لاہور کی 5 تحصیلوں سمیت ڈسٹرکٹ کلکٹرز دفتر کی رواں سال بھی انسپکشن نہ کی جاسکی

لاہور کی 5 تحصیلوں سمیت ڈسٹرکٹ کلکٹرز دفتر کی رواں سال بھی انسپکشن نہ کی ...

  

                                      لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل 6کی مبینہ غفلت یا اضافی کام کا بوجھ ،صوبائی دارلحکومت کی پانچوں تحصیلوں سمیت ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس کی بھی رواں سال انسپکشن نہیں کی جاسکی جبکہ مانیٹرنگ کا سسٹم بھی غیر فعال رہاجس کی وجہ سے زیر التواءریکوری ، ریونیو کے ٹارگٹ اور کمی فیس کی وصولی جیسے مسائل پر پردہ پڑ گیا ،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق رواں سال 2014 میںمحکمہ ریونیو کی پانچوں تحصیلوں ، ڈسٹرکٹ کلکٹر ،ایڈیشنل کلکٹر اشتمال اور کمشنر لاہور آفس کی انسپکشن تاحال نہیں کی جاسکی ہے ریونیو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ممبر جوڈیشل 6کی عدم توجہ کی وجہ سے ہر سال ہونے والی دفاتری انسپکسن اس سال التواءکا شکار کر دی گئی قابل ذکر بات یہ ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ندیم اشرف کی زیر صدارت ہونے والی تمام میٹنگوں کا پہلا ایجنڈہ دفتری ریکارڈ کی انسپکشن رہااور تمام ممبر صاحبان کو فل بورڈمیٹنگ اور دیگر میٹنگوں میں بار بار یہ باور کروایا گیا کہ دفاترکی انسپکشن ہر حال میں کی جانی ہے تاہم اس ضمن میں ممبر جوڈیشل 6 نے ناصر ف ہدایات نظر انداز کر دی ہیں بلکہ بورڈ آف ریونیو کی انسپکشن پالیسی کی بھی شکل بگاڑ کر رکھ دی ہے رواں سال 2014 میں پانچوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر کی جہاں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیاتھا وہاں ان کی کمی اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے وضاحتیں بھی طلب کی جانی تھیں جبکہ انسپکشن میں ریکوری کے معاملات ،کمی فیس کی وجوہات ،ریونیو کے مختص کردہ ٹارگٹ ،ریکارڈ کی درستگی اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی جانی تھیں اور یہ بھی تعین کرناتھا کہ پبلک انٹرسٹ اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کس حد تک انتظامی اقداما ت کئے گئے ہیں اس کے علاوہ رجسٹریشن برانچوں کی آڈٹ پیروں اور سالہا سال سے زیر التواءریکوری کے معاملات پر بھی نظر ثانی کی جانی تھیں تاہم اس سال صوبائی دارلحکومت کے ضلع لاہور میں کسی قسم کی کوئی انسپکشن نہ کی گئی ہے جس سے دارلحکومت کے افسران کے انتظامی معاملات ،ریونیو کورٹس میں زیر سماعت کیسز کی تعداد سمیت دیگر پالیسز پر بھی تاحال کوئی پیش رفت رہی اور نہ ہی مانیٹرنگ کا سسٹم فعال نظر آیا جس سے بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران کی اپنی کارکردگی ایک سوالیہ نشان کی طرح ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -