سیاحوں اور یاتریوں کو مقبوضہ وادی میں کوئی خطرہ نہیں، متحدہ مزاحمتی قیادت

سیاحوں اور یاتریوں کو مقبوضہ وادی میں کوئی خطرہ نہیں، متحدہ مزاحمتی قیادت

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل متحدہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ کشمیری عوام نے مقبوضہ وادی میں سیاحت اور امرناتھ یاترا کیلئے آنے والوں کی مشکل ترین حالات کے باوجود حفاظت اور خدمت کی ہے کیونکہ اسلام مسلمانوں کو مہمان نوازی کا درس دیتا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق متحدہ مزاحمتی قیادت نے سرینگر میں جاری اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سیاحوں اور یاتریوں کو اب بھی مقبوضہ وادی میں کسی قسم کا خطرہ درپیش نہیں ہوگا لہذا وہ خوف وڈر کے بغیر یہاں آئیں۔

مزاحمتی قیادت نے کہا کہ بھارت اور بیرون ممالک سے صدیوں سے سیاح مقبوضہ وادی کے قدرتی حسن کا نظارہ کرنے کیلئے آتے رہے ہیں اور کشمیریوں کی یہ تاریخ ہے کہ انہوں نے سخت اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مہمانوں کو آنکھوں پر بٹھایا اوران کی مہمان نوازی کی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ 2008میں جب ہند و انتہا پسندوں نے جموں میں مقبوضہ وادی کی اقتصادی ناکہ بند ی کی اور وادی کو خوراک ، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی ترسیل روک دی تھی اس وقت بھی کشمیریوں نے یہاں موجود سیاحوں اور یاتریوں کی مہمان نوازی کی جبکہ 2014کے سیلاب کے وقت بھی مقبوضہ وادی کے نوجوان بھارتی اور دیگر سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچاتے رہے ۔ بیان میں سیاحوں پر زور دیا گیا کہ وہ جب چائیں مقبوضہ وادی میں آکر کشمیریوں کی روایتی مہمان نوازی کا مشاہدہ کریں۔

مزید :

عالمی منظر -