شوگر ملز میں حادثہ کی ذمہ داری مالکان کے سر ڈالنے کی کوشش

شوگر ملز میں حادثہ کی ذمہ داری مالکان کے سر ڈالنے کی کوشش

  

مدینہ شوگر ملز رجوعہ میں چند روز قبل آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں دو مزدور جاں بحق ہو گئے اور بعض دوسرے مزدور معمولی زخمی ہوئے،کہا جاتا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، لیکن اس کا مقدمہ مالکان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے آتشزدگی کے حادثات کچھ عرصے سے ملک بھر میں زیادہ ہو گئے چند روز قبل گڈانی میں جہاز میں آگ لگ گئی تھی جس میں 22افراد جاں بحق ہو گئے پیر کے روز کراچی کے ایک ہوٹل میں آگ لگ گئی جس میں 12کے لگ بھگ افراد جو ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے جاں بحق ہو گئے، ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آتشزدگی کے حادثات میں کسی صنعتی یا دوسرے ادارے کے مالکان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا ، سارے معاملات ملازمین کے سپرد ہوتے ہیں اور اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس میں دیکھنا ہوتا ہے کہ کس کی کتنی کوتاہی ہے اور حادثہ اچانک ہوا یا خرابی پہلے سے انتظامیہ کے نوٹس میں تھی اور اسے دور کرنے میں تساہل سے کام لیا گیا۔ اس طرح کے تمام معاملات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خرابی کا ذمہ دار کون تھا ایسے اتفاقی حادثات کی روک تھام کے لئے پیش بندی تو ممکن ہے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے اگر حادثہ ہو جائے تو مالکان کو اس کا براہ راست ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہیں۔ مدینہ شوگر ملز کے مالکان ایک ٹی وی چینل بھی چلاتے ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ وہ آزاد پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس سے حکومت خوش نہیں اس لئے شوگر ملز کے اتفاقی حادثے کا ملبہ ان پر ڈال کر انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس دلیل میں وزن ہے کہ سڑکوں پر بسوں ٹرکوں کے جو حادثات ہوتے ہیں کیا ان کا مقدمہ مالکان کے خلاف درج ہوتا ہے؟ یا اگر ریل کا حادثہ ہو جائے تو اس کا مقدمہ کسی وزیر یا ریلوے کے اعلیٰ افسر کے خلاف درج ہو گا؟ چونکہ یہ بات غیر منطقی ہے اس لئے شوگر ملز کے حادثے کا ذمہ دار بھی مالکان کو قرار دینا درست نہیں ہو گا ویسے بھی جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کہہ چکے ہیں کہ یہ اتفاقی حادثہ تھا اور وہ کسی کی دانستہ کوتاہی کو اس کا قصور وار نہیں ٹھہراتے اس بات کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئے کہ حادثہ کیوں پیش آیا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے بھی اقدامات ہونے چاہئیں تاہم حادثے کی آڑ میں مالکان کو انتقام کا نشانہ بنانا درست نہیں، اس طرح تو سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی اور صنعتوں میں سرمایہ لگانے والے خوفزدہ ہوں گے۔

مزید :

اداریہ -