کراچی میں اعلیٰ سطح اجلاس ،فوجی عدالتوں سے متعلق گفتگو نہ ہوسکی

کراچی میں اعلیٰ سطح اجلاس ،فوجی عدالتوں سے متعلق گفتگو نہ ہوسکی

  

کراچی : تجزیہ مبشر میر

اعلیٰ سطحی اجلاس میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوسکی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو کہا گیا کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع میں تاخیر آپریشن ضرب عضب کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔ دینی مدارس کے خلاف ایکشن کی حکمت عملی بھی زیربحث نہیں آئی۔ وزیراعظم کا پراسیکیوشن اور تفتیشی نظام میں شدید کمزوریوں پر اظہار ناراضگی ،گورنر ہاؤس کراچی میں امن وامان کے اعلیٰ سطحی اجلاس جس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف نے کی ، میں فوجی عدالتوں کی کارکردگی اور ان میں ہائی پروفائل مقدمات بھجوانے کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوسکی، اس وقت اہم ذرائع کے مطابق فوجی عدالتیں اس لیے مؤثر نہیں ہو رہیں کیونکہ صوبائی حکومتیں ان میں مقدمات بھجوانے سے گریزاں ہیں۔ انسداد دہشتگرد ی کی مزید عدالتیں بنانے کی بات ہوئی ہے، لیکن اسی نوعیت کی پہلے سے قائم عدالتوں کی کارکردگی ناقص ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو عسکری قیادت کی جانب سے باور کروایا گیا کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں تاخیر آپریشن ضرب عضب کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اس مسئلے کو فوری حل کرنے کا وعدہ کیا ہے اور فوری طور پر نوٹیفیکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔ دینی مدارس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اپیکس کمیٹی سندھ نے جون 2015ء میں کیا تھا لیکن تاحال کارروائی عمل میں نہیں آئی اور موجودہ اجلاس میں بھی اس پر بحث نہیں ہوئی ۔وزیراعظم نے تفتیشی نظام پر اظہار ناراضگی کیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے تفتیشی افسر کو تبدیل کیا گیا جو باعث حیرت ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق اگر رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے سلسلے میں حکومت سندھ تاخیر کرے گی تو وفاقی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے صدارتی حکم کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے صوبائی اسمبلی سے قرار داد پاس ہونا لازمی امر ہے۔ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے صدر مملکت خود ایمرجنسی کا نفاذ کریں تو صدارتی حکم کی توثیق پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) سے دس دن کے اندر کروانا لازمی ہے جس کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -