باڑہ ،خیبر ایجنسی کی ترقیاتی سکیموں میں کرپشن عروج پر

باڑہ ،خیبر ایجنسی کی ترقیاتی سکیموں میں کرپشن عروج پر

  

باڑہ (حسین ٓفریدی سے) تحصیل باڑہ خیبرایجنسی کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں بڑے اخبارات اور ٹی وی چینل کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کوبھی چپ رہنے کے لیے باقاعدہ حصہ دیا جاتا ہے ۔ہر ٹینڈر میں 14 فیصد ڈیپارٹمنٹ کو دینا لازم تھا اب محکمہ پبلک ہیلتھ اور بلڈنگ والوں کوہر ٹینڈرمیں کروڑوں کی ایک سکیم اپنے منظورنظر ٹھیکدار کو دینا کا ختیار بھی مل گیا۔ ٹھیکداروں کو فری ہینڈ جو جس طرح چاہے کام کریں کوئی پوچھنے والا نہیں قانون اورمیرٹ کی دھجیاں آڑادی گئی ۔زرائع نے بتایا کہ حال ہی میں وادی تیراہ میں تحصیل کے حدوود میں2 کروڑ ، روپے سے زیادہ کاریسٹ ہاوس بنانے کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے منظورنظرٹھیکدار کودیا گیا ۔ایکسین بلڈنگ نے بات کرنے سے انکار کیا جبکہ ایس ڈی آو طارق عثمان خٹک (بلڈنگ) باڑہ سب ڈیوژن نے ٹینڈر سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نہیں یہ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے ایما پر دیا گیا ہے تاکہ کام کو تیز کیا جاسکے جبکہ یہ ریسٹ ہاوس 5 سال پہلے کاغذات میں بن چکا ہے جس پر کروڑوں روپے کے فنڈز وصول کر کے صرف ڈی پی سی تک کام ہوچکا ہے لیکن تاحال کوئی محکمہ اس کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں اور نہ پولیٹیکل انتظامیہ کے پاس کوئی معلومات موجود ہے کہ فنڈز کہاں سے ائے اور کس کے زرئعے خرچ ہوئے لیکن نامکمل بلڈنگ وادی تیراہ میدان میں موجود ہے ۔ایجنسی پلاننگ افیسر نے بتایا کہ ہم نے اپنی مانٹرنگ ٹیم بنائی جس نے معائنہ کرنے کے بعد رپورٹ دی کہ وادی تیراہ میں ایک نامکمل شدہ کمپاونڈ بغیر چت کے موجود ہے لیکن ہمارے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ یہ بلڈنگ کس وقت اور کس کے زیر نگرانی تعمیر ہوا ہے ۔ زرائع نے بتایا کہ خیبرایجنسی میں ٹینڈرز کا طریقہ شفاف نہیں جس میں قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح خیبر ایجنسی میں غیر معیاری کام ہورہاہے ۔زرائع نے مزید بتایا کہ 6 ماہ قبل مستک کے مقام پر3 کروڑ ، روپے سے تعمیر ہونے والا پل کا افتتاح ہونے کے بعد پہلی بارش کے ساتھ بہہ گیا جس کی آج تک کوئی انکوئری نہیں ہوئی اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی بلکہ اس کے لیے مزید 70 لاکھ روپے منظور کیے گئے تا اس کو دبارہ تعمیر کیا جاسکے۔ خیبرایجنسی سے تقریباً 84 فرمز رجسٹرڈ جنہوں نے اپنا ایسوسی ایشن بنایا ہوا ہے ٹینڈر سے پہلے یہ سارے ٹھکیدار اپس میں مل کر رنگ ڈالتے ہے اور پھر خانہ پوری کے لیے4 یا 5 ٹھکیدار افسران کے سامنے اپنے ریٹ لکھ دیتے ہیں جس کافیصلہ ایک یا دو ، دن پہلے ہوچکا ہوتاہے لیکن قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کاغذی کاروائی کی جاتی ہے زرئع نے بتایا کہ فاٹا کے تمام علاقوں میں یہ پریکٹس جاری ہے اگر کسی بھی تحقیقاتی ادارے نے ریکارڈ قبضہ میں لیا تو تما م حقائق سامنے آجائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -