خواتین سے باتیں کچھ کھٹی کچھ میٹھی

خواتین سے باتیں کچھ کھٹی کچھ میٹھی

  

 دسمبر کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ سردی محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی کوسوں دور ہے۔ کثافت اور آلودگی نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں میں وہ تازگی نہیں جو سال کے آخری مہینوں میں ہونے والی بارشوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ بچے، بوڑھے اور جوان جلدی عوارض اور بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ خواتین پریشان ہیں کہ ایسے حالات میں ان کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ گھر کی صفائی ستھرائی اور مکینوں کی دیکھ بھال میں وہ جُتی رہتی ہیں۔ گرمیوں کے کپڑے صندوقوں اور بڑے ٹرنکوں میں محفوظ کرتی ہیں اور موسم سرما کے پہناوے نکال کر انہیں دھوپ لگاتی ہیں، بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور باورچی خانے میں ان کھانوں پر زور دیتی ہیں جو موسم کا تقاضا ہوتے ہیں۔ تاہم اس بار سبھی لوگ مخمصے میں ہیں۔ موسم ان سے کھیل ہی ایسا کھیل رہا ہے۔ جس طرح رات کو سڑکوں پر کھمبوں کی روشنیاں دن کا سماں پیدا کر کے درختوں کے پتوں کے قدرتی عمل کو انگیخت کرتی ہیں اُسی طرح موسم کی بدنظمی انسانی اجسام اور حواس کو متاثر کرتی ہیں۔

ربیع الاول کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا ہے اور شادی بیاہ کی تقریبات کا آغاز ہے۔ گھروں میں گہما گہمی اور سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام۔ شادی گھروں میں تاریخ نہیں مل رہی۔ صبح و شام اُن کے ہال رونق لئے ہوئے ہیں۔ باہر پارکنگ کے مسائل اور اندر مہمانوں کی ہو ہاؤ کے ساتھ ان کے کھانے کے اہتمام کو پورا کرنے کا تردد۔ خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تقریبات میں ٹھہراؤ، سکون، بردباری، سادگی اور قناعت جگہ بنالے گی لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ چادر سے بڑھ کر پاؤں پسارے جا رہے ہیں۔ یہ فکر کہ ’لوگ کیا کہیں گے‘ ابھی تک ایک خاندانی المیہ بنا ہوا ہے خواہ خاندان امیر ہو یا غریب۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا اپنے روز مرہ امور میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، مسائل کو سلجھا رہی ہے، معاملات کو سدھار رہی ہے۔ اسراف اور فضول خرچی کے بجائے قناعت پسندی سے کام لیا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک وہی سوچ اور فکر کار فرما ہے جو ایام جاہلیت سے اب تک ہمارے ذہنوں پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے۔

سالگرہ کے فنکشن سے لے کر شادی کی تقریبات تک ہم اپنے آپ کو ذہنی اور مالی دونوں لحاظ سے اذیت دیتے ہیں۔ اس بات کی طرف ہم آتے نہیں کہ سادگی میں بھی حسن پیدا کیا جا سکتا ہے اور کم سے کم وسائل سے بھی مقصد حل ہو سکتا ہے۔ ضرورت ہے تو صرف سوچ بدلنے کی۔

اپنی خواتین سے میں ہمیشہ ایک ہی بات کہتی ہوں کہ وہ خود تعلیم حاصل کریں اور اپنی اولاد خصوصاً بچیوں کو تعلیم کے زیور سے ضرور آراستہ کریں۔ تعلیم شخصیت سے فرسودہ اور مضر اثرات اس طرح دور کرتی ہے جس طرح کسی اچھے باغیچے سے جھاڑ جھنکار دور کیا جاتا ہے۔

شادیوں کا سیزن ہے اس لئے شادیوں ہی کے موضوع پر بات کرتے ہیں۔ ہمیں نمود و نمائش، احساس برتری اور رشتہ داروں پر رعب جمانے سے قطعی طور پر پرہیز کرنا ہوگا۔ جتنے وسائل ہیں اتنے ہی میں رسوم نبھانی ہوں گی۔ دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے تبھی ہم مثالی بن سکتے ہیں اور مثال قائم کر سکتے ہیں بصورت دیگر ہم اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے جو ڈگر ہمارے ہمسایہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا اپنے ڈراموں اور سوپ اوپیرا کے ذریعے ہمارے سامنے آراستہ کر رہا ہے۔ اپنی تعلیم سے بے خبری ہمیں اس جال میں پھنسنے پر آمادہ کر رہی ہے جو جال بھارتی میڈیا ہمارے لئے پھیلا رہا ہے۔ بھارتی دانش ور اس نتیجے اور لائحہ عمل پر سنجیدگی سے عمل کر رہے ہیں کہ اب جنگ سے نہیں بلکہ حکمت عملی سے، بصری پراپیگنڈے کی صورت میں ہمیں نیچا دکھائیں گے۔ ازلی دشمن کی چالوں سے آگاہ رہنے کے لئے ہمیں اپنی تاریخ، اپنے تمدن اور اپنی تہذیب کی طرف رجوع کرنا ہوگا ورنہ خاکم بدہن ڈفلی ان کی ہوگی اور رقص ہم کریں گے اور ہم گم ہو جائیں اس دھول میں جو ہمارے رقص سے اٹھے گی۔

دھول اور گردوغبار ان دنوں فضا میں بڑھ رہا ہے۔ بادل دور دور تک دکھائی نہیں دیتے، بارشیں روٹھ گئی ہیں۔ کہتے ہیں قحط سالی کا اندیشہ ہے۔ بے شک اب دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اپنی بہنوں سے میری التجا ہے کہ وہ رب العزت کے حضور اپنا سر عجزو نیاز سے جھکا کر بارشوں کے لئے دعا کریں۔ وہ رب کریم اور غفور الرحیم ہے۔ یقیناً ہمارے دل کی آواز وہ سنے گا۔ وہی کرم کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

ربیع الاول کے اس متبرک مہینے میں رب کریم ہمیں بے پناہ خوشیاں عطا فرمائے۔ شادی بیاہ کی تقریبات دھوم دھام سے پھر شروع ہو چکی ہیں۔ شادی گھروں اور ہوٹلوں میں مسرتوں کے لمحے بتائے جا رہے ہیں۔ دولہا دولہن تو خوش ہوتے ہی ہیں، اہل خانہ اور مہانوں کی خوشی بھی دیدنی ہوتی ہے۔ ایسے مواقع ہر نیک تمناؤں اور دعاؤں کی ضرورت سبھی کو ہوتی ہے اس لئے جس قدر ہو سکے رب عظیم کے حضور اس کی رحمت کے طلبگار رہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -