سی آئی اے کی قیدیوں پر ٹارچرکی رپورٹ سامنے آنے سے قتل و غارت پھیلے گی

سی آئی اے کی قیدیوں پر ٹارچرکی رپورٹ سامنے آنے سے قتل و غارت پھیلے گی

  

                              واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)غیرملکی حکومتوں اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کو خدشہ ہے کہ سی آئی اے کے اپنے قیدیوں پر ٹارچر سمیت دیگر تفتیشی طریقوں کے بارے میں رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے اس کے رد عمل کے طور پر بیرون ملک قتل و غارت اورتشدد کی وارداتوں میںاضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس پر مستقل سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے اتوارکے روز سی این این کے ایک خصوصی پروگرام ”سٹیٹ آف دی یونین“ میں شرکت کے دوران کیا۔ ری پبلکن پارٹی کے مشی گن ریاست سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین دس سال قبل سی آئی اے کے بارے میں تیار ہونے والی چھ ہزار صفحات پرمشتمل ابھی تک ”کلاسیفائیڈ“رپورٹ کا ذکر کر رہے تھے جس کی 480 صفحات کی سمری اگلے ہفتے جاری کی جا رہی ہے۔

اوبامہ انتظامیہ اس رپورٹ کی سمری جاری کرنے کے حق میں ہے تاہم وزیرخارجہ جان کیری نے کمیٹی چیئرمین کو درخواست کی تھی کہ وہ رپورٹ جاری کرنے کی ٹائمنگ پر غور کرے ۔ اس دوران سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چیئرویمن ڈایان فنٹسن نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ رپورٹ بہر صورت منظرعام پر لائی جائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ اپریل سے جاری مذاکرات میںوائٹ ہاﺅس نے سمری کو ”ڈی کلاسیفائی“ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم رپورٹ جاری کرنے کے وقت بیرون ممالک امریکی تنصیبات کی سکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

اس رپورٹ میں پہلی بار سرکاری طور پر سی آئی اے کی القاعدہ کے قیدیوںپرٹارچر کی تفصیلات سامنے آئیں گی جنہیں یورپ اورایشیا کی جیلوںمیںنائن الیون کے واقعے کے بعد رکھا گیا ہے۔ جن امریکی حکام نے اس رپورٹ کو پڑھا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان میں سی آئی اے کی طرف سے ٹارچر کے استعمال کے بارے میں بالکل نئی اورسنسنی خیز معلومات درج ہیں۔ ٹارچر کے ان طریقوں میں نیند سے محرومی ، انتہائی مختصر جگہ میں قید اور واٹربورڈنگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر اوبامہ نے تسلیم کیا ہے کہ ”ہم نے کچھ لوگوںکوٹارچر کیا ہے“تاہم رپورٹ میں امریکی حکام کا یہ تاثربھی شامل ہے کہ ٹارچر کے ذریعے زندگی بچانے والی انٹیلی جنس حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم سی آئی اے کے ڈائریکٹرجان برنین سمیت انٹیلی جنس حکام تسلیم نہیں کرتے کہ ٹارچر کے ذریعے ضروری معلومات حاصل نہیں ہوئیں۔

سی آئی اے ٹارچر

مزید :

صفحہ آخر -