القاعدہ رہنما اور اہم طالبان کمانڈر سمیت 16شدت پسند ہلاک

القاعدہ رہنما اور اہم طالبان کمانڈر سمیت 16شدت پسند ہلاک

  

                 میران شاہ/شیگل(اے این این)شمالی وزیرستان اور کنڑ میں ڈروں حملے،خودکش حملوں کے ماسٹر مائند القاعدہ رہنما اور اہم طالبان کمانڈر سمیت16شدت پسند ہلاک،مکان تباہ،دتہ خیل حملے میںالقاعدہ رہنما استاد فاروق سمیت6مبینہ شدت پسند مارے گئے،کنڑ میں پاکستانی طالبان کے اجلاس کے دوران ڈرون حملہ کیا گیا،10مارے گئے۔تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح امریکی جاسوس طیاروں نے شاملی وزیرستا کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خار تنگی میں طالبان کے مرکز کو دو گائیڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مکان میں موجود6مبینہ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔حملے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔حملے کے بعد مقامی لوگوں نے گھر کے ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا۔علاقے میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں خود کش حملوں کا ماسٹر مائینڈ عمر فارق بھی شامل ہے استاد فاروق کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ وہ خود کش بمباروں کو تربیت فراہم کرنے کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔بعض اطلاعات کے مطابق استاد فاروق کا تعلق القاعدہ سے تھا اور مارے جانے والے دیگر افراد بھی اس کے ساتھی تھے۔مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ میزائل حملے کے بعد بھی ڈرون طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق علاقے میں موجود6سکیورٹی اہلکاروں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے جن میں سے تین کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے میں القاعدہ کا اہم رہنما بھی مارا گیا ہے جبکہ کئی شدت پسند زخمی ہوئے ہیں۔القاعدہ رہنما کی شناخت عمر فاروق کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کے امور کی آپریٹ کرتا تھا۔سکیورٹی حکام کے مطابق انھیں یہ اطلاعات مقامی ذرائع اور فون کی ریکارڈنگ سے ملی ہیں۔ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ خار تنگی ڈرون حملے میں 6شدت پسند مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاک فوج نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کے انچارج سعودی نژاد عدنان الشکری جمعہ کو اس کے سہولت کار سمیت ہلاک کیا تھا۔شمالی وزیرستان القاعدہ سے منسلک طالبان کا ایک مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے جہاں پاکستانی فوج نے جون کے وسط سے ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ان کارروائی میں اب تک 1200 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کو تباہ کیا جا چکا ہے۔اتوار کو ہونے والے ڈرون حملے پر تاحال پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن اسلام آباد شروع ہی سے ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں کئی اہم دہشت گرد رہنما مارے جا چکے ہیں۔ادھر افغان صوبے کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں اہم کمانڈر سمیت 10پاکستانی طالبان مارے گئے ہیں ۔مشرقی صوبے کنڑ کے پولیس چیف عبدالحدید سید خیل نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ڈرون حملے میں مارے جانے والے تمام پاکستانی طالبان ہیں جن میں ایک کمانڈ ر بھی شامل ہے۔ڈرون حملہ ضلع شیگل کے علاقے چاﺅگم میں اس وقت کیاگیا جب پاکستانی طالبان ایک اجلاس کیلئے اکٹھے ہورہے تھے ۔ڈرون حملے میں کسی شہری کی ہلاکت نہیں ہوئی ۔طالبان نے اس حملے کے حوالے سے تاحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔

مزید :

صفحہ اول -