کیا کچھ بند ہو گا کیا کچھ کھُلا رہے گا؟فیصل آباد میں فیصلہ آج ہو گا

کیا کچھ بند ہو گا کیا کچھ کھُلا رہے گا؟فیصل آباد میں فیصلہ آج ہو گا

  

 فیصل آباد(بیورورپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے پلان سی کے فیصل آباد سے آغاز سے ایک روز پہلے ہی شہر کی فضاء کشیدہ ہو گئی اور مرکزی مقام گھنٹہ گھر چوک میں تصادم کا ماحول پیدا ہو گیا،مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے مابین دھکم پیل ٗ ہاتھا پائی بھی ہوئی ٗ ٹماٹروں ٗ انڈوں ٗ ڈنڈوں کا بھی استعمال ہوا جس سے پی ٹی آئی کا ایک کارکن زخمی بھی ہوا۔ امین بٹ عرف ببو بٹ گھنٹہ گھر چوک میں مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف بڑھے فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے گھنٹہ گھر کی باؤنڈری کو تالہ لگا کر بند کر دیا ہے اور پی ٹی آئی کو وہاں اسٹیج بنانے سے روک دیا گیا ہے دوسری طرف مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنماء چودھری ظہیر الدین ٗ سنی اتحاد کونسل کے رہنماء صاحبزادہ حامد رضا اور عوامی تحریک نے بھی پی ٹی آئی کی احتجاجی ہڑتال میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے پولیس کی بھاری نفری گھنٹہ گھر چوک اور آٹھوں بازاروں میں تعینات کر دی گئی ہے تاہم وقفے وقفے سے تحریک انصاف کے کارکنوں کی ریلیاں گھنٹہ گھر چوک اور آٹھوں بازاروں میں چکر لگاتی رہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد ریجن کے چاروں اضلاع چنیوٹ ٗ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کے علاوہ سرگودھا اور ملتان سے بھی پولیس کی نفری طلب کر لی گئی ہے تقریبا4555 پولیس اہلکار پانچ ایس پیز ٗ13 ڈی ایس پیز ٗ21انسپکٹرز ٗ122 سب انسپکٹر ز اور 281 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی نگرانی میں تعینات کئے جا چکے ہیں ٗ واٹر کینن ٗ ربڑ کی گولیاں اور آنسوگیس کے شیل ہزاروں کی تعداد میں پولیس لائنز پہنچ چکے ہیں فیصل آباد کو بند کرنے کی تاریخ اگرچہ آج 8 دسمبر مقرر ہے مگر ماحول کو گرم کرنے کیلئے تحریک انصاف کے کارکنوں نے ایک روز پہلے صبح کے اوقات میں ہی ریلیاں نکالنا شروع کر دیں۔ پہلی ریلی جب گھنٹہ گھر چوک پہنچی تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گو نواز گو کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اس وقت وہ نسبتاً کم تعداد میں تھے گھنٹہ گھر چوک کے قریب ہی مسلم لیگ (ن)کارکن امین بٹ عرف ببو بٹ کا ڈیرہ ہے جہاں دیگرکارکن بھی موجود تھے وہ بھی ڈنڈے وغیرہ اٹھائے گھنٹہ گھر چوک کی جانب آ گئے جہاں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اسی دوران مسلم لیگ (ن)میاں عبدالمنان ایم این اے اور ان کے صاحبزادے میاں عرفان منان بھی اپنے کارکن ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے ان میں بہت سے کارکنوں کے ہاتھوں میں کچے انڈے اور ٹماٹر بھی پکڑے ہوئے تھے وہاں تصادم کی فضاء پیدا ہو گئی اور دھکم پیل شروع ہو گئی انڈوں ٗ ڈنڈوں اور ٹماٹروں کا استعمال بھی شروع ہو گیا اسی دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گھنٹہ گھر چوک سے باہر نکلنا پڑا اور وہ امین پور بازار کی جانب چلے گئے جس کے بعد فون کالوں کے ذریعے باقی ساتھی کارکنوں کو بھی بلوا لیا گیا اور وہ مختلف ریلیوں کی صورت میں موقع پر پہنچنے لگے جن کی قیادت پی ٹی آئی کے رہنماء اسد معظم ،بریگیڈیئر ریٹائرڈ ممتاز کاہلوں ٗ میاں فرخ حبیب ٗ مون کاستروٗ شہباز کسانہ اور عبداللہ دمڑ کر رہے تھے ان ریلیوں کے پہنچنے سے پسپا ہونے والے کارکنوں کو حوصلہ ملا اور اکٹھے ہو کر گھنٹہ گھر چوک پہنچ گئے چنانچہ اس صورتحال میں ن لیگی کارکن اور رہنماء وہاں سے چلے گئے اس کے بعد ڈی سی او نورالامین مینگل اور سی پی او ڈاکٹر سہیل تاجک بھی نفری کے ہمراہ پہنچ گئے ۔انہوں نے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جانے لگی اور گھنٹہ گھر چوک خالی کرا لیا گیا جس کے بعد مختلف ریلیاں وہاں سے گزرتی رہیں تاہم کشیدگی کچھ کم ہو گئی آخری اطلاع کے مطابق حالات کا فی حد تک کنٹرول میں آ چکے تھے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کے ضابطہ کے تحت تقریباً تین سو موٹر سائیکل قبضہ پولیس میں لے گئے گئے سی پی نے وائر لیس پر نشر ہونے والے ایک پیغام میں حکم دیا کہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں کو حراست میں لے لیا جائے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران خان آج دوپہر کو ایک خصوصی طیارے پر فیصل آباد پہنچیں گے تو جھنگ رو ڈ کے راستے انہیں نو دھرنا پوائنٹس پر لے جایا جائے گا جو پی ٹی آئی نے طے کر رکھے ہیں ،یہ تمام دھرنا پوائنٹس شہر کے داخلی خارجی راستوں پر بنائے گئے ہیں جن میں جھنگ روڈ ٗ سمندری روڈ ٗ ستیانہ روڈ ٗ جڑانوالہ روڈ ٗ شیخوپورہ روڈ ٗ سرگودھا روڈ ٗ نڑنوالہ روڈ وغیرہ شامل ہیں اس کے بعد عمران خان کو گھنٹہ گھر چوک میں لایا جائے گا جہاں وہ خطاب کریں گے دوسری جانب سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنی اوقات سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا اور کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے پر امن احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر پر امن احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی تو پر مقابلہ کیا جائے گا ۔

آئی این پی کے مطابق تحریک انصاف آج فیصل آباد میں شٹر ڈاؤن احتجاج کرے گی، اس سلسلے میں اس نے تیاریاں مکمل کی ہیں، چیئر مین عمران خان جھنگ روڈ کے راستے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے3بجے گھنٹہ گھر چوک پہنچیں گے، جہاں پر وہ 4سے 5بجے کے درمیان احتجاجی دھرنے سے خطاب کریں گے،فیصل آباد کے 5داخلی راستے اور 15اہم چوراہے صبح 10بجے بند کر دیئے جائیں گے،4بجے شہر کے تمام جلوس گھنٹہ گھر کیلئے روانہ ہوں گے۔پاکستان عوامی تحریک نے فیصل آباد کے احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے جس سے حکومت کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔احتجاج سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے اوردیگر اضلاع سے سیکڑوں پولیس اہلکارفیصل آباد پہنچ گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے اور احتجاج سے نمٹنے کیلئے آنسو گیس کے 7ہزار شیل،یہ شیل فائر کرنے والی 55بندوقیں اور واٹر کینن گاڑیاں فیصل آباد پہنچا دی گئی ہیں،شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ،گزشتہ روز مختلف جگہوں پر دونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی، شہر کے گلی،کوچوں اور چوراہوں میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں بینرز لگ گئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بعض مقامات پر تحریک انصاف کے بینرز پر اپنے بینرز آویزاں کر دیئے ہیں،فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی اور انتظامیہ کے مشترکہ اجلاس میں سڑکیں اور دکانیں زبردستی بند کرانے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، جلوسوں اور احتجاج کی ویڈیو ریکارڈنگ ہو گی ،اس مقصد کے لئے 20 کیمرہ ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف آج پیر کو فیصل آباد میں شٹر ڈاؤن احتجاج کرے گی۔ذرائع کے مطابق چیئر مین عمران خان جھنگ روڈ کے راستے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے3بجے گھنٹہ گھر پہنچیں گے، جہاں پر وہ 4سے 5کے درمیان احتجاجی دھرنے سے خطاب کریں گے۔

اسلام آباد دھرنے میں 2ماہ ساتھ نبھانے والی اتحادی جماعت پاکستان عوامی تحریک نے بھی فیصل آباد کے احتجاج میں شرکت کا اعلان کر دیا جس کے بعد حکومت کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ تحریک انصاف نے چوک گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں سمیت شہر کے مختلف حصوں میں بینرز لگائے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بھی تحریک انصاف کے احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے حکومت کے حق میں اور تحریک انصاف کی مخالفت میں بینرز آویزاں کر دیئے ، جبکہ گزشتہ روز دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے آمنے سامنے آ کر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کی بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا جبکہ شہر بھر کے وکلا نے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے ، کاروبار پہلے سے بند ہے احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے۔ دوسری جانب حکومت نے تحریک انصاف کو فری ہینڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی نظر بندیوں کے احکام جاری کر دیئے گئے ہیں، مظاہرین سے نمٹنے کیلئے ربڑ کی 25ہزار گولیاں، خصوصی گنیں،سات ہزارآنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن فیصل آباد پہنچا دیئے گئے۔ پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے لاٹھیاں تیارکرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے جلسے ، احتجاج کے موقع پر آٹھ ہزار سے زائد نفری سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے گی او ر کارکنان کی پکڑدھکڑ کے لیے واٹرکینن میں سرخ رنگ ملادیاگیاجو تین دن تک کپڑوں یا جسم سے نہیں اْترسکے گا۔ ذرائع نے بتایاکہ ریلیوں کے اندر سے کارکنان کی گرفتاریوں سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں لیکن بعد میں گرفتاریوں کے لیے سرخ رنگ معاون ثابت ہوگا۔یادرہے کہ ایسے ہی رنگ کی 30نومبر کے موقع پر ملاوٹ کی بھی اطلاعات تھیں اور واٹرکینن بھی موقع پر موجود رہیں لیکن پانی استعمال ہی نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے پانی میں رنگ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔دوسری طرف ڈی سی او فیصل آباد نے بتایاکہ وہ تحریک انصاف کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں ، جو تاجر اپنی دکانیں بند نہیں کرناچاہتے ، اْن کی دکانیں بند نہیں ہوں گی۔فیصل آباد کے نواحی علاقوں سے بھی پولیس کی نفری طلب کرلی گئی ہے اور دفاتر کا عملہ بھی پیر کو فیلڈڈیوٹی میں ہوگا اور ریلیوں یا جلوس کو بازاروں یا چوکوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دریں اثناء مسلم لیگ (ق) کے بعد سنی اتحاد کونسل نے بھی تحریک انصاف کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کر دیاہے۔دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی مرکزی قیادت کو تحریک انصاف کے احتجاج میں شرکت کرنے اور فیصل آباد کو بندکروانے کے کے لیے احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔عمران خان کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کی تاجر برادری ہمارے ساتھ ہے اور آج کا احتجاج ہو گا اور پر امن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہ چکے ہیں کہ جو تاجر ہمارا ساتھ نہیں دینا چاہے اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت ٹھیک ہے تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے ہر کوئی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔

لاہورسے سٹاف رپورٹرکے مطابق سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل فیصل آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج میں شریک ہو گی۔ حکومت مخالف تحریک میں تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے۔ پرامن احتجاج تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے اس لیے حکومت پرامن احتجاج میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ مسلم لیگی کارکنوں نے غنڈہ گردی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان انہوں نے تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کی قیادت میں ملاقات کرنے والے تحریک انصاف کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران سنی اتحاد کونسل پنجاب کے صدر مفتی محمد سعید رضوی، صاحبزادہ حسن رضا، میاں فہیم اختر، ملک بخش الٰہی، صاحبزادہ حسین رضا اور پیر میاں غلام مصطفی بھی شریک تھے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے تحریک انصاف کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ راہنما کی ہلاکت پاک فوج کی بڑی کامیابی ہے۔ نابینا افراد کے خلاف پولیس تشددسے پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ حکومت گنے کی قیمت 180 روپے فی من مقرر کرے۔ کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ حکمران گنے کے کاشتکاروں کی چیخیں سنیں۔ حکومت نے پانچ سو ارب کے زرعی قرضے صنعتکاروں کو دے دیئے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد کوٹہ سمیت نابینا افراد کے تمام مطالبات منظور کیے جائیں۔ لاہور میں اندھا قانون اندھوں پر برس پڑا۔ نواز شریف اور آصف زرداری نے سودے بازی کو مفاہمت کی سیاست کا نام دے رکھا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ضروری ہے۔ ایک عشرے کے دوران 1024 ملین ڈالر کا غیرقانونی زرمبادلہ پاکستان سے منتقل کیا گیا ہے۔ کسانوں کے حقوق کے لیے حکمرانوں سے لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ حکومت کی گرتی دیوار کو آخری دھکا لگانے کی منصوبہ بندی تیار کر لی ہے۔ پنجاب پولیس کو انسانیت سکھانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس بدمعاشوں کا ٹولہ بن چکی ہے۔ حکومت کسان دشمن پالیسیاں تبدیل کرے۔ امید ہے نئے چیف الیکشن کمشنر قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔

مزید :

صفحہ اول -