فیصل آبادحکومت کا قلعہ،تحریک کاایک یم پی اے ، باقی سب لیگی اراکین اسمبلی

فیصل آبادحکومت کا قلعہ،تحریک کاایک یم پی اے ، باقی سب لیگی اراکین اسمبلی
فیصل آبادحکومت کا قلعہ،تحریک کاایک یم پی اے ، باقی سب لیگی اراکین اسمبلی

  


تجزیہ منیر عمران

تحریک انصاف کے پلان سی کے تحت مختلف شہروں کو احتجاجاً بند کرنے کے پروگرام کا آغاز آج فیصل آباد سے شروع ہو رہا ہے پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق فیصل آباد سے اس کے آغاز کی حکمت عملی اس لئے تیار کی گئی کہ یہ ایک بڑا صنعتی شہر ہے یہاں انڈسٹری اور اس میں کام کرنے والے لاکھوں کی تعداد میں محنت کش بجلی ¾ گیس ¾ مہنگائی ¾ بے روز گاری ¾ جیسے بحرانوں سے زیادہ متاثر ہیں اگرچہ 2013 کے انتخابی نتائج کے مطابق فیصل آباد سب سے مضبوط قلعہ خیال کیا جاتا ہے جہاں تمام ایم این ایز اور ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والے پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے کے علاوہ باقی 21 ایم پی اے مسلم لیگ ن کے ہی کامیاب ہوئے پنجاب حکومت کے سب سے مﺅثر وزیر رانا ثناءاللہ خاں کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے بلکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے قریبی عزیز اور کبھی ن لیگ میں سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والے مرکزی رہنما سابق ایم این اے چوہدری شیر علی اور ان کے موجودہ بے باک وزیر مملکت صاحبزادے چوہدری عابد شیر علی بھی اسی شہر کے باسی ہیں فیصل آباد کی تاجر برادری میں بھی ن لیگی قیادت کا ہی اثرورسوخ ہے ¾ بے شمار چھوٹی بڑی صنعتوں کے مالکان پر بھی زیادہ تر اثر حکومتی اور ن لیگی ہی ہے سیاسی اثرورسوخ پر بھی زیادہ تر غلبہ ن لیگ کا ہی ہے خاص طور پر ان حالات میں جب پاکستان کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی بھی اپنی سابقہ حکومتی کارکردگی اور پالیسی کی وجہ سے سیاسی طور پر بہت پیچھے رہ گئی ہے ا ور پاکستان تحریک انصاف کے پاس بمقابلہ ن لیگ کوئی بڑے سیاسی قد کا ٹھ کی کوئی بڑی شخصیت بھی موجود نہیں ہے پھر بھی ایک بڑی اور منفرد احتجاجی تحریک فیصل آباد سے شروع کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر بظاہر ایک سیاسی رسک ہی دکھائی دیتا ہے مگر اسے ایک جرات مندانہ سیاسی فیصلہ بھی کہا جا سکتا ہے 8 دسمبر کا پہلا احتجاج فیصل آباد کے حصہ میں آیا مگر ایک روز قبل ہی یعنی 7 دسمبر کی صبح ہی وہی کچھ ہوا جس کا خدشہ سیاسی حلقے پہلے ہی ظاہر کر رہے تھے کہ دونوں متحارب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا آپس میں ٹکراﺅ ¾ بظاہر اگر پی ٹی آئی کا احتجاج پر امن ہی رہتا ہے کوئی جھگڑا ¾ کوئی لڑائی کوئی تنازعہ ہی کھڑا نہیں ہوتا ¾پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کرتے ہیں بیرونی سڑکوں کو ایک آدھ روز کے لئے بلاک بھی کر دیتے ہیں تو موجودہ حکومت پر اس کا کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک دو پُر تشدد احتجاجی واقعات کے علاوہ طویل پُر امن احتجاجی سلسلے بھی حکومت کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ممکن ہے پی ٹی آئی کی قیادت یہ سوچ رہی ہو کہ اگر فیصل آباد میں 8 دسمبر کا احتجاجی پروگرام کچھ غیر محسوس طریقے سے ہی گزر گیا تو اس کے مطلوبہ ثمرات نہ مل سکیں گے اور اسے کارکنوں میں جوش وخروش پیدا کرنے کے بہانے ایک رو ز قبل ہی کوئی چھوٹا موٹا متشددانہ احتجاج اس میں شامل کر دیا جائے اور اس سے تاجروں دوکانداروں کے اندر کسی بڑے متوقع ہنگامہ کا ڈر خوف پیدا ہو جائے کاروں گاڑیوں کے مالکان کے ذہنوں میں اپنے اور اپنی گاڑیوں کے جانی و مالی نقصان کے خدشات سر اٹھانے لگیں اور وہ اپنے گھروں سے کسی بھی صورت میں نکلنے کا ڈر خوف محسوس کرکے اپنے گھروں سے ہی نہ نکلیں تو پی ٹی آئی کا ٹارگٹ پورا ہونے میں مدد مل سکتی ہے اور پہلا مﺅثر قدم بھی ثابت ہو سکتی ہیں ۔کسی کی یہ سوچیں ہوں یا نہ ہوں لیکن گزشتہ روز نکلنے والی ریلیوں اور انڈوں ڈنڈوں ٹماٹروں کے ساتھ دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں ہونے والے تصادم نے کمزور دل شہریوں میں ایک ڈر خوف ضرور پیدا کر دیا کہ کل کہیں انہیں کوئی جانی و مالی نقصان نہ پہنچ جائے اس ڈر خوف میں میڈیا کی بریکنگ نیوز نے بھی کچھ نہ کچھ اثر چھوڑا ¾ پی ٹی آئی کے کارکن اپنا یہ رول ادا کرکے شام کے وقت آج اپنے احتجاج کے لئے ساز گار فضاءپیدا کرکے آرام یا مزید تیاریوں کیلئے چلے گئے ن لیگ کے بعض جذباتی کارکنوں نے ممکن ہے گھنٹہ گھر چوک میں ایسی کسی حکمت عملی پر غور ہی نہ کیا ہو کہ کل کی ہنگامہ آرائی کے اثرات آج کی احتجاجی کال کے لئے بھی فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتے ہیں ۔

مزید : تجزیہ


loading...