آج کے گوہر مرزا

آج کے گوہر مرزا

  

 وطن عزیز کو زوال پذیر دیکھ کر مجھے سلاطین اودھ کے زوال کی بہت سی وجوہ اپنے ہاں نظر آئیں اور مرزا ہادی رسوا نے تو آنکھیں کھول دیں۔ جاننا چاہیے کہ مرزا ہادی رسوا اردو کے ایک بلند پایہ ادیب تھے۔ انہوں نے اردو ادب کو امراؤ جان ادا جیسا ناول دیا جسے اب کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ آپ کہیں گے کہ میں مرزا ہادی رسوا کا ذکر کیوں کر رہا ہوں۔ شاید آج ان کی برسی یا سالگرہ ہے اور مَیں اس کالم کے ذریعے ان کی خدمات بیان کرنے والا ہوں۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، بلکہ مجھے تو آج ان کے ناول امراؤ جان ادا کا کردار گوہر مرزا یاد آ رہا ہے۔ ایسے ہی کردار اس دور کے لکھنؤ کے زوال کی وجہ تھے اور ایسے ہی کردار مختلف ناموں سے ہمارے ہاں بھی کام کر رہے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کون؟ کیسے؟ کہاں؟ تو پہلے ناول کے کردار گوہر مرزا کو جانتے ہیں کہ یہ شرارتوں کے باعث محلے بھرمیں بدنام تھا، مسجد کے قاری صاحب بھی اسے پڑھانے سے توبہ کر چکے تھے۔ کچھ اس دور کے دستور اور کچھ گوہر کی شرارتوں سے تنگ آ کر اس کی ماں بنو ڈومنی اسے انسان بنانے کے لئے خانم جان کے کوٹھے پر بھیجنے لگی کہ بچہ ادب آداب سیکھ جائے، لیکن شوم�ئ قسمت گوہر مرزا اپنی طبیعت سے موافق ماحول پا کر طوائفوں کا کھلونا بن گیا اور امراؤ جان کی دوستی کے سبب تمام عمر اِسی کے ٹکڑوں پر پلتا رہا، حتیٰ کہ اس کے گھر کا خرچ بھی امراؤ جان ہی چلاتی تھی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امراؤ ایسا کرنے پر کیوں مجبور تھی ،تو وہ خود کہتی ہے کہ اس دور میں ہر طوائف کسی ایک پر خود پیسے خرچتی تھی، کیونکہ جب وہ ناچ رہی ہوتی گوہر مرزا بھاؤ بتاتے جب وہ گا رہی ہوتی گوہر مرزا تعریفوں کے پل باندھ دیتے اور سننے والوں کو فنی باریکیوں سے آگاہ کرتے۔ گوہر مرزا کے سبب ہر جگہ آؤ بھگت زیادہ ہوتی۔ مجرے زیادہ ملتے اور آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔ گویا گوہر مرزا آج کی زبان میں پبلسٹی بڑھانے اور نفع کمانے کے لئے تھا جو ہر گاہک کو طوائف کے گن بتاتا اور اس کی قدر میں اضافے کا باعث بنتا۔ دراصل مجھے اس قصے کو بتانے اور کردار کو متعارف کروانے کی ضرورت ہی لفظ پبلسٹی کی وجہ سے محسوس ہوئی۔ سگریٹ، چھالیہ، چائے، بسکٹ، دودھ، گاڑی، موٹر سائیکل حتیٰ کہ شیو اور اخبارات کے سرورق کے پیچھے بھی مجھے کوئی گوہر مرزا چھپا نظر آتا ہے، جو کسی خوبصورت چہرے کو اشتہار کی زینت بنا کر نفع کماتا ہے اور پھر اِسی نفع پر پلتا ہے خیر یہ بھی اگر مارکیٹنگ کا حربہ سمجھ کر برداشت کر لیا جائے اور یہ توجیہہ مان لی جائے کہ اشتہار دلکش نہ ہو تو کوئی دیکھتا نہیں۔۔۔خالد حسن آپ کس زمانے کی بات کرتے ہو؟ اب تو ہر اشتہار دوشیزاؤں کی اداؤں کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ سب کچھ ہضم ہو سکتا ہے، لیکن ٹھہرئیے! ایک چیز جو ہضم نہیں ہوتی وہ یہ کہ ماضی کے لکھنؤ کی طرح آج کل ادب آداب اور رسمی تعلیم کے حصول کے لئے طلبہ کو سکولوں، کالجوں اور جامعات میں بھیجا جاتا ہے اور جب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھرمار اور فیشن ان ہوا ہے، ملکی اور غیر ملکی نجی تعلیمی ادارے گوہر مرزا سنبھالے ہوئے ہیں جو دلکش بروشر پر طالبات اور مخلوط تعلیم کی ایسی دلکش تصاویر لگاتے ہیں، جن سے اخذ ہو کہ یہاں ماحول بہت open ہے۔ یہاں ہر کسی کی دال آسانی سے گل سکتی ہے اور تو اور بون فائر، ہیلوون نائٹ، میوزک کنسرٹ، ڈرامہ فیسٹیول، آرٹ فیسٹیول وغیرہ جیسی تقریبات کی جاتی ہیں تاکہ گاہک طلبہ متوجہ ہوں اور بدلے میں ایسے اداروں کی فیسیں ہوش اڑا دینے کی حد تک زیادہ ہوتی ہیں۔۔۔ کچے ذہن والدین کو مجبور کرتے ہیں کہ تعلیم تو بس یہیں ملے گی اور بنو ڈومنی کی طرح مجبور والدین قوم کا مستقبل گوہر مرزا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ آج کا گوہر مرزا ملک کے باہر اور اندر تعلیم کے نام پر نفع کما رہا ہے اور مَیں یہ کہنے پر مجبور ہوں: یہ جہاں تماشہ ہے ہم تم فقط تماشائی (کالم نگاربیکن ہاؤس سکول میں اردو کے استاد ہیں)

مزید :

کالم -