دنیا بھرمیں اب تک 172طیارے گم یا حادثات کا شکار ہو چکے

دنیا بھرمیں اب تک 172طیارے گم یا حادثات کا شکار ہو چکے

  

 لا ہور(رپورٹ، محمد یو نس با ٹھ)دنیا کی فضائی تاریخ میں اب تک172طیارے دوران پرواز پر اسرار طور پر گم یا حا د ثا ت کا شکا ر ہو چکے ہیں جن میں سا بق صدر جنر ل ضیاء ا لحق اورپولینڈ کے صدر سمیت 4724سے زا ئد ا فراد ہلا ک ہو چکے ہیں تا ہم اس کے علاوہ دنیا کی فضائی تاریخ میں اب تک متعددطیارے دوران پرواز پر اسرار طور پر گم ہو چکے ہیں جن کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔22دسمبر1910کو کیکس(فرانس) سے ڈوور(انگلینڈ) جانے والی ایک نجی ائر لائن کی پروزا پراسرا طور پر لاپتہ ہو گئی تھی جس کے بارے میں اس وقت خیال ظاہر کیا گیا کہ وہ بحراوقیانوس میں گر کر تباہ ہوئی تا ہم اس کی باقیات کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔فضائی تاریخ میں اب تک161ایسے پراسرار حادثے سامنے آئے ہیں جن میں دوران پرواز طیارے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے ہیں لیکن ان جہازوں کی باقیات نہیں مل سکی ہیں۔خیال ظاہر کیا جا رہا ہے ک یہ بدقسمت طیارے برمودہ ٹرائی اینگل کے قریب محو پرواز تھے جہاں کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اس پراسرا رمقام پر متعدد بحری جہاز‘ کشتیاں اور ہوائی جہاز غائب ہو چکے ہیں۔دنیا کے بدترین فضائی حادثوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ3جون2012کو وانا ائر کاMD-83جیٹ طیارہ نائجیریا کے سب سے بڑے شہر لاگوس کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام153افراد مارے گئے۔20اپریل2012کو بھوجا ائر کا بوئنگ طیارہ737پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب خراب موسم کے دوران لینڈنگ کی کوشش کے دوران حادثہ کا شکار ہوا جس کے باعث اس پر سوار تمام127افراد مارے گئے۔9جنوری2011کو ایران ائر کا بوئنگ727ملک کے شمال مغرب میں ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ کر تباہ ہو گیا ۔اس حادثہ میں77افراد ہلاک ہوئے۔12مئی2010کو افریقہ ائر ویز کا طیارہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی طرف جاتے ہوئے جنوبی افریقہ کے صحرا میں گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں کل103افراد مارے گئے تھے۔10اپریل2010کو پولینڈ کے صدر کا طیارہ روس کے ایک مغربی شہر کے قریب ایک حادثے کا شکار ہوا جس کے نتیجہ میں اعلیٰ حکام سمیت96افراد ہلاک ہوئے۔30جون2009کو یمینیہ ائر بس310طیارہ بحر ہند میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے باعث اس میں سوار تمام153افراد ہلاک ہو گئے۔یکم جون2009 کو ائر فرانس کا طیارہ اے330خراب موسم اور طوفان کی وجہ سے بحر اوقیا نوس میں گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثہ میں کل228افراد ہلاک ہوئے۔19فروری2003کو ایران کے پاسداران انقلاب کا ایک فوجی طیارہ پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجہ میں275افراد ہلاک ہوئے۔25مئی2002کو چائنا ائر لائن کا بوئنگ747طیارہ ہوا میں ہی کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا اورآبنائے تائیوان میں گرا۔اس پر سوار225مسافر اور عملہ کے ارکان مارے گئے۔12نومبر2001کو امریکن ائر لائن کا طیارہ اے300 جان ایف کینیڈی ائر پورٹ سے ٹیک آف کرنے کے فوری بعد حادثے کا شکار ہوا اور اس حادثہ میں265افراد مارے گئے۔31اکتوبر1999کو مصر ائر لائنز کا بوئنگ طیارہ767 حادثے کا شکار ہوا اور وجہ شریک پائلیٹ کی غلطی قرار دی گئی۔اس حادثہ میں217افراد ہلاک ہوئے۔2ستمبر1998کو سوئس ائر کا جہاز ایم ڈی11حادثے کا شکار ہوا۔اس حادثہ میں229افراد مارے گئے۔16فروری1998کو چائنا ائر لائن کا جہاز تائیوان کے تائی پے ائر پورٹ پر لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہو گیا جس میں203افراد ہلاک ہوئے۔12نومبر1996کو سعودی بوئنگ747نئی دہلی کے قریب قازقستان کے کارگو ہوائی جہاز سے ٹکرا گیا۔اس حادثہ میں دونوں جہازوں پر سوار349افراد مارے گئے۔12اگست1985کو جاپان ائر کا بوئنگ747فنی خرابی کے باعث پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجہ میں520افراد ہلاک ہو گئے۔اسے آج بھی دنیا کا بدترین سنگل فضائی حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔19اگست1980کو سعودی ٹری اسٹار نے دارالحکومت ریاض میں ہنگامی لینڈنگ کی اور آگ کی لپیٹ میں آ گیا جس کے نتیجہ میں301افراد ہلاک ہو گئے۔ یکم جنوری1978کو ائر انڈیا کا طیارہ747ممبئی سے ٹیک آف کرتے ہوئے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا اور213افراد مارے گئے۔27مارچ1977کو جزائر کناری کے رن وے پر رائل ڈچ ائر لائن کے474اور پین امریکن کے747طیاروں کے مابین ٹکر ہوئی۔اس حادثے میں583افراد ہلاک ہوئے۔اس حادثہ کو2طیاروں کے مابین بد ترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔ تین سا ل قبل ملائشیا کاایک طیارہ عملہ کے 6ارکان اور162مسافروں سمیت لا پتہ ہو گیا ۔اس مسافر طیارے کا نمبرQZ8501تھا۔یہ طیارہ28دسمبر کو مقامی وقت صبح6بجے سورابیا ائر پورٹ سے اڑا اور سنگا پور جا رہا تھا کہ موسم کی خرابی کی اطلاع کے بعد لا پتہ ہو گیا۔اس سے قبل اسی سال2مارچ کو بھی اسی ائر لائن کا طیارہ370عملہ کے ارکان اور239مسافروں سمیت لا پتہ ہو گیا تھا جس کا ملبہ بھی نہیں مل سکا تھا پاکستان میں اب تک قومی ایئرلائن اور نجی کمپنیوں کے متعدد طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں20مئی 1965ء پاکستان ایئر لائن (پی آئی اے) کا بوئنگ 707 اپنی افتتاحی پرواز کے دوران مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں 124 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 6اگست، 1970ء حادثے کا شکار ہونے والا یہ فوکر طیارہ ایف 27 ٹربو پروپ ایئر کرافٹ تھا۔ اس بدقمست طیارے نے ابھی اسلام آباد ایئرپورٹ سے ٹیک آف ہی کیا تھا کہ اچانک آسمانی بجلی گرنے سے گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کا شکار ہونے والے اس طیارے میں 30 افراد سوار تھے جو تمام ہلاک ہو گئے۔8 دسمبر1972ء پی آئی اے کا یہ فوکر ایف 27 طیارہ، آٹھ دسمبر 1972ء کو راولپنڈی میں گر کر تباہ ہوا۔ اس طیارے میں 26 افراد سوار تھے۔ 26نومبر 1979کو حادثے کا شکار ہونے والا یہ طیارہ بوئنگ 707ء پاکستانی حجاج کرام کو سعودی عرب سے واپس لے کر آ رہا تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس طیارے میں 156 افراد سوار تھے۔ 23اکتوبر 1986ء کو حادثے کا شکار ہونے والا یہ طیارہ بھی فوکر ایف 27 تھا۔ اس طیارے میں 54 افراد سوار تھے تاہم حادثے کے باعث 13 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔17اگست 1988کا دن پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ اس دن بہاولپور کے قریب امریکی ساختہ ہرکولیس سی 130 ملٹری ایئر کرافٹ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس طیارہ حادثہ میں پاکستان کے سابق حکمران اور امریکی سفیر سمیت 30 افراد سوار تھے۔25اگست 1989ء کوحادثے کا شکار ہونے والا پی آئی اے کا یہ فوکر طیارہ گلگت سے 54 مسافروں کو لے کر آ رہا تھا کہ اچانک شمالی علاقوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس طیارے کا ملبہ آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ 28ستمبر 1992ء کوپاکستان ایئر لائن کا یہ طیارہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں گر کر تباہ ہوا۔ ائیر بس اے 300 میں 167 مسافر سوار تھے جو تمام ہلاک ہوگئے۔ 10فروری 2006ء کوحادثے کا شکار ہونے والا یہ طیارہ بھی فوکر ایف 27 تھا۔ پی آئی اے کے اس طیارے میں 41 مسافر اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے۔ اس طیارے نے ملتان ایئرپورٹ سے ابھی اڑان بھری تھی کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا۔ 28جولائی 2010 کو پیش آنے والے اس حادثے کا شکار پاکستان میں رونما ہونے والے بڑے فضائی حادثات میں ہوتا ہے۔ نجی کمپنی کا یہ طیارہ کراچی سے اسلام آباد جا رہا تھا کہ فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ اس طیارے میں 152 مسافر سوار تھے۔ 20اپریل 2012ء نجی کمپنی بھوجا ایئر کا ایئر بس 737 کا یہ بدقسمت طیارہ کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا کہ اچانک موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ اس طیارے میں عملے سمیت 130 مسافر سوار تھے۔گز شتہ روز بھی پی آئی اے کا ایک بد قسمت طیا ر ہ چترا ل سے اسلا م آبا د جا تے ہو ئے گر کر تبا ہ ہو گیا ہے جس میں آخر ی اطلا ع آنے تک 48افراد کے ہلا ک ہو نے کی تصدیق ہو چکی تھی زرا ئع کے مطا بق پا کستا ن میں اس طر ح کے اب تک پند رہ حا د ثا ت پیش آچکے ہیں

172طیارے

مزید :

صفحہ اول -