موسمی تغیرات کی وجہ سے زرعی ترقی کا عمل متاثر ہورہا ہے،زرعی ماہرین

موسمی تغیرات کی وجہ سے زرعی ترقی کا عمل متاثر ہورہا ہے،زرعی ماہرین

  

راولپنڈی(اے پی پی )زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے مجموعی زرعی ترقی کا عمل متاثر ہورہا ہے کیونکہ کاشتکاروں کواپنی کاشتہ فصلوں کو سخت گرمی یا سردی کے علاوہ بارشوں کے نقصانات سے بچانے کے لئے اضافی اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں۔ماہرین نے کہاکہ فصلوں کے ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کی نوعیت (Nature) اور شدت (Intensity) میں نمایاں فرق پیدا ہوچکا ہے۔مختلف فصلوں میں نئی جڑی بوٹیاں،وائرسز اورضرررساں کیڑے مشاہدہ میں آئے ہیں کیونکہ ان کی اقسام کی تبدیلی کے علاوہ ان کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔حالیہ موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر زرعی سفارشات میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ مختلف فصلوں کے وقت اورطریقہ کاشت کے علاوہ آبپاشی کے متعلق سفارشات بہت بدل چکی ہیں۔ترقی پسند کاشتکاروں نے موسمی تغیرات و تبدیلیوں کے باعث زرعی سائنسدانوں کی متعارف کردہ جدیدسفارشات اپنے طور پراختیار کرلی ہیں ۔

مگر چھوٹے کاشتکار ان سفارشات پر عمل پیرا نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے ان کی فی ایکڑ پیداوارمیں کمی نوٹ کی گئی ہے ۔مستقبل میں زرعی سائنسدانوں کو بدلتے موسمی حالات کو پیش نظر رکھ کر جامع حکمت عملی کے تحت تمام تر تحقیقی سرگرمیوں کو تیز کرنااز حد ضروری ہے۔ماہرین نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ طاس کے معاہدے کی صریح خلاف ورزیوں،پانی روکنے اورپاور پمپنگ کے ذریعے پاکستانی دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے جیسی بھارت کی آبی دہشت گردی پر کڑی نظررکھی جائے اور بین الاقوامی فورمز پر بروقت پاکستانی موقف اجاگر کیا جائے اور بھارت کو پانی کی چوری سے روکا جائے۔ بھارت سے زرعی اجناس کی درآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔

مزید :

کامرس -