اسٹیبلشمنٹ دھرنے کی اجازت دے ، کرپشن کرنےوالوں کو اندر کردینگے،الطا ف حسین

اسٹیبلشمنٹ دھرنے کی اجازت دے ، کرپشن کرنےوالوں کو اندر کردینگے،الطا ف حسین

حیدرآباد (آئی این پی) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جسے چاہے سپورٹ کرتی ہے‘ اسٹیبلشمنٹ ہمیں بھی اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت دے ہم کرپشن کرنے والوں کو اندر کردیں گے‘ فوج سے چھپ چھپ کر ملنے سے بہتر ہے کہ مردوں کی طرح کھل کر ملو بلکہ میں کہتا ہوں کہ فوج کو حکومت میں آئینی حق دے دو‘ حکمران اگر اپنا کشکول نہیں توڑ سکے تو غیرت کا مظاہرہ کرکے اپنی حکومت ہی توڑ دیں‘ 12اکتوبر 99ءمیں حکومت کا تختہ الٹنے پر سابق چیف جسٹس نے پرویز مشرف کو تین سال تک سیاہ و سفید کرنے کا سرٹیفکیٹ دیا مگر 3 نومبر کی ایمر جنسی جو پرویز مشرف نے مشاورت سے لگائی تھی غدار قرار دے دینا کہاں کا انصاف ہے‘ وہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں معززین شہر کی اعزاز میں دعوت حلیم سے خطاب کررہے تھے‘ الطاف حسین نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایم کیو ایم کے اراکین یہ تحریک التواءجمع کرائیں کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد برطانیہ‘ چائنا اور امریکا سمیت کتنے ممالک سے قرضہ لیا ہے اس کی تفصیل پیش کی جائے اور جس مد میں قرضے لئے گئے ہیں وہ بھی بتایا جائے یہ جو قرضے ہوں گے وہ بلینز میں ہوں گے‘ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر اپنا کشکول نہیں توڑ سکے تو غیرت کا مظاہرہ کرکے اپنی حکومت ہی توڑ دیں‘ الطاف حسین نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمو کریسی میں 50 جماعتوں نے دستخط کئے کہ آئندہ کسی جرنیل ‘ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سے نہیں ملیں گے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے لوگ چھپ چھپ کر جرنیلوں سے ملتے رہے‘ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار نے 6 مرتبہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے رات کی تاریکی میں ملاقاتیں کیں تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کس نے توڑا اس کی دھجیاں کس نے بکھیریں‘ انہوں نے کہا کہ فوج سے چھپ چھپ کر ملنے سے بہتر ہے مردوں کی طرح کھل کر ملو جب میں کہتا ہوں کہ فوج کو حکومت میں آئینی حق دے دو تو مجھے فوجی ایجنٹ کہا جاتا ہے اور جو لوگ برقعہ پہن کر فوج سے ملیں تو وہ پاک پوتر بن جاتے ہیں‘ الطاف حسین نے کہا کہ آپ کس منہ سے خود کو جمہوریت پسند کہتے ہو یہ جمہوریت پسند نہیں بلکہ اقتدار اور دولت پسند ہیں‘ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 12 اکتوبر 99میں پرویز مشرف کو بطور آرمی چیف برطرف کرکے اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل ضیاءالدین گلو بٹ کو آرمی چیف بنایا اس غیر منصفانہ فیصلے پر جرنیلوں نے نفرت اور غصے کا اظہار کیا اور حکومت کا تختہ الٹ کر وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار کرلیا گیا‘ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 99 میں حکومت کا تختہ الٹ کر غداری کی گئی لیکن اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدی نے پرویز مشرف کو تین سال تک مزید گناہ کرنے کا سرٹیفکیٹ دے دیا مگر تین نومبر کی ایمر جنسی جو پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں کی مشاورت سے لگائی اس پر انہیں غدار قرار دے دینا یہ کون سا قانون ہے‘ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد غداری کرے تو فرد اور اگر افراد غداری کریں تو سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن صرف پرویز مشرف کو غداری کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ‘ انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا غداری نہیں ہے لیکن 3 نومبر کی ایمر جنسی جو پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں کی مشاورت سے لگائی اس پر انہیں غدار قرار دے دینا کہاں کا انصاف ہے‘ انہوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں یہاں بھی صفائی کی ضرورت ہے‘ الطاف حسین نے وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں عدالت لگائیں اور پوری دنیا کے ججز اور ملک بھر سے ماہرین کو سپریم کورٹ میں جمع کریں الطاف حسین پاکستان آکر سپریم کورٹ میں اکیلا یہ ثابت کرے گا کہ 12 اکتوبر کا اقدام غداری ہے اور اگر میں ثابت نہ کرسکا اور مجھے مجرم ٹھرایا گیا تو مجھے اسی وقت سزا دے دی جائے اور اگر فیصلہ میرے حق میں آئے تو سب کو پکڑو او ر پھانسی پر لٹکا د،انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ وہ حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے میں دیوار بن جائیں گے اور یونیورسٹی ان کی لاش پر بنے گی تو وزیر اعظم‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو اس کا از خود نوٹس لینا چاہئے تھا اگر کسی اور ملک میں وزیر تعلیم ایسی بات کرتا تو اسے نشان عبرت بنادیا جاتا‘ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کہا ہے کہ تعلیم حاصل کرو‘ سیکھو اور پڑھو۔

مزید : صفحہ اول


loading...