جعلی ادویات کے خلاف حکومت پنجاب کی مہم

جعلی ادویات کے خلاف حکومت پنجاب کی مہم
 جعلی ادویات کے خلاف حکومت پنجاب کی مہم

  

جعلی ادویات کی وجہ سے ہر سال کئی قیمتیں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں مگر انسانیت کے ان دشمنوں کو پوچھنے والے کوئی نہیں بلکہ ڈھٹائی سے یہ اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کے جعلی ادویات کے کاروبار سے منسلک اور ان کی سرپرستی کرنے والی کالی بھیڑوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سے کڑ ی سزائیں دی جائیں۔2010میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جعلی ادویات کے استعمال سے125جانیں ضائع ہوگئیں ۔ وزیر اعلی ٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے برطانیہ کی جدید ترین لیبارٹری سے ادویات کا ٹیسٹ کرایا جب رپورٹ آئی تو وہ دل کی بیماری کی دوا نہ تھی بلکہ اس دوائی میں ملیریا کے اجزاء شامل تھے۔ ادویات تیارکرنے والی فیکٹری کا تعلق دوسرے صوبے سے تھا۔

وزیر اعلی ٰ شہباز شریف کی حکومت جہاں صوبہ کے باسیوں کامعیار زندگی بلند کرنے اور،ٹرانسپورٹ، تعلیم و دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں وہاں انہوں نے جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث انسانیت دشمن عناصر کے خلاف بھر پور مہم چلانے کا اعلان کیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں ادویات کی خریداری ،ترسیل اورتقسیم کا جدید اورفول پروف نظام لایا جارہا ہے جس سے ادویات کی خردبرد ،چوری اورغیر معیاری ادویات کامکرودھندا ختم ہوگا۔پنجاب حکومت نے صوبے سے جعلی اورغیرمعیاری ادویات کے خاتمے کیلئے پوری قوت سے مہم شروع کردی ہے اورانسانی جانوں سے کھیلنے والے ان عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے۔جب تک صوبے سے جعلی ادویات تیار کرنے والی انسانوں کی آخری قتل گاہ کا خاتمہ نہیں کرلیتے، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اس مقصد کی تکمیل کیلئے متعلقہ اداروں ،انتظامیہ اوردیگر ذمہ داران کو خلوص نیت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا ہوں گے۔بدقسمتی سے ملاوٹ ،جعلی ادویات اور دھوکہ دہی ہمارے معاشرے میں موجود ہے جس کو ہم نے ملکرختم کرنا ہے ۔ہر سال اربوں روپے کی جعلی ،غیر معیاری ادویات کا کاروبارحکومت اور عوام کے لئے چیلنج بنتا ہے۔ہمیں اس چیلنج سے بطریق احسن عہدہ برآ ہونا ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ ایسا نیا نظام لارہے ہیں جس سے امیر اورغریب کو یکساں طبی سہولتیں اورایک ہی دوائی ملے گی۔ایک ایک جان بے حد عزیز ہے عوام کو ان قتل گاہوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے بلکہ جعلی ادویات کے مکروہ دھندے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے میں جعلی ادویات کی قتل گاہ کے بارے میں صحیح اوربروقت اطلاع دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دیا جائے گااور اطلاع دینے والے کا نام قانون کے مطابق صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ادویات کا انتہائی خطرناک اورمکروہ دھنداہرحال میں ختم کرنا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست انسانی صحت سے ہے ۔ہمیں اس دھندے کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے اوراس مکروہ کاروبار کے خاتمے کیلئے جان لڑا دینی ہے

اس مہم میں کامیابی اورناکامی کا فیصلہ عوام پر چھوڑیں گے۔ماضی بعید اورماضی قریب میں بھی اس دھندے کے خاتمے کیلئے کاوشیں کی گئی لیکن یہ کام ادھورا ہی رہا۔2014-15ء میں اس کاروبار کے خاتمے کیلئے ادویہ ساز اداروں کی مشاورت سے آرڈیننس جاری کیاگیا۔بدقسمتی سے آرڈیننس کی مدت ختم ہونے سے یہ آرڈیننس بھی ختم ہوگیا اورقانون کی شکل اختیار نہ کرسکا۔خامیاں اورکمزوریاں انسان میں ہوتی ہیں ،اگر یہ نہ ہوتو ہم فرشتے کہلائیں لیکن غلطی اورکوتاہی بھی بار بار نہیں ہونی چاہئیں۔ پنجاب اسمبلی کے آئندہ سیشن میں اس بارے میں مسودہ قانون دوبارہ لارہے ہیں اورجعلی ادویات کا مکروہ دھندہ کرنے والوں کو کڑی سزائیں ملیں گی ۔جعلی ادویات کے کاروبار کو ہمیشہ کیلئے ختم کر کے اسے قصہ پارینہ بنادیں گے لیکن اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں عزم،ولولے ،دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے اوردرد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے انسانی قتل گاہوں کے بدنما داغ کو پاکستان کے چہرے سے مٹانا ہے ۔

پنجاب حکومت نے گزشتہ سال خریدی گئی ادویات کے نمونے پنجاب کی لیب سے چیک کرائے تو 99فیصد ادویات درست قرارپائی جبکہ انہی ادویات کے نمونے برطانیہ کی لیب بھجوائے گئے تو ان میں سے 33فیصد نمونوں کو غیر معیاری قراردیا گیا۔اسی لئے پنجاب حکومت ادویات کی خریداری ترسیل اورتقسیم کا ایک جدید نظام لارہی ہے۔اس سال ادویات کی خریداری کے لئے پہلے فیکٹریوں کی پری کوالیفکیشن کی گئی ہے اور ادویات ساز اداروں سے معاہدہ کیا گیاہے کہ ان کی ادویات کے نمونے برطانیہ کے لیب سے ان کے خرچ پرچیک کرائے جائیں گے اور اگر یہ نمونے معیار پر پورے اترے تو پھر ادویات خریدی جائیں گی۔ اس طرح غریب قوم کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا اورامیر اور غریب کو ایک ہی دوائی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ قائدؒ اوراقبالؒ کا پاکستان نہیں ہوسکتا جہاں امیر کے لئے کوئی اوردوائی ہو اورغریب کیلئے کوئی اور۔ہم اس فرق کو مٹا ر ہے ہیں اب وزیراعظم،گورنر،وزرائے اعلی،وزراء، ججوں،جرنیلوں کو بھی وہی دوائی ملے گی جو ایک عام پاکستانی استعمال کرے گا۔مریضوں تک پہنچتے پہنچتے اربوں روپے کی ادویات غائب ہوجاتی ہیں۔پنجاب حکومت نے جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف بھر پور کریک ڈاؤن شروع کردیاہے ۔انشاء اللہ صوبے سے جعلی ادویات کے کاروبار کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔جعلی ادویات کے کاروبار کے خاتمے کے لئے میں وزیراعظم اور سندھ، بلوچستان،خیبرپختونخواہ اورگلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کے پاس جانے کیلئے بھی تیار ہوں کیونکہ ہمیں ملکر اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے 36اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں فراہم کررہے ہیں جس سے عوام کو اپنے گھروں کی دہلیز پرسی ٹی سکین کی سہولت 24گھنٹے دستیاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اضلاع کے ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں وہی کمپنیاں چلائیں گی جو یہ فراہم کریں گی۔اس سے ہسپتالوں میں منگوائی گئی کروڑوں روپے کی لاگت سے مشینیں بند کر کے مریضوں کو باہر سے سی ٹی سکین کرانے کا مکروہ دھندا بھی بند ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں اربوں روپے کی لاگت سے مشینری منگوائی جاتی ہے لیکن یہ ڈبوں میں بند رہتی یا پھر خراب ہو جاتی ہے اورمریضوں کو باہر سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے اس سے بڑا ظلم دکھی انسانیت کے ساتھ اورکوئی ہونہیں سکتا ۔ہم نے اس روش کو ختم کرنا ہے اور انشا ء اللہ حکومت پنجاب کے ضلعی ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب سے باہر کا دروازہ بند اوراندر کا دروازہ کھلے گا۔*

مزید :

کالم -