نعت خواں جنیدجمشید3ستمبر1964ء کوکراچی میں پیدا ہوئے

نعت خواں جنیدجمشید3ستمبر1964ء کوکراچی میں پیدا ہوئے
 نعت خواں جنیدجمشید3ستمبر1964ء کوکراچی میں پیدا ہوئے

  

لاہور(فلم رپورٹر) جنیدجمشید 3ستمبر 1964 کوکراچی میں پیدا ہوئے جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ لاہور آگئے اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے ڈگری حاصل کی،وہ کچھ عرصہ پاکستان ایئرفورس میں بھی کام کرتے رہے، دوران تعلیم ہی انہیں میوزک کا شوق پیداہوا اور انہوں چنددوستوں کے ہمراہ مل کر گلوکاری شروع کردی جس کے بعد انہوں نے1986میں اپنے دوست کی بورڈ پلیئر روحیل حیات سے ملک میوزیکل بینڈ’’وائٹل سائنز‘‘کی بنیاد رکھی اور اسی دوران پی ٹی وی کے پروڈیوسر شعیب منصور نے ان سے رابطہ کیا اور ان کے پہلے البم’’وائٹل سائنز‘‘کے میوزک کی تیاری میں ان کی معاونت کی۔جنید جمشید کے پہلے البم کے ویسے تو سارے ہی گانے مشہور ہوئے کیونکہ اس زمانے میں پاکستان میں پاپ میوزک کافی مقبول تھا لیکن ایک ملی نغمہ جس نے دھوم مچادی وہ تھا’’دل دل پاکستان‘‘۔ جنید جمشیدکی شہرت اس وقت گلی گلی پہنچ گئی جب شعیب منصور نے ’’دل دل پاکستان‘‘ کی وڈیو بناکر پی ٹی وی سے نشر کی کیونکہ اس زمانے میں صرف ایک ہی ٹی وی چینل تھا لہذہ جنید جمشید راتوں رات مشہور ہوگئے ۔ان کے بینڈ میں سلمان احمد تھے جو اس گٹارسٹ تھے جبکہ ان کے ہمراہ برائن بھی تھے، تین لوگوں کے گروپ پر مشتمل ’’وائٹل سائنز‘‘ نے پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں تہلکہ مچادیا۔انہوں نے چار سولوالبم ریلیز کئے جبکہ بہت سے سنگل گانے بھی ریلیز کئے ۔ان کے گائے ہوئے تمام گانوں نے مقبولیت حاصل کی۔جنید جمشید نے2003میں میوزک کم کرتے ہوئے مذہبی حلقوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا جس کے بعد ان کی دلچسپی مذہب میں بہت زیادہ بڑھ گئی اور بالاخر2004ء میں انہوں نے تبلیغی جماعت شمولیت اختیار کرتے ہوئے میوزک انڈسٹری اور گلوکاری کا خیرآباد کہہ دیا جس کے بعد انہوں نے خود کو اسلام کی خدمت کے وقف کرتے ہوئے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کردیا ،جلد ہی ان کا شمار ملک کے معروف عالم دین میں ہونے لگا۔ گلوکاری چھوڑنے کے بعد انہوں نے نعت خوانی شروع کردی تھی۔2007ء میں جنید جمشید کو ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ جس میں ان کے بارہ سے زیادہ البم ریلیز ہوئے ۔جنیدجمشید کی پڑھی ہوئی نعتیں بھی بہت مقبول ہوئیں۔انہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک میں تبلیغی دورے کئے۔گزشتہ دنوں وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ تبلیغی دورہ پر چترال گئے تھے جہاں سے واپسی پر ان کے جہاز کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

جنیدجمشید

مزید :

صفحہ اول -