پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کی سازش ناکام ہو گئی،اسحاق ڈار،عمران فساد کی سیاست چاہتے ہیں ،پرویز رشید

پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کی سازش ناکام ہو گئی،اسحاق ڈار،عمران فساد کی ...

  

                              اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو درست سمت لے جانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کرنا ہو گا، وزیراعظم محمد نواز شریف نے مشکل سیاسی فیصلے کرکے معیشت کو بہتری کی سمت گامزن کیا، حکومت معیشت، تعلیم، صحت کے فروغ اور انتہاءپسندی کے خاتمہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ہمیں دھرنے والوں کی حب الوطنی پر شک نہیں تاہم پاکستان کو جون 2014ءتک معاشی طور پر ڈیفالٹ قرار دینے کی سازش تھی تاہم اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکی، ہم نے نیک نیتی سے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیا تو کسی طرف سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں آئی، عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے خط لکھا ہے ۔ وہ اتوار کو اے پی این ایس کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید بھی موجود تھے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی معیشت کے حوالہ سے ہمارا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے، روپے کی قدر کے حوالہ سے سیاسی دعوے سب کے سامنے ہیں، پاکستان کیلئے ایک میثاق معیشت کرنے کی ضرورت ہے، ہم اگر سیاست اور جمہوریت کیلئے میثاق جمہوریت کر سکتے ہیں تو میثاق معیشت کیوں نہیں، 2002ءسے 2006ءتک میثاق جمہوریت پر کام ہوا اور اس کا ایجنڈا بڑھتا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کیلئے متحد ہونا ہو گا، ہم نے آئی ایم ایف کو 5 ارب ڈالر کے بقایا جات واپس کئے، نواز شریف نے مشکل سیاسی فیصلے کرکے معیشت کو بہتری کی سمت گامزن کیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالہ سے قوم سے وعدہ ہے کہ 31 دسمبر تک اسے 15 ارب ڈالر تک لے جائیں گے، یہ وعدہ ہم نے اس وقت کیا تھا جب ملک میں دھرنے نہیں تھے لیکن اس کے باوجود یہ ہدف حاصل کریں گے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ آئی ایم ایف کے ہم رکن ہیں اور اس سے رعایتی قرضہ حاصل کرنا ہمارا حق ہے، ہم نے داسو منصوبے کیلئے 60 کروڑ ڈالر لئے، سات سال بعد ہم نے اپنا بانڈ جاری کیا، مالیاتی اداروں نے پیشنگوئی کی تھی کہ جون 2014ءمیں پاکستان ناکام معیشت کا حامل ملک ہو گا،ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارے موڈیز نے 2012ءمیں پاکستان کی معیشت کو منفی قرار دیا تھا تاہم حکومت کے درست اقدامات کی وجہ سے نہ صرف موڈیز نے پاکستان کی معیشت کی مثبت ریٹنگ کی بلکہ عالمی اداروں کا اعتماد بھی بحال ہوا، ہم نے پہلے اپنے گھر کو درست کیا اور پھر بانڈ جاری کئے۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے کی وجہ سے سکوک اور او جی ڈی سی ایل کی ٹرانزیکشن میں تاخیر ہوئی، حکومتی اقدامات سے ٹیکس وصولیوں میں 16.4 اور ترسیلات زر میں 13.7 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت نے دن رات محنت کرکے معیشت کو درست راہ پر ڈالا۔ سکوک کی 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی آفر آئی، جس روز ہم نے سکوک بانڈ جاری کرنے تھے اس سے ایک دن قبل مختلف ممالک کے وفود سے 29 ملاقاتیں ہوئیں اور ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ کیا دھرنا سیاست ختم ہو گی، ڈالر کو 110 روپے سے 98 روپے تک لانے میں کامیابی ملی ۔

اسحاق ڈارنے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر فیصلہ کریں کہ پاکستان کو کس سمت لے کر جانا ہے، ہماری حکومت نے بجٹ سے ایک روز قبل سیکرٹ فنڈ ختم کئے، ملک کے بارے میں اچھی خبریں آ رہی تھیں، اس پر پوری قوم کو مل کر جشن منانا چاہئے تھا، پاکستان کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر پاکستان کی معیشت اسی سمت چلتی رہی تو 2050ءمیں پاکستان دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر شعبہ میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے، حکومت معیشت، تعلیم، صحت کے فروغ اور انتہاءپسندی کے خاتمہ کیلئے خصوصی توجہ دے رہی ہے، ہم نے اقتدار میں آتے ہی ہر شعبہ میں زائد اخراجات کو قابو کیا، 34 اداروں کے سیکرٹ فنڈ کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے باوجود کہ جہاں قوم کو ہنڈی کے ذریعے پیسے بھجوانے، ٹیکس اور بجلی کے بل نہ دینے کا کہا جاتا رہا، ٹیکس جمع کرنے کی شرح میں 14.3 فیصد اضافہ ہوا ، مالی خسارہ کو 4 فیصد تک کم کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دھرنے والوں کی حب الوطنی پر شک نہیں تاہم پاکستان کو جون 2014ءتک معاشی طور پر ڈیفالٹ قرار دینے کی سازش تھی ، اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ سازش کامیاب نہ ہو سکی، ہم نے نیک نیتی سے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیا تو کسی طرف سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں آئی، معیشت کی سمت درست ہوتے ہی بیرونی ہاتھ حرکت میں آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال تک عمران خان کو کوئی شکایت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ان کے الزامات پر ان کی تسلی کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا، ان کے 75 فیصد مطالبات مستقبل کے حوالہ سے ہیں اور خود مسلم لیگ (ن) کے منشور میں یہ اصلاحات شامل ہیں تاہم اس کیلئے شاید ہم تین سال بعد کام کرتے، اب عمران خان کے مطالبہ پر اس پر کام شروع کر دیا ہے، جوڈیشل کمیشن عمران خان کے اس الزام پر ،کہ منظم دھاندلی سے سازش کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو اقتدار دیا گیا ہے، کی تحقیقات کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، ہم نے مذاکرات ختم نہیں کئے تھے بلکہ عمران خان نے خود کنٹینر پر آ کر ستمبر میں مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، ہم نے اب بھی انہیں کہا کہ وزیراعظم کے بیرون ملک دورہ سے وطن واپسی پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے، شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر بات بھی ہوئی تھی، پھر عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر یہ کہا کہ اسحاق ڈار کہتا ہے کہ پہلے فیصل آباد اور دیگر شہروں کو بند کرنے کی کال واپس لو پھر مذاکرات ہوں گے جبکہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیںپاکستان کو مل کر درست کرنا ہے، سیاست برائے سیاست نہیں ہونی چاہئے، پاکستان کے مفادات، مستقبل کے روڈ میپ، خارجہ پالیسی اور معیشت میں تسلسل ہونا چاہئے، اس بارے میں میڈیا بھی آگاہی کیلئے کام کرے۔

میرا ایمان ہے کہ اگر ہم مل کر کام کریں تو یہ ملک ٹھیک ہو سکتا ہے، اب درست معیشت کی سمت چلتی ہوئی گاڑی نہیں رکے گی بلکہ اور تیز ہو گی، ہم نے جو منصوبے بنائے ہیں ان پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کیلئے جہاں موجودہ حکومت کے فیصلے اہم ہیں وہاں جمہوری تسلسل بھی ایک وجہ ہے، اگرپرویز مشرف دور میں 12 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر عملدرآمد بھی ہوتا تو آج ملک میں توانائی کا بحران نہ ہوتا، ہم نے تعلیم، صحت اور سوشل سیکٹر کو بہتر بنانا ہے، براہ راست سرمایہ کاری نے ہی چین، بھارت، سنگاپور اور ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنایا، ہمیں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری فاریکس مارکیٹ اور کرنسی کو مستحکم بنانا ہو گا، اقتصادی اشاریے مثبت ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ تمام اخبارات کے بقایا جات فوری طور پر ادا کریں گے، وزارت اطلاعات کی جانب سے سمری موصول ہونے پر اس کی ادائیگی کر دی جائے گی، مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں تاہم اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کے سرکاری نرخ مناسب ہیں، تمام حکومتوں کو اپنے دور کے تمام بقایا جات اپنے دور میں ہی ہر صورت ادا کرنے چاہئیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈارنے کہا کہ عمران خان کی یہ خوش فہمی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ان کی وجہ سے ہوئی، اس کا تعلق عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق جوڈیشل کمیشن بنانے میں کوئی مسئلہ نہیں، حکومت خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کا حل چاہتی ہے، پیر کو حالات دیکھنے کے بعد تحریک انصاف سے بات چیت کریں گے، احتجاجی سیاست کی وجہ سے ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑے، احتجاج کا فیصلہ پی ٹی آئی کا ہے، گن پوائنٹ پر کچھ نہیں کرا سکتے، بات چیت کے دوران عمران خان احتجاج ملتوی کر دیں۔

مزید :

صفحہ اول -