ہمیں فلسفہ خودی کو اپنا کر اقبال کا شاہین بننا چاہئے ،عدنان ناصر

ہمیں فلسفہ خودی کو اپنا کر اقبال کا شاہین بننا چاہئے ،عدنان ناصر

  

جدہ(اکرم اسد)ہمارے آباؤ اجداد نے اس کرۂ ارض کے باسیوں کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کیا۔ ریاضی، کیمیا، طب اور طبیعات جیسے علوم سے آگہی عطا کی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونا سکھایا، لیکن آج ہم پسماندگی کی طرف جا رہے ہیں، اگر پاکستانی نوجوان شمع علم کو دوبارہ تھام لیں تو اپنے اسلاف کی اعلیٰ روایات کو زندہ کرسکتے ہیں، یہی اقبال کا پیغام ہے۔ ان کی شاعری کا مقصد قوم کی بیداری، عظمت رفتہ کا حصول اور فلاح ہے۔پاکستان انٹرنیشنل اسکول ایک ایسی معیاری درسگاہ ہے جس کی ذمہ داری طلباء کو محض نصابی تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ ان کی مکمل تربیت کرنا اور انہیں معاشرے کا فعال، کامیاب اور مثالی رکن بنانا بھی ہے۔ اس اسکول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں نصابی تربیت کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی یکساں توجہ دی جاتی ہے۔ طلباء و طالبات کو ایسے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں جن سے ان کی مکمل ذہنی نشوونما اور شخصیت کی بھرپور تعمیر ممکن ہوسکے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرسکیں اور بجاطور پر ملک و قوم کا سرمایہ افتخار کہلانے کے قابل ہوسکیں۔ معماران مستقبل کی ملی تربیت کا فریضہ انجام دینے کی غرض سے یوم اقبال کے موقع پر پاکستان انٹرنیشنل اسکول، انگلش سیکشن کے آڈیٹوریم میں ایک خصوصی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس کا اہم مقصد طلباء و طالبات کو علامہ اقبالؒ کی شخصیت، ان کے فلسفے، شاعری اور کار ہائے نمایاں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ بعدازاں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا جس کے بعد ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘، ’’پھر چراغ لالہ سے‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ جیسی نظموں کے علاوہ علامہ محمد اقبالؒ کے دیگر اشعار پر مبنی خوبصورت ٹیبلوز پیش کئے گئے اور مقابلہ بیت بازی بھی منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے اپنی تقاریر میں کہا کہ علامہ اقبالؒ ہی وہ ہستی تھے جنہوں نے سب سے پہلے برصغیر میں ایک آزاد مسلم مملکت کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے اشعار میں جو پند و نصائح کیں، ان پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اقبالؒ قوم پرستی کے خلاف تھے۔ وہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی امت مانتے تھے۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کا نظریہ پیش کیا اور بعد میں یہی نظریہ قیام پاکستان کا محرک بنا۔اسکول کے پرنسپل عدنان ناصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبالؒ ایک شخص نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔ یوم اقبالؒ ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر اس دن کو منانا ہی کافی نہیں بلکہ اقبالؒ کے افکار کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے، ہمیں فلسف�ۂ خودی کو اپنا کر اقبالؒ کا شاہین بننا چاہئے۔ اس مادر علمی میں پروان چڑھنے والی نسل نو کا ہر فرد کامیاب انسان اور محب وطن پاکستانی بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ آپ اپنے اہداف بلند رکھیں اور انہیں اپنی محنت، یقین اور اعتماد سے حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ نہ صرف آپ کی مادر علمی کو بلکہ آپ کے والدین اور پوری قوم کو آپ پر فخر ہو۔ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔

مزید :

علاقائی -