بھارت:پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ

بھارت:پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ

نئی دہلی(آن لائن)ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں میں اتنی توانائی باقی ہوتی ہے کہ ان کی مدد سے کچی آبادیوں کے مکانات میں روشنی کی جا سکے۔نئی تحقیق کے مطابق کمپیوٹر بنانے والے امریکی ادارے آئی بی ایم کی جانب سے کروائی گئی تحقیق میں جب ان پرانی بیٹریوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے 70 فیصد میں اتنی طاقت تھی کہ وہ ایک ایل ای ڈی لائٹ کو ایک برس تک روزانہ چار گھنٹے روشن رکھ سکیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ان بیٹریوں کا استعمال بجلی فراہم کرنے والے موجودہ متبادل سے سستا ہے وہیں اس سے ’ای ویسٹ‘ یا الیکٹرانک سامان کے فضلے کے مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔پرانی بیٹریوں سے توانائی کے حصول کا تجربہ رواس برس بھارتی شہر بنگلور میں کیا گیا ہے۔یہ بیٹریاں کچی بستی کے رہائشیوں کے علاوہ پھیری والوں اور خوانچہ فروشوں میں بھی مقبول ہوئیں۔اس سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جن گھروں تک بجلی نہیں پہنچ رہی ہے یا غریب افراد میں بجلی فراہم کرنے والا یہ پیک مقبول ہوگا۔انجینیئرنگ کے معروف امریکی ادارے ایم آئی ٹی کے ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق بھارت میں آئی بی ایم کی ٹیم کے ذریعے پیش کردہ تصور پر اب مزید تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

آئی بی ایم ٹیم نے جو پیک بنایا ہے اسے انھوں نے ’ارجر‘ کا نام دیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...