جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانیوں کو گپتاگروپ کی دھمکیوں کا سامنا

جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانیوں کو گپتاگروپ کی دھمکیوں کا سامنا
جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانیوں کو گپتاگروپ کی دھمکیوں کا سامنا

  

ابھی کوئی بھی گپتا گروپ کی طرف دھیان نہیں دے رہا لیکن جنوبی افریقہ میں رہائش پذیر پاکستانی آہستہ آہستہ گپتا گروپ کی طرف سے ملنے والی پریشانیوں کی طرف سے سخت پریشان ہونا شروع ہو چکے ہیں اور ان کا جنوبی افریقہ میں مستقبل خطرے میں نظر آرہا ہے .گپتا فیملی کے ارادے اچھے نہیں نظر آ رہے اور اگر ہمارے ہائی کمیشن اور حکومت پاکستان نے ساﺅتھ افریقین حکومت سے سنجیدگی سے اس معاملے پر بات نہ کی تو کروڑوں ڈالر زرمبادلہ پاکستان بھیجنے والے پاکستانیوں کو مستقبل میں سخت تکلیفیں پیش آ سکتی ہیں ، اس وقت موجودہ حالات میں نہ تو کسی کے نئے ورک پرمٹ لگ رہے ہیں اور نہ ایکشن ہو رہا ہے ایسی ایسی ڈیمانڈز کی جا رہی ہیں جو کہ عام آدمی پوری ہی نہیں کر سکتا اس وقت چائینیز ، پاکستانی ، انڈین اور دوسرے تمام ممالک کے لوگ جو جنوبی افریقہ میں روزگار کی تلاش میں آئے ہیں ان سب کی مصیبتیں بڑھ چکی ہیں پہلے سے لگے ورک پرمٹ اور ٹی آر پی پرمٹ جن لوگوں کے ختم ہو چکے ہیں ان کے ایکسٹنیشن بھی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے ہر کوئی اپنی دوڑ آ پ بھاگ رہا ہے. مسئلہ اگر کسی ایک آدھے پاکستانی کے ساتھ ہو تو کوئی بات نہیں لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی الٹ ہے اور اسی نئی مصیت سے ہر کوئی پریشان دکھائی دے رہا ہے گپتا فیملی کے ساﺅتھ افریقہ کے ہوم افیئرز سنبھالنے سے پہلے ورک پرمٹ ہولڈرز پاکستانی پاکستان سے اپنی فیملیوں کے ویزے آسانی سے لے لیتے تھے جو کہ اب وہ بھی بند ہو چکے ہیں .یہ موقع ہم سب کو اکٹھے ہو کر اپنے ہائی کمیشن سے بات کرنے کا ہے اگر ہمارے حکمرانوںنے اس معالے کو سنجیدگی سے نہ لیاتو وہ دن دور نہیں جب پاکستانیوں کو گپتا فیملی ساﺅتھ افریقہ سے چن چن کر پاکستان پھینکنا شروع کر دے گی ۔ پورے ساﺅتھ افریقہ میں بنی ہوئی پاکستان جنوبی افریقہ ایسوسی ایشن کے کچھ کرنے کاوقت آ چکا ہے میرا نہیں خیال کہ اس سے بڑی کوئی تکلیف یا کوئی مسئلہ پاکستانیوں کے ساتھ ہو ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کمیونٹی کیا کرتی ہے کیونکہ عام آدمی تو ہائی کمیشن میں ڈٹ کر بات نہیں کر سکتا لیکن کمیونٹی تو پورے ساﺅتھ افریقہ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اب ان سب پاکسانیوں کی نظر یں ہائی کمیشن اور پاکستان کمیونٹی پر لگی ہوئی ہیں اس موقع پر سب کو اکٹھے ہو کر اس معاملے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کیونکہ یہ مسئلہ ہر کسی کے ساتھ ہے اور ہر نئے آنے والے پاکسانی کے ساتھ ہو گا حکومت ِ پاکستان کو جنوبی افریقہ میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو مستقبل میں ملنے والی اس تکلیف دہ مصیبت کا حل نکالنا چاہیے اور پاکسان میں مقیم جنوبی افریقین ہائی کمیشن کو اس مسئلے کے بارے میں بتانا چاہیے اور کوئی مثبت حل نکالنا چاہیے ۔

مزید :

عالمی منظر -