تحریک انصاف سے نمٹنے کیلئے 136 سپیشل ”شیرو“ فیصل آباد حادثےکے ذمے دار تو نہیں؟

تحریک انصاف سے نمٹنے کیلئے 136 سپیشل ”شیرو“ فیصل آباد حادثےکے ذمے دار تو ...
تحریک انصاف سے نمٹنے کیلئے 136 سپیشل ”شیرو“ فیصل آباد حادثےکے ذمے دار تو نہیں؟

  


لاہور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے لئے حکام اور وفادار افسران نے 136 سپیشل ”شیرو“ تیار کیےتھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور مشاورت کے تحت خصوصی کارندوں کی یہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی جبکہ مشن کو عملی جامہ پہنچانے کی ذمہ داری سپیشل برانچ اور پولیس کی تھی۔ وزارت داخلہ کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان 136افراد کو 3 کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا تھا ۔یہ منصوبہ بھی بنایا گیا تھا کہ لاہور، فیصل آباد سمیت تحریک انصاف کے دھرنوں والے مقامات، سرکاری عمارتوں اور اعلیٰ شخصیات کی رہائش گاہوں کے باہر مامور ہونگے جبکہ ان کا مقصد مظاہرین میں تصادم، ہنگامی صورتحال پیدا کرنا اور گھیراﺅ جلاﺅ کی تحریک دینا تھا تاکہ معاملات خراب اور پی ٹی آئی کی بدنامی ہو۔یہ تمام باتیں مختلف اخبارات میں چھپ چکی ہیں اور اب تمام لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ کہیں فیصل آباد کا واقعہ ان ’شیروں‘کی وجہ سے تو نہیں ہوا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مقاصد کیلئے جن لوگوں کو ہائر کیا گیا تھاانہیں ”شیرو“ کے نام سے پکارا جاتا ہے جبکہ ان کی سرپرستی محمد عرفان بٹ (شیخوپورہ)، نعمان چھینہ (گوجرانوالہ) اور محمد عمران ٹوبہ (فیصل آباد) کر رہے ہیں۔ بعض افسران ان ٹاﺅٹس کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ انہیں معاوضہ کی ادائیگی اور دیگر اخراجات پولیس کے خفیہ فنڈز سے کئے جائیں گے۔ مزید پتہ چلا کہ 2 اگست 2014ءسے لیکر 27 ایسے افراد کو تحریک انصاف میں داخل کیا جا چکا ہے جو احتجاجی پارٹی کی منصوبہ بندیوں، اجلاسوں کی بات چیت اور دیگر اندرونی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ حکومتی عہدیداروں اور افسران کو رپورٹ دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے محمد حسین عرف مدنی، امجد نواز اور شاہین مسیح جبکہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے محمد شہزاد، امین، فاخر اقبال، سنی عرف لالی کافی عرصہ سے ”پے رول“ پر یہ ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ اگست میں مجموعی طور پر 116 افراد ایجنٹ بنائے گئے تاہم بعض کو فارغ کر دیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ حکومتی ارکان اسمبلی نے بھی اپنے اپنے حلقوں میں 20 افراد پر مشتمل گروپ بنا رکھے ہیں جو بوقت ضرورت ایجنڈے کے مطابق سرگرمی دکھائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا تحریک انصاف کے کارکن کے قاتل کو فوری گرفتار کرنے کا حکم،جاننےکے لئے کلک کریں

ادھر سپیشل برانچ کے ذرائع نے تصدیق کی کہ حکومتی پالیسی پر عملدرآمد کرانے کیلئے بعض جگہوں پر کچھ افراد پے رول پر رکھے جاتے ہیں جبکہ بعض اہلکاروں کو سول وردی میں ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ دریں اثناءمحکمہ داخلہ پنجاب کے حکام کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی شخص ہائر نہیں کیا گیا البتہ کسی دوسرے ادارے نے اپنے طور پر کسی کو ہائر کیا ہے تو یہ ہمارے علم میں نہیں۔ مزید برآں حکومتی ترجمان زعیم قادری نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزید : قومی


loading...