انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے اندراج کی مہم

انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے اندراج کی مہم

  

سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا ہے کہ ملک میں ایک کروڑ اکیس لاکھ سے زائد خواتین بحیثیت ووٹر رجسٹرڈ نہیں ہیں جن کو رجسٹر کرنا الیکشن کمیشن کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے، ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے اس موضوع کو نصاب میں شامل کیا جائے گا فاٹا میں بھی ووٹرز ایجوکیشن کا آغاز کیا جائے گا سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس وقت ملک میں دس کروڑ اٹھائیس لاکھ ستر ہزار افراد کے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں، مگر رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 9کروڑ ستر لاکھ ہے، جن میں مرد ووٹروں کی تعداد پانچ کروڑ چھیالیس لاکھ نوے ہزار جبکہ خواتین رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد چار کروڑ چوبیس لاکھ بیس ہزار ہے اور صنفی سطح پر ایک کروڑ اکیس لاکھ ستر ہزار کا فرق ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر خواتین کوووٹ کا سٹ کرنے سے روکنے اور انہیں بحیثیت ووٹر رجسٹرڈ نہ کرنے کی وجہ سے ہمارا تشخص خراب ہوا ملک بھر میں پوش علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہے، اس میں اضافے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے مجموعی طور پر ایک لاکھ 90ہزار معذور افراد کو انتخابی عمل کا حصہ بنایاجائے گا، اس مقصد کے لئے نیشنل ووٹرز ڈے منایا جارہا ہے۔

آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے ہر اہل شخص( مرد و خواتین) کا ووٹ، ووٹروں کی فہرست میں درج ہونا چاہیے، اس مقصد کے لئے یہ تجویز بہت اچھی ہے کہ نصاب تعلیم میں ووٹ کی اہمیت کا مضمون شامل کیا جائے گا، ووٹروں کی فہرستیں اگر مکمل ہوں اور ہر اہل شہری کا ووٹ ان میں درج ہو اور کسی بھی الیکشن کے موقع پر ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال دیانت داری سے کریں تو چند ہی برسوں میں ہمارا الیکشن کا نظام بڑی حد تک کوتاہیوں سے پاک ہوسکتا ہے، ووٹ کا اندراج ایک مسلسل عمل ہے نوجوان نسل کے افراد جو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں ان کا شناختی کارڈ بن جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ ووٹ کے اندراج کے اہل ہو جاتے ہیں اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جونہی کوئی شخص اپنا شناختی کارڈبنوائے اس کا نام ساتھ ہی ووٹروں کی فہرست میں اس کے رہائشی علاقے یا جہاں وہ ووٹ بنوانا چاہتا ہے) کی ووٹروں کی فہرست میں شامل ہو جائے، شناختی کارڈ کا ڈیٹا چونکہ نادرا کے پاس محفوظ ہوتا ہے اس لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تاہم جب تک یہ انتظام نہیں ہوجاتا ووٹروں کے اندراج کا طریقِ کار جتنا جلد ممکن ہو، سہل ترین بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنے ووٹ کے اندراج میں دلچسپی لینی چاہیے۔

ووٹ کا اندراج تو ایک اہم مرحلہ ہے جہاں تک ووٹ کاسٹ کرنے کا تعلق ہے خود سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کردی ہے کہ پوش علاقوں (متمول اور خوشحال لوگوں کی بستیاں) کے لوگ عام طور پر ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے باہر نہیں نکلتے، پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن ہوتے ہیں اورپولنگ کے دن ملک بھر میں عام تعطیل بھی ہوتی ہے لیکن مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ تعطیل ہونے کے باوجود ووٹر گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور خود پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے نہیں جاتے یا پھر انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کوئی امیدوار آئے اور انہیں ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ سٹیشن تک لے جائے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال آزادانہ طور پر کرنا ہے تو ان کا اپنا فرض ہے کہ وہ خود چل کر پولنگ سٹیشن پر جائیں اور ووٹ کا استعمال کریں۔

ہمارے ہاں تو ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ایک ہی دن کے لئے چند گھنٹے ہی مقرر ہوتے ہیں اس لئے تعطیل کے باوجود بہت سے لوگ رجسٹرڈ ووٹر ہونے کے باوجود اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرپاتے تاہم امریکہ جیسے ملکوں میں صدارتی انتخابات کی مقررہ تاریخ سے بہت پہلے ووٹنگ شروع ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں عام تعطیل کا کوئی تصور نہیں اس لئے لوگوں کو اپنی سہولت کے مطابق جب بھی وقت ملتا ہے ووٹ ڈال آتے ہیں اور یوں تجربہ شاہد ہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے ہی کروڑوں ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال کر چکے ہوتے ہیں اس بار بھی امریکہ میں یہی کچھ ہوا اور تین کروڑ سے زائد ووٹروں نے نومبر سے پہلے ہی اپنے ووٹ کا حق استعمال کر لیا تھا۔ الیکشن کمیشن کو پاکستان میں بھی ایسی اصلاحات پر غور کرنا چاہئے جن کی وجہ سے ووٹ کا استعمال زیادہ سے زیادہ لوگ کر سکیں اور ووٹروں کے ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہو سکے۔ تحریک انصاف نے 2013ء کے الیکشن میں ’’منظم دھاندلی‘‘ کا الزام لگایا تھا۔ بات چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے پورے ملک کے انتخابات ہی مشکوک قرار دینے کی کوشش شروع کر دی گئی اور عمران خان نے اسی بنیاد پر وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر دیا اور اپنے اس مطالبے کی منظوری کے لئے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیدیا۔ حکومت نے اس الزام کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جس نے رپورٹ دی کہ الیکشن میں منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ عمران خان کی جماعت میں چونکہ پوش علاقوں کے لوگ زیادہ شامل تھے جو پہلی بار کسی سیاسی جماعت کے ہمدرد بنے تھے لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن والے دن وہ اپنی پسندیدہ جماعت کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کے لئے نہیں نکلے اس لئے شکست سے پیدا ہونے والی مایوسی کی وجہ سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ پورے ملک میں منظم دھاندلی ہوئی ہے حالانکہ اگر کسی حلقے میں ایسی کوئی شکایت موجود تھی تو بھی اس کے ازالے کے لئے انتخابی عذر داری کا طریق کار موجود تھا۔

پارلیمینٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل انتخابی اصلاحات کی جو کمیٹی قائم ہے اس کمیٹی کو ایسی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے انتخابی عمل میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جائے اور ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بڑھ سکے، جن ذریعوں سے انتخابات میں دھاندلی یا بے قاعدگیوں کا امکان ہوتا ہے ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جماعتیں اس کمیٹی کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں۔ اس وقت اس کمیٹی کا کام سست روی سے جاری ہے اور اگلے عام انتخابات میں ڈیڑھ سال باقی رہ گیا ہے قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے چند روز پہلے کہا تھا کہ وزیر اعظم مئی یاجون میں بھی الیکشن کا اعلان کر سکتے ہیں اگر قائدِ حزب اختلاف کا اندازہ درست ہے تو پھر الیکشن سرپر ہیں اور جو جماعتیں ان کے نتیجے میں حصولِ اقتدار کی منزل حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ان کے لئے تو مقابلہ سخت ہے اور وقت کم، اس لئے یہ ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی اپنی اصلاحات کو جلد از جلد حتمی شکل دے اور ان کی پارلیمینٹ سے جلد منظوری حاصل کی جائے۔ اگر اصلاحات کے بغیر الیکشن ہوگئے تو ہارنے والی جماعتیں پھر دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیں گی کیونکہ ہمارے ہاں ابھی شکست کو فراخ دلی سے تسلیم کرنے کا کلچر نہیں پنپ سکا۔ بہر حال انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لئے الیکشن کمیشن کی کوششیں اور کاوشیں لائق تحسین ہیں اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کا تعاون بھی اگر اسے حاصل ہو سکے تو بہتر نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -