ہوتا ہے اور اس کے پاس اتنے زیادہ اختیارات ہوتے ہیں کہ کوئی حکومت، کوئی طاقتور ادارہ یا کوئی گروہ انتخابات پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا اور اگر کوئی ایسی کوشش کسی جانب سے ہو تو چیف الیکشن کمشنر اپنے اختیارات سے کام لے کر اس کوشش کو غیر موثر بنا دیتا ہے۔ جسٹس(ر) سردار رضا خان اگر پاکستان میں انتخابات کا اعتبار قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں، تو یہ اُن کا ایسا کارنامہ ہو گا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ آئندہ پانچ سال تک اس عہدے پر کام کرتے رہیں گے اور امید ہے اس عرصے میں بہت سے ایسے کارنامے انجام دے جائیں گے کہ دھاندلی کا شور مچانے والوں کی زبانیں گنگ ہو جائیں گی۔

مزید :

اداریہ -