موٹاپا معیشت پر بھی بھاری پڑنے لگا

موٹاپا معیشت پر بھی بھاری پڑنے لگا
موٹاپا معیشت پر بھی بھاری پڑنے لگا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صحت میں مسائل کے ساتھ ساتھ موٹاپا معاشی طورپر بھی نقصان دہ ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات یا تمباکو نوشی کے اثرات کے برابر ہی ہیں جبکہ 2030ءتک دنیا کی آدھی آبادی موٹاپے کا شکار ہونے کا خدشہ ہے ۔

میک کِنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی وجہ سے کام کے دنوں میں کمی اور صحت عامہ کی مد میں ہونے والے اخراجات بیس کھرب روپے سالانہ ہیں،اس وقت دنیا میں دو ارب دس کروڑ افراد یا دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی موٹاپے کا شکار افراد پر مشتمل ہے ۔

وہ ورزش جو آپ کو موت کی خبر دے دے

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی وجہ سے ہونے والی مالیاتی نقصانات بڑھ رہے ہیں جن میں موٹے افراد کے علاج معالجے پر آنے والے اخراجات اور بیماری کی صورت میں کام نہ کرنے سے ہونے والے نقصانات شامل ہیں جبکہ لوگوں میں موٹاپے کا بڑھتا رجحان، ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماری اور مختلف قسم کے کینسر کی وجہ بن رہا ہے۔

محققین کے مطابق اس معاملے سے نمٹنے کے لیے دور رس پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں انفرادی تبدیلیوں کی بجائے حالات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے جوڑوں کے لیے متحدہ عرب امارات میں انوکھی سزا پر غور

محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ چکنائی اور نشاستے والی خوارک پر زیادہ ٹیکس اور صحتِ عامل کی مہم چلانے جیسی تجاویز سے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔

مزید :

بزنس -