لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ،کٹ تیار

لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ،کٹ تیار
لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ،کٹ تیار

  

 نیویارک(ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق کے مطابق لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں میں اتنی توانائی باقی ہوتی ہے کہ ان کی مدد سے کچی آبادیوں کے مکانات میں روشنی کی جا سکے۔ کمپیوٹر بنانے والے امریکی ادارے آئی بی ایم کی جانب سے کروائی گئی تحقیق میں جب ان پرانی بیٹریوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے70فیصد اتنی طاقت تھی کہ وہ ایک ایل ای ڈی لائٹ کو ایک برس تک روزانہ چار گھنٹے روشن رکھ سکیں۔ محقیقن کا کہنا ہے کہ ان بیٹریوں کا استعمال بجلی فراہم کرنے والے موجودہ متبادل سے سستا ہے وہی اس سے ’’ای ویسٹ‘‘ یا الیکٹرانک کے فضلے کے مسئلے سے بھی نمٹا جاسکتا ہے۔پرانی بیٹریوں سے توانائی کے حصول کا تجربہ رواں برس بھارت شہر بنگلورو میں کیا گیا ہے۔یہ بیٹریاں کچی بستی کے رہوئشیوں کے علاوہ پھیری والوں اور خوانچہ فروشوں میں بھی مقبول ہوئیں۔اس سے یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ جن گھروں تک بجلی نہیں پہنچ رہی یا غریب افراد میں بجلی فراہم کرنے والا یہ پیک مقبول ہو گا۔ انجینئیرنگ کے معروف امریکی ادارے ایم آئی ٹی کے ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق بھارت میں آئی بی ایم ٹیم نے جو پیک بنایا اسے انہوں نے ’ارجر‘ کا نام دیا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سے وہ ان 40کروڑ افراد کی مدد کر سکیں جنہیں بھارت میں بجلی میسر نہیں۔ فی الحال اس کا متبادل شمسی تونائی ہے جوکہ زیادہ خرچیلا اور پیچدگیوں بھرا ہے۔ ارجر کو جس کی معیاد ایک سال ہو گی اگر وافر مقدار میں تیار کیا گیا تو اس کی قیمت 600روپے یا 10امریکی ڈالر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ارجر‘ میں یہ صلاحیت ہے کہ اس الیکٹرانک کوڑے کچرے کو توانائی کی کمی کو ختم کیا جا سکے۔ جس سے دونوں مسائل کا قابل عمل حل سامنے آتا ہے ۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ جانچ میں اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے اور اس کا استعمال کرنے والوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اس میں ایسے تار استعمال کیے جائیں کہ جسے چوہے نہ کاٹ سکیں تو بہتر ہو گا۔ دنیا میں ای ویسٹ ایک بڑا مسئلہ ہے اور امریکہ میں ہر دن تقریباً ڈیڑھ لاکھ کمپیوٹر پھینکے جاتے ہیں جو سالانہ تقریباً پانچ کروڑ بنتے ہیں۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -