پیپلز پارٹی، اتار چڑھاؤ اور مکافات عمل!

پیپلز پارٹی، اتار چڑھاؤ اور مکافات عمل!
 پیپلز پارٹی، اتار چڑھاؤ اور مکافات عمل!

  

سیاست میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں تو یہیں مکافات عمل کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، پیپلز پارٹی میں یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی ہے، پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے اپنے دور میں صورت حال یہ تھی کہ پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر شیخ محمد رشید (مرحوم) تھے جو بائیں بازو کے نظریات کے حامل اور جاگیر داری نظام کے سخت ترین مخالفوں میں سے تھے ان کے جنرل سیکرٹری ملک غلام مصطفی کھر تھے جو خود ایک بڑے زمیندار ہیں اور یوں قائد اعوام نے اپنی جماعتی تنظیم میں بھی توازن برقرار رکھا ہوا تھا، البتہ محترم ڈاکٹر مبشر حسن کے بارے میں لوگ بہت باتیں کرتے تھے وہ جماعت کے بانیوں میں سے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد ان کی رہائش کے لائن میں رکھی گئی تھی اور وہ لاہور کے صدر تھے،اور پیپلز پارٹی نے جب 1970ء کے انتخابات میں حصہ لیا تو جن تین حضرات کا ذکر کیا یہ تینوں اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے، جب پاکستان کے دو حصے ہو گئے اور موجودہ پاکستان کا اقتدار پیپلز پارٹی کو ملا تو ڈاکٹر مبشر حسن وفاقی وزیر مالیات جبکہ شیخ رشید وزیر صحت بنائے گئے اور پنجاب کی گورنر شپ مصطفی کھر کے حصے میں آئی تھی، بعد ازاں وہ وزیر اعلیٰ بھی ہوئے، بغاوت کی، حلقہ نمبر 6سے انتخاب ہارے اور کچھ عرصہ بعد واپس بھی آگئے تھے۔

جہاں تک ڈاکٹر مبشر حسن کا تعلق ہے تو یہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی تھے اور انہوں نے کئی انقلابی کام کئے تھے، اکثر لوگ ان کے ان انقلابی اقدامات کو اب بھی یاد کرتے ہیں کہ محترم کی مہربانی سے روپے کی قیمت میں 120فی صد تک کمی کی گئی ، صنعتیں اور تعلیمی ادارے کسی معاوضے کے بغیر ’’قومی تحویل‘‘ میں لئے گئے، جبکہ دوسری طرف شیخ رشید کی پیہم کوششوں سے ذوالفقار علی بھٹو کو کسی حد تک زرعی اصلاحات کرنا پڑیں، شیخ رشید تو تادم مرگ پارٹی میں رہے لیکن ڈاکٹر مبشر حسن مستفی ہو گئے اور اب غنویٰ بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی( شہید بھٹو) کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

موجودہ پیپلز پارٹی جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے سپرد ہوئی تو ان کو ’’انکل گروپ‘‘ کی طرف سے مزاحمت اور بغاوت تک کا سامنا ہوا، ان کی قیادت ملک معراج خالد کے سپرد تھی، یہ انکل جو چار کا ٹولہ کہلائے فارغ بھی ہو گئے تھے ملک معراج خالد تو عبوری وزیر اعظم بھی بنے، وہ یوں درویش صفت تھے اور کئی یادیں چھوڑ کر گئے ہیں، دوسرے انکل بعد میں واپس آگئے ایک پیچھے رہے تو رہ ہی گئے ، بہر حال اس پس منظر کا ذکر ایک خاص مقصد کے تحت ہے کہ اب قیادت نوجوان بلاول بھٹو کو ملی ہے تو ان کے سامنے بھی انکلوں کی بھاری تعداد ہے کہ وہ خود ابھی 28سال کے ہوئے ہیں، تاہم ان کو اپنی والدہ کی طرح انکلوں کے حوالے سے مزاحمت کا شکوہ نہیں ہوا کہ سبھی انکلوں نے ان کی قیادت تسلیم کر لی ہے، اور اب بلاول کے ساتھ مل کر پارٹی کو پھر سے بہتر پوزیشن میں لانے کے لئے کو شاں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بنیادی عہدیدار تبدیل کر کے تنظیم نو کا کام کیا اور اس بار 49واں یوم تاسیس لاہور میں منایا، تقریبات بلاول ہاؤس بحریہ ٹاؤن میں رکھی گئیں اور ان کو پورے سات روز تک پھیلا دیا گیا اس یوم تاسیس کو پارٹی کے احیا کا ذریعہ بنانے کے لئے جشن کی سی کیفیت پیدا کی گئی اور سندھ کے کارکنوں کا اجتماع اس روز رکھا گیا جب سندھی ٹوپی، اجرک ڈے تھا اور یہ دن یہاں بھی منایا گیا اور کنونشن بھی ہوا۔ اختتامی کنونشن سنٹرل پنجاب کا تھا جو منگل کو ہوا۔

اتنا پس منظر بیان کر کے ہی اصل خبر کی طرف آنا ٹھہرا کہ ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق سنٹرل پنجاب کے سابق صدر اور سابق ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی محترم میاں منظور وٹو نے بھی کنونشن میں تقریر کی انہوں نے اپنی تقریر میں شکایات کے دفتر کھول دیئے اور باقاعدہ شکوہ کیا کہ جن کارکنوں کے نام فہرستوں میں درج تھے مرکزی گیٹ پر موجود سیکیورٹی والوں نے ان کو اندر لان میں نہیں آنے دیا اور بہت سے وہ کارکن اندر بلا لئے گئے جن کے نام نہیں تھے۔ میاں منظور وٹو جو یوں بھی سات روزہ جشن کے دوران اجنبی اجنبی نظر آئے تھے یہ شکوہ کر کے رکے نہیں اور اپنے تحفظات کا اظہار کر کے کنونشن سے چلے گئے، رپورٹر کے مطابق بعد ازاں سنٹرل پنجاب کے جنرل سیکریٹری ندیم افضل چن نے کہا کہ میاں صاحب تو تقریر کر کے چلے گئے ہیں معلوم نہیں گیٹ پر کون سے سیکیورٹی والے ہیں جنہوں نے لوگوں کو روکا کہ اب تک تو ایسی کوئی شکایت نہیں آئی تھی۔

اس خبر سے ہمیں یاد آیا کہ ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب خود میاں منظور وٹو سنٹرل پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر تھے اور بلاول بھٹو لاہور آئے۔ گیٹ سے داخلے کا ایسا ہی مسئلہ تھا جو حقیقی تھا کہ میاں منظور وٹو کے متعین کردہ پارٹی ورکرز نے لاہور کے پرانے کارکنوں کو یہ کہہ کر اندر نہ آنے دیا کہ ان کے نام فہرست میں درج نہیں ہیں۔ یہ فہرست بھی صدر اور ان کے اپنے عملے کی تیار کی ہوئی تھی اور جو کارکن باہر تھے ان کا تعلق لاہور اور خصوصاً پرانے لاہور سے تھا اور میاں منظور وٹو کے متعین کارکن ضلع اوکاڑہ کے تھے جن کو روکا گیا ان حضرات نے باہر احتجاج کیا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو حق لینے کی تربیت تو بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو سے ملی تھی۔ پیپلزپارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل، مرکزی راہنما جہانگیر بدر (مرحوم) بھی وہاں موجود تھے۔ جب ان تک بات پہنچی تو وہ خود مرکزی دروازے تک چلے گئے تھے اور انہوں نے یہ گیٹ ہی کھلوا دیا کہ پارٹی کے مخلص کارکنوں کو نہ روکا جائے۔ یوں اس روز اوکاڑہ بمقابلہ لاہور بھی ہوا اور جھگڑا بھی ہو گیا تھا جسے بعض سینئر حضرات نے ختم کرایا اور پھر جب بلاول آئے تو ان کو کارکنوں کے ساتھ کھل کر بات بھی نہیں کرنے دی گئی تھی۔ لیکن اس سلسلہ کنونشن میں صورت حال مختلف تھی ایک تو پارٹی کے احیاء کا مسئلہ تھا۔ کارکن بھی قطار باندھ کر اندر آئے اور وہاں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ پھر آخری روز میاں منظور وٹو کو کس سے شکوہ ہوا یہ معلوم نہیں اور ندیم افضل چن کی بات کا مقصد بھی یہ تھا کہ سکیورٹی والے پڑتال ضرور کر رہے تھے اور ہاتھ پھیر کر کسی ہتھیار کا بھی اندازہ لگایا جا رہا تھا لیکن کسی کو روکا نہیں گیا کہ کارکنوں ہی کے دم سے تو رونق تھی اب معلوم نہیں شکوہ کیوں اور کیسا ہوا۔ میاں منظور وٹو کو وہاں پوری بات بتانا چاہئے تھی یوں روٹھ کر نہیں جانا چاہئے تھا کہ یہ مکافات عمل کی ایک شکل بھی ہے۔ اب معلوم نہیں میاں منظور وٹو نے دل میں کیا فیصلہ کر لیا ہے، کچھ دیر بعد سامنے بھی آ جائے گا۔*

مزید :

کالم -