پانامہ کیس ،کمیشن کے قیام کیلئے فریقین سے جواب طلب ،وزیراعظم کو وضاحت دینا ہوگی :سپریم کورٹ

پانامہ کیس ،کمیشن کے قیام کیلئے فریقین سے جواب طلب ،وزیراعظم کو وضاحت دینا ...

  

اسلام آباد(آئی این پی، آن لائن ،اے این این) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فریقین سے کمیشن کے قیام کیلئے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت (کل)9 دسمبر کو صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی جبکہ سپریم کورٹ نے سپیکر کے پاس وزیر اعظم کیخلاف ریفرنس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ مریم نواز کی کفالت کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا‘ ہم نے مریم نواز کا ایڈریس دیکھ لیا، ان کے اخراجات اور آمدن کہاں سے آتی ہے وہ دیکھنا ہے ‘ کیا جاتی امرا کی زمین مریم نواز کے نام ہے‘ وزیراعظم نے مریم نواز کیلئے زمین کب خریدی‘ کیارقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی جو بیٹی نے والد کو واپس کردی تھی‘مل خسارے میں تھی اور فروخت کی تو واجبات کیسے ادا کیے، اقساط کی رقم کس نے فراہم کی؟‘عدالت کے سامنے بھاری بھرکم معاملات ہیں ، ہم ٹھوس بنیادوں پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں، کئی دستاویزات ہیں جن کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے، دونوں فریقین کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزی شواہد میں خلا ہے‘ثبوت اورشواہد ریکارڈ کرنا ہمارا کام نہیں ہے‘سیاست میں انتظارہوسکتا ہے لیکن انصاف پر سمجھوتا نہیں کر سکتے‘حاکم وقت عدالت میں لایا گیا جو اسلامی تاریخ میں روشن مثال ہے‘ دستاویزات کاجائزہ لینے کے لیے کمیشن بنانا پڑسکتا ہے، کمیشن بنانے سے متعلق تمام آپشن کھلے ہیں‘کمیشن تحریک انصاف کے الزامات پر بنایا جائے گا جو جج پر مشتمل ہوگا، کمیشن میں فریقین کو اپنا موقف بیان کرنے کا بھرپور موقع ملے گا، اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں ہی پیش کی جائے گی۔ بدھ کو دوسرے روز بھی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس عظمت سعید شیخ ‘ جسٹس اعجاز الحسن ‘امیر ہانی مسلم پر مشتمل 5 رکنی بنچ نے پانامہ کیس کے حوالے سے سماعت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جاتی امرا میں مریم نواز کا پتہ لکھا ہے لیکن وہ قانونی طور پر اپنے شوہر کے زیر کفالت ہیں، کیا باپ کے ساتھ رہنے سے بیٹی زیر کفالت ہو جاتی ہے، جاتی امرا میں تو شریف خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پزیر ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے سماعت شروع ہونے پر وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے بیٹی کے لیے زمین کس سال خریدی ، وکیل کا کہنا تھاکہ زمین نو اپریل 2011 میں خریدی گئی ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مریم نواز نے زمین کی رقم کب ادا کی ہمیں بھی پتہ ہے کہ اس ٹرانزکشن میں ہوا کیا ہے ، عام طور پر سب ایسا ہی کرتے ہیں ، وزیر اعظم نے رقم تحفہ میں بیٹی کو دی ، مریم نواز نے یہ رقم زمین کی قیمت میں واپس کردی ،زیر کفالت ہونے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ،وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز جاتی امرا میں رہتی ہیں ،جاتی امرا میں خاندان کے اور لوگ بھی رہتے ہیں ،جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ کیا جاتی امرا کی زمین مریم نواز کے نام ہے جس پر وکیل نے کہا کہ نعیم بخاری نے واجبات اور اثاثوں کو آپس میں ملا دیا ۔ جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے رہن سہن کے اخراجات کہاں سے آتے ہیں ، وکیل نے بتایا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن ہے ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ ریٹرن کے مطابق مریم نواز کی انکم ٹیکس آمدن صفر تھی ، وکیل نے کہا کہ مریم نواز اگر والد کے گھر میں رہتی ہے تو کفالت میں نہیں آتی ،مریم نواز قانونی طور پر اپنے شوہر کی کفالت میں ہیں ،مریم نواز کی باقاعدگی سے آمدن زرعی زمین سے آتی ہے ۔ جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن بتا دیں ، وکیل کا کہنا تھا کہ اس سال مریم نواز کی زرعی آمدن 21 لاکھ 68426 روپے تھی ،جسٹس عظمت نے کہا کہ مریم نواز کے سفری اخراجات تو 35 لاکھ روپے تھے ، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کوئی ملازمت نہیں کرتیں ، میں جو سمجھا ہوں کہ مریم نواز کی زرعی آمدن کے علاوہ اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ۔ وکیل نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی زرعی زمین 160 کینال ہے ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت زیر کفالت کے معاملے کو دیکھ رہی ہے ۔ وکیل کا کہنا تھاکہ ہم نے کفالت کے ایشو پر دلائل دیئے ہیں ، مریم اپنے والد کی کفالت میں نہیں ہے ۔ نواز شریف کو مریم نواز کے اثاثے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،آف شور کمپنیوں کی مریم نواز ٹرسٹی ہیں ،حسین نواز آف شور کمپنیوں کے بینی فشل مالک ہیں ،سلمان اسلم بٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ دبئی مل کے واجبات 36 ملین درہم تھے جب کہ ان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 2 ملین بجلی کے واجبات تھے، بجلی کے واجبات قسطوں میں ادا کیے گئے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ مل خسارے میں تھی اور فروخت کی تو واجبات کیسے ادا کیے، اقساط کی رقم کس نے فراہم کی؟، سلمان بٹ نے جواب دیا کہ واجبات کی رقم طارق شفیع نے ادا کی جس پر عدالت نے ریکارڈ طلب کیا تو وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ 40 سال پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں، دبئی کے بینک 5 سال سے زیادہ کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ میاں شریف ہر کام اپنی مرضی سے کیا کرتے تھے، ہوسکتا ہے دادا اور پوتے کے کاروباری معاملات کا نوازشریف کوعلم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز کی کوئی قانونی اور مصدقہ حیثیت نہیں ہے، میرے دفتر میں پاناما پیپرز کی درجنوں فائلیں پڑی ہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ کوومبرکمپنی اورعمران خان کے وکیل کے جمع کردہ دستاویزات سے انکاری ہیں؟ جس پر سلمان بٹ نے جواب دیا کہ ان دستاویزات پر بعد میں بحث کروں گا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو پریکٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگرجج سوال کرے تو اس کاجواب دیاجائے اور یہ کہتے ہیں کہ بعد میں بحث کروں گا۔سلمان بٹ نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق برطانوی قانون کافی لچکدار ہے، برطانوی قوانین کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ کو رجسٹرڈ کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے متعلق کمپنی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ موزیک فونسیکا کو ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں بتایا گیا تھا؟، جس کھوسہ نے استفسار کیا کہ اگر زبانی ڈیڈ دستاویزات کے برعکس ہو تو اس کی کیا حیثیت ہو گی، دستاویزات کے مطابق مریم کچھ کمپنیوں کی بینی فشری ہیں۔ سلمان بٹ نے جواب دیا کہ برطانوی قانون کے مطابق ایسی ٹرسٹ ڈیڈ کی اجازت ہے، ٹرسٹ ڈیڈ زبانی کلامی بھی ہوسکتی ہے، آف شور کمپنی کا ٹیکس نہیں دینا پڑتا، اگر ٹیکس اداکرنا ہوتا تو پھر شاید یہ آف شور کمپنیاں ہی نہ ہوتیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ثبوت اورشواہد ریکارڈ کرنا ہمارا کام نہیں ہے، دستاویزات کاجائزہ لینے کے لیے کمیشن بنانا پڑسکتا ہے، کمیشن بنانے سے متعلق تمام آپشن کھلے ہیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقاریر میں قطری دستاویزات کا ذکر نہیں کیا جس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان سیاسی تھا عدالتی نہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ عوام کے سامنے دیئے گئے بیان کو عدالت میں بھی ثابت کیا جائے۔وزیراعظم کے وکیل نے کہا حسین نواز آف شور کمپنی کے بینی فشری اور مریم ٹرسٹی ہیں، یہی معاملہ اسپیکر کے سامنے اٹھایا گیا جو خارج ہوا۔ سپریم کورٹ نے اسپیکر کے پاس وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ سلمان بٹ نے موقف اختیار کیا کہ مریم نواز وزیراعظم کے زیر کفالت نہیں ہیں اس لئے وزیر اعظم مریم نواز کے گوشوارے ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ، اسپیکر کی کارروائی رپورٹ داخل کی؟، معاملہ الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ میں زیرالتوا ہے تو 184/3 کے تحت مداخلت نہ کریں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ جو مقدمات زیر التوا ہیں ان کی تفصیلات فراہم کر دوں گا جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ مقدمات عدالتوں میں زیر التو ہیں تو ہم ان کی سماعت نہ کریں۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے سامنے بھاری بھرکم معاملات ہیں لیکن ہم ٹھوس بنیادوں پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں، کئی دستاویزات ہیں جن کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے، دونوں فریقین کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزی شواہد میں خلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرہمیں کمیشن ہی بناناہے تو وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں، 2 درخواستوں میں پہلے ہی کمیشن کی تشکیل کا کہا گیا ہے، اپنے موکلین سے پوچھ کر بتائیں کہ کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ کریں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ دستاویزات کا پوچھا جائے توکہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ سے حاصل کیں، چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران وزیراعظم کے وکیل شیخ اکرم نے بولنے کی کوشش کی تو جسٹس انور ظہیر جمالی نے انہیں کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہربات پرلقمہ دیں، کیا آپ سمجھتے ہیں تمام نکات اس سمری کے انداز میں سن کر فیصلہ کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن تحریک انصاف کے الزامات پر بنایا جائے گا جو ججز پر مشتمل ہوگا، کمیشن میں فریقین کو اپنا موقف فراہم کرنے کا بھرپور موقع ملے گا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کو بھی پیش کی جائے گی۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس کیس کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق کر دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سپیکر کا فورم استعمال کر چکی ہے، عدالت 184/3 میں پانامالیکس کو دیکھ رہی ہے جب کہ فوجداری مقدمات میں شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا عدالت اس کیس پیپرز کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل قرار دے سکتی ہے؟، سیاست میں انتظارہوسکتا ہے لیکن انصاف پر سمجھوتا نہیں کرسکتے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ حاکم وقت عدالت میں لایا گیا جو اسلامی تاریخ میں روشن مثال ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فریقین سے کمیشن کے قیام کے حوالے سے تجویز طلب کی جس پر تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے کمیشن پر مشاورت کیلئے ایک دن کی مہلت طلب کر لی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ہمیں کمیشن پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن کمیشن نے جن اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کرنی ہیں ہمیں ان پر اعتراض ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ پر ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کا دائرہ کار محدود ہو گا ۔ کمیشن سپریم کورٹ کے ایک جج پر مشتمل ہو گا جسے پورا اختیار دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کو تمام اداروں کی معاونت حاصل ہو گی۔ کمیشن کسی بھی سرکاری ادارے یا پرائیویٹ ادارے کو بلا کر تحقیقات کرنے کا مجاز ہو گا۔ انکوائری کمیشن درخواستوں میں عائد کئے گئے الزامات کی تحقیقات کرے گا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ کمیشن بنا تو ا سکے ٹی او آرز کیا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لئے تھوڑا وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ آرام سے مشورہ کریں جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 9 دسمبر کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔

سپریم کورٹ

مزید :

علاقائی -