ٹیچنگ ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کیلئے علاج کی سہولت بند

ٹیچنگ ہسپتالوں میں دل کے مریضوں کیلئے علاج کی سہولت بند

  

 لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں واقع ٹیچنگ ہسپتالوں نے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ایمرجنسی میں علاج معالجہ کی سہولیات دینا بند کر دی ہیں جبکہ شہر لاہور میں واحد مرکز امراض قلب پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی شام5بجے کے بعد پرائمری انجیو گرافی کی سہولت دینا بند کر دیتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو یہاں سے بھی یہ سہولت ملنا بند ہو جاتی ہے اور اس صورت حال کے باعث مریض پرائیویٹ ہسپتالوں کے رحم و کرم پر چلے جاتے ہیں یا پھر ہارٹ اٹیک کے مریض اللہ کے سہارے پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو دو طریقوں سے علاج معالجہ کی سہولت دی جاتی ہے۔ پہلا طریقہ جو دنیا میں رائج ہے اس کے مطابق ہارٹ اٹیک کے مریض کو ہسپتال میں لاتے ہی پرائمری انجیو گرافی کر کے بند شریان میں سٹینٹ ڈال کر کھول دیا جاتا ہے اس طریقے کار کے تحت مریض کے دل کو نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ دوسرے طریقے کار کے ذریعے ہارٹ اٹیک کا Streptokinase نامی ٹیکہ دیا جاتا ہے جو مہنگا ترین ہونے کے باعث ہسپتال عام طور پر مریض کو نہیں لگاتے اور پہلے طریقہ کار کی سہولیات صرف پی آئی سی لاہور میں موجود ہیں، مگر اس ہسپتال کی انتظامیہ شام5بجے کیتھ لیب بند کر دیتی ہے۔ شام5بجے کے بعد یہاں پر سہولت بند ہو جاتی ہے جبکہ دوسری طرف میو ہسپتال، جناح ہسپتال، گنگارام ہسپتال اور خیراتی ہسپتال گلاب دیوی میں امراض قلب کے مکمل یونٹ موجود ہیں مگر ان ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرائمری انجیو گرافی کی سہولت نہیں دی جا رہی صرف گلاب دیوی ہسپتال میں پوری فیس وصول کر کے یہ سہولت ’’اِکا دُکا‘‘ مریضوں تک محدود ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سروسز ہسپتال میں امراض قلب کا یونٹ موجود ہے جس کا باقاعدہ کارڈیک سی سی یو بھی موجود ہے جس کے سربراہ پروفیسر عزیز الرحمن ہیں مگر جہاں پرائمری انجیو گرافی کی سہولت فراہم کرنے کے لئے مشین ہی موجود نہیں ہے اور نہ ہی جہاں ہارٹ اٹیک کے مریض ایمرجنسی میں لیے جاتے ہیں اس طرح جناح ہسپتال میں امراض قلب کا پورا یونٹ موجود ہے اس یونٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر زبیر اکرم اور ایسوسی ایٹ ڈاکٹر شارک سہیل موجود ہیں مگر ایمرجنسی میں ہارٹ اٹیک کے مریض نہیں لئے جاتے اور نہ ہی انہیں ایمرجنسی میں پرائمری انجیو گرافی کی سروس فراہم کی جاتی۔ اس ہسپتال میں کارڈیک سرجری کا یونٹ بھی ڈاکٹر مجیب پاشا کی سربراہی میں چل رہا ہے۔ اس طرح گنگارام ہسپتال میں کارڈیک سی سی یو موجود ہے جس کا سربراہ ایک پروفیسر آف میڈیسن ہے مگر یہاں بھی انجیو گرافی کی سہولت موجود ہے نہ سب ایمرجنسی میں مریض لئے جاتے ہیں۔ میو ہسپتال میں بھی کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے یونٹ موجود ہیں مگر ایمرجنسی میں کارڈیک ایمرجنسی نہیں لی جا رہی ہے۔ اس صورت حال کے باعث میو ہسپتال امراض قلب کے مریضوں کے یونٹ آفس بن چکے ہیں جو صرف مریض ریفر کرتے ہیں۔ لاہور جنرل ہسپتال ایک ٹیچنگ ہسپتال ہیں مگر یہاں کارڈیالوجی کا شعبہہی موجود نہیں ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر ان ہسپتالوں کے پرنسپلز توجہ دیں تو یہاں کارڈیالوجی ایمرجنسی شروع ہو سکتی ہے اور پی آئی سی لاہور پر سے مریضوں کا بوجھ بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس پر مشیر صحت خواجہ سلیمان رفیق کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں امراض قلب کے یونٹ موجود ہیں تو ان کو ایمرجنسی لینا چاہئیں اس معاملے کو حل کیا جائے گا اور اگر یونٹ آباد کرنے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہو گئی تو وہ فراہم کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -