کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (2)

کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (2)
کوہ نورہیرے کی اصل قیمت! (2)

  

رنجیت سنگھ کو یہ خبر ملی تو اسکی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ یکم جون 1813 ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ چھ سو گھڑسواروں کے جلوس کے ہمراہ ہیرا وصول کرنے مبارک حویلی پہنچا۔ فقیر عزیز الدین اور دوسرے سرکردہ درباری بھی راجہ کے ہمراہ تھے۔بدنصیب اور جلاوطن شاہ شجاع نے لاہور کے حکمران کا استقبال کیا لیکن دونوں بادشاہ تقریباً ایک گھنٹہ خاموش بیٹھے رہے ۔ رنجیت سنگھ کی بے چینی قابو سے باہر ہونے لگی تو شاہ شجاع کے اشارے سے اسکے ایک خواجہ سرا نے اندر جاکر کپڑے میں لپٹاہوا ’’کوہ نور‘‘ لاکر شاہ اور مہاراجہ کے درمیان رکھ دیا۔ رنجیت سنگھ نے پوٹلی کھول کر ہیرا نکالا اور حیرانی کے عالم میں اپنی واحد آنکھ کے سامنے گھما کر دیکھتا رہا پھر شاہ شجاع سے پوچھا کہ یہ ہیرا کس قدر قیمت کا ہوگا۔ شاہ شجاع نے جو قیمت بتائی وہ میں آپ کو اس کالم کے آخر میں بتاتا ہوں لیکن یہ قیمت سن کر مہاراجہ اٹھا اور ہیرے کو پوٹلی میں باندھ کر شکریے کا یا کوئی الوداعی کلمہ کہے بغیر جلدی سے کمرے سے نکل گیا۔

27 جون 1839ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کا انتقال ہوگیا۔ اس نے مرنے سے قبل وصیت کی کہ’’ کوہ نور‘‘ کو جگن ناتھ کے مندر یا گورو رام داس کے ادارے کو خیرات کے طور پر دے دیا جائے لیکن اسکی وفات کے بعد خزانے کے انچارج مصر بیلی رام نے ایسا نہ کرنے دیا۔رنجیت سنگھ کے بعد کھڑک سنگھ مہاراجہ بناجو ایک نالائق اور افیم کا عادی انسان تھا۔جس کو اسکے بیٹے نونہال سنگھ اور اسکی رانی بیوی چند کورنے عضو معطل بنا کر رکھ دیا۔5 نومبر1840ء کو کھڑک سنگھ اڑتیس سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔اسکے اگلے روز اسکی آخری رسومات کے دن نونہال سنگھ بھی ایک سازش کا شکار ہوکر چل بسا۔ رانی چند کور ۔ شیر سنگھ اور 1843 میں آخری مہاراجہ دلیپ سنگھ۔ یہ سب ناہل حکمران ثابت ہوئے ۔ ناکامی کی بڑی وجہ اختیارات پر وزیروں کا حاوی ہونا اور وزیروں کا فوج کے ’’انڈر پریشر ‘‘ ہونا۔اندر خانے دربار میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ فوج کی کسی طریقے سے’’اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے‘‘ چنانچہ فوج کو کمزور کرنے لئے اسے انگریزوں سے لڑا دیا گیا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی بھی ’’اینٹ سے اینٹ بج گئی‘‘ (یہ سب ایک الگ کالم کا متقاضی ہے جو انشاء اﷲ پھر کسی وقت) ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے صرف دس سال کے اندرکرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے فوج ، قوم ، اپنی حکومت اور اپنی عزت سب کی حقیقی معنوں میں ’’اینٹ سے اینٹ بجا دی‘‘ اور1848 ء میں سکھ یا پنجاب حکومت کا خاتمہ کرکے اسے انگریزی عمل داری میں شامل کرلیا گیا۔ کمسن مہاراجہ دلیپ سنگھ کو برطانیہ جلاوطن کردیا گیا ۔ اس سے ’’کوہ نور‘‘ لے کر ضبط کرلیا گیا ۔

3 جولائی 1850ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے چیئرمین نے یہ ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کردیاجو آج کل موجودہ ملکہ برطانیہ کے شاہی تاج کی زینت ہے ، جس کے حصول کے لئے جناب بیرسٹرجاوید اقبال جعفری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اب تک اس ہیرے کی واپسی کے لئے 786خطوط پاکستانی حکام اور ملکہ ایلزبتھ کو لکھ چکے ہیں ۔میری دعا ہے کہ جناب اقبال جعفری کی کوششیں رنگ لائیں اور ’’کوہ نور‘‘ پاکستان کو مل جائے لیکن یہ خاکساراس سلسلے میں کوئی خاص پرجوش نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے اگر’’کوہ نور‘‘ پاکستان کی حکومت کو مل گیا تو ایک امکان یہ ہے کہ یہ ہیرا ’’آئی ایم ایف‘‘ کو گروی رکھ کر اسکے عوض قرض لے لیا جائے گا۔ اب قرض تو اوپر والے کھا پی جائیں گے اور بھگتیں گے جناب جعفری، یہ خاکسار اور آپ سب ۔ تو جو تازہ ترین ضربیں اسحاق ڈار صاحب نے لگائی ہیں ، ابھی تواس پر ہی ’’ٹکوریں‘‘ ہو رہی ہیں ۔ٹماٹر ہانڈی میں ڈالنا چھوڑ دیا ہے اور دہی خریدنا بند کردیا ہے کیونکہ اسحاق ڈار صاحب فرماتے ہیں کہ یہ امیر لوگ کھاتے ہیں۔ شاید ان کی لغات ہی ’’دو نمبر ‘‘ہے جس میں امیر کے معنی غریب اور غریب کے معنی امیر کے ہے ۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ ہیرا گفٹ آئٹم کے طور پر رکھ لیا جائے لیکن یہاں بھی رسک ہے کہ کسی مقتدر ہستی کی بیگم کی نظر پڑگئی تو اس نے اپنے شوہر کو مجبور کردینا ہے کہ یہ کوئی ترکی کے صدر کی بیگم کا دیا ہوا ہار تھوڑی ہے جو شور مچے گابس ایک پتھر کا ٹکڑا ہی تو ہے ۔ نیت اس مقتدر ہستی کی بھی ایسے ہی ہونی ہے ۔ گمان یہی ہے کہ دس ہزار ارب روپے مالیت ’’کوہ نور‘‘کی کلیرنس سیل لگا کر اسکے دس بارہ زیرو اڑا کر قومی خزانے میں کوئی دس بارہ لاکھ جمع کراکر یہ ہیرا غائب کردیا جائے گایا اسکی جگہ چائنہ سے منگوا کر دو نمبر ہیرا رکھ دیا جائے گا۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اس ہیرے کو فروخت کرکے کھربوں ڈالر لے لئے جائیں اور قوم کو تین چار ماہ بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف دے دیا جائے ۔ بعد میں ’’ایان علی اور ہمنوا زندہ باد‘‘ سمندر میں لانچیں بھی چلتی ہیں جو ڈالر دوبئی اور لندن پہنچا دیں گی اور یہ کھربوں ڈالر ’’الٹے بانس بریلی کو‘‘ کے مصداق پھر باہر پہنچ جائیں گے ۔سو جناب اقبال جعفری سے گزارش ہے کہ وہ زیادہ خوش نہ ہوں کہ ہیرا مل جائے گاتو قوم کے دلدر دور جائیں گے ۔ جس قسم کی کہانیاں جناب ذولفقار مزرانے سنائی ہیں، قارون کا خزانہ بھی ان لوگوں کے لئے کم ہے ۔ مناسب یہی ہے کہ درخواست واپس لے لیں ۔ شاید قدرت نے ہماری قسمت میں واقعی کوئی اہل شخص بھی رکھاہو ، اس وقت تک انتظار کرلیں ۔

کہا جارہا ہے کہ ’’کوہ نور‘‘ ہیرے کی قیمت دس ہزار ارب روپے ہے لیکن یہ تو اندازہ ہے ۔ اصل قیمت وہ ہے جو شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ کو بتائی تھی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ’’کوہ نور‘‘ لے کرحیرانی، خوشی اور تجسس سے اس کو اپنی اکلوتی آنکھ سے دیکھنا شروع کیا توساتھ ہی شاہ شجاع سے پوچھا کہ اسکی کتنی قیمت ہوگی ۔ شاہ شجاع نے جواب دیا کہ ’’ اس کی قیمت لاٹھی ہے۔ میرے بزرگوں نے لوگوں کو لاٹھی مار کر ان سے چھینا تھا، تم نے مجھ کو لاٹھی مار کر چھینا ہے، کوئی اور زبردست ایساآئے گا، وہ تم کو لاٹھی مار کر چھین لے جائے گا‘‘ شاہ شجاع کا کہا درست ثابت ہوا ۔ برطانیہ کی لاٹھی رنجیت سنگھ کے جانشین پر کاری ضرب سے لگی اور ’’کوہ نور‘‘ اس کا ہوا۔برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2013ء میں اپنے دورہ بھارت میں واضح کردیا تھا کہ

’’کوہ نور‘‘ واپس نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان ہویا انڈیا، افغانستان ہویا سکھ مہاراج ۔ کسی کی لاٹھی اگر برطانیہ سے مضبوط ہے تو ’’کوہ نور‘‘ مل سکتا ہے وگرنہ ’’کوہ نور‘‘ کے صرف خواب ہی دیکھیں کیونکہ خواب ہی ہم غریبوں کا مقدر ہیں اور تسلی کی بات یہ ہے کہ خوابوں پر نہ تو حکومت پابندی لگا سکتی ہے اور نہ ہی جناب اسحاق ڈار کوئی ٹیکس !! (ختم شد)

مزید :

کالم -