’’ جعلساز پیسٹی سائیڈز کمپنیاں اور محکمہ زراعت ‘‘

’’ جعلساز پیسٹی سائیڈز کمپنیاں اور محکمہ زراعت ‘‘
’’ جعلساز پیسٹی سائیڈز کمپنیاں اور محکمہ زراعت ‘‘

  

پاکستان میں زراعت کو معیشت کے میدان میں ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے مگر یہ ہڈی روز بروز ٹیڑھی ہوتی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے اگر حکومت کی پالیسیوں اور زرعی اداروں کے کردار کو جانچا جائے تو انکی بدعنوانی اور تاخیری حربوں سے کاشتکار اورنجی زرعی اداروں کو شدید نقصان پہنچتا رہا ہے ۔دوسری جانب ملک میں زراعت میں تحقیق و پیداوار اور مارکیٹنگ میں نجی زرعی اداروں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے جنہوں نے بے پناہ مشکلات جھیل کر ملک میں اجناس کی فراوانی اور کاشتکار کی زندگی میں تبدیلی پیدا کی ہے۔انکی بدولت ملک میں زرعی انقلاب دستک دے رہا ہے تاہم حکومت اور زرعی ادارے مخلصانہ کوششیں کریں تو پاکستان میں پیدا ہونے والی اجناس سے دنیا بھر کی منڈیوں میں راج کیا جاسکتا ہے۔ان پیچیدہ حالات میں بھی پاکستان کے پھل اور دیگر اجناس ایکسپورٹ کی جارہی ہیں ۔اندازہ کیجئے اگر حکومت دیانتداری سے زراعت کو سپورٹ کرے تو کیاخوشگوار نتائج برامد ہوسکتے ہیں ۔اس وقت ملک میں تقریباً پانچ سو سے زائد ایگری کلچرل کمپنیاں موجود ہیں جو اپنے جدید وسائل استعمال کرکے ملک میں زراعت کو وسعت دے رہی ہیں اور اس میں کھلی مسابقت موجود ہے۔ان کمپنیوں کی بدولت ہی پاکستان دنیا بھر میں اجناس پیدا کرنے والا ایکسپورٹر ملک کہلاتا ہے ۔اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا کہ دنیا میں گندم کی پیداوار کے حوالے پاکستان کا شمار 8 ویں،خوبانی میں3،بھینس کے دودھ میں2،کاٹن میں4کاٹن سیڈ میں 3،کھجور میں 5، آم میں6،پیاز میں2،مالٹے اور چاول میں11 اور چینی میں 5 ویں پوزیشن کا حامل ہے۔ جبکہ آلو اوردیگر سبزیوں اور پھلوں پھولوں کی پیداوار میں بھی پاکستان کی حیثیت کئی ملکوں سے بہتر ہے۔دلچسپ اور قابل تحسین بات یہ ہے کہ نجی کمپنیوں کی بدولت پاکستان میں اب جدید زرعی وسائل موجود ہیں جس سے فی ایکڑ پیداوار میں دوگنا،تین گنا تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔اور یہ کمپنیاں اپنا ہائبرڈ سیڈ مکمل تحقیق کے بعد استعمال کرتیں اور کئی دوسرے ملکوں کو بھی ایکسپورٹ کرتی ہیں جس سے ملک میں سیڈ کمپنیوں کا ایک جال سا بچھ چکا ہے جو اس شعبہ کی ترقی کی گواہی دیتا ہے،زمین کو قابل کاشت بنانے اورفصلوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے پیسٹی سائیڈز کے شعبے نے بھی بے پناہ ترقی حاصل کی ہے تاہم نچلے درجہ کی بہت سی کمپنیوں نے جعل سازی سے کاشت کاروں کو کنگلا بھی کردیا ہے اور مارکیٹ میں خرابی پیدا کی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں زہریلے کیمیکل سے آلودہ سبزیاں اور پھل سپلائی ہورہے ہیں اور یوں یہ زہریلی اجناس جب انسانی معدے میں جاتی ہیں تو بیماریوں کا موجب بن جاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک میں بیماریاں پھیلانے میں زہریلی سبزیوں اور پھلوں کا اہم کردار ہے اور اس پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اسکا حل جس نے نکالنا ہے وہ مٹھی گرم کرکے خود بھی اس زہر خورانی کو قبول کرلیتا ہے۔چند روز پہلے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چئیرمین اور ملک کی معروف ایگر کلچرل کمپنی فور برادرز کے چئیرمین انجینئر جاویدسلیم قریشی صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کے ساتھ زراعت کے شعبے پر کافی مفصل بات چیت ہوئی ۔جس میں انہوں نے بہت سے مغالطوں کو بھی رفع کیا۔قریشی صاحب نے پہلے علی اکبرگروپ کی بنیاد رکھی تھی بعدازاں اپنے بھائیوں کے ساتھ ملکر فوربرادرز کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔جاویدسلیم قریشی وژن اور ویلوز کے نظرئے پر کام کرتے ہیں۔ان کا ادارہ زراعت،ٹیلی کمیونیکیشن اور انجینرنگ جیسی کئی جہتوں میں کام کررہا ہے۔جاوید سلیم قریشی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ زرعی پیداوار بڑھانے میں پرائیویٹ کمپنیوں نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔۔ جب تک اچھا بیج نہیں بنایا جائے گا تب تک زرعی پیداوار نہیں بڑھ سکتی۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ اس ضمن میں ہمارے پاس کوئی مناسب لائحہ عمل نہیں ہے۔اس وقت زیادہ تر بیج پا کستان کا اپناپیدا کردہ ہے۔ برسوں پہلے امریکہ سے گندم کا بیج منگوایا گیا تھا جسے پاکستان میں ریفارم کیا جا چکا ہے۔سیڈ کے حوالے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پنجاب سیڈ ایک مارکیٹنگ کمپنی ہے جو بنے بنائے بیج فروخت کرتی ہے حالانکہ یہ حکومت کاکام نہیں ہے۔ اس کو چاہیئے کہ یہ بطور ریگولیٹر کام کرے اور ملک کے اندر اپنے نئے پلانٹس لگا کر تحقیقات کو فروغ دیں۔مگر اس کو دوسرے کاموں میں لگا دیا گیا ہے جس سے کرپشن بھی جنم لیتی ہے،مثلاً جیسا کہ بیج کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لئے آپ کئی سال کی تحقیق کے بعد ایک نایاب چیز دریافت کرتے ہیں تو اس کو نقالی سے بھی بچانا ہوتا ہے لیکن ہماری محنت کسی اور تک پہنچادی جائے تو یہ بہت بڑی بدعنوانی ہے۔ ہم بیجوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں تاہم لوگ اپنی تحقیق حکومت تک لے کر جاتے ہیں لیکن اس کا صلہ انہیں دیا جاتا۔یہ بیج وہاں سے دورسری کمپنیوں تک کیسے پہنچ جاتا ہے،اسکا سدباب ہونا چاہئے اور اس مسئلہ کا حل ڈی این اے اور فنگر پرنٹس سسٹم میں ہے تاکہ کوئی کسی کے کام کو اپنا بنا کر پیش نہ کرے۔ 

انہوں نے اس سوال پرکہ زرعی ادویات صحت کے بہت سے مسائل بھی پیدا کرتی ہیں تو انہوں نے اعتراف کیاکہ یہ درست بات ہے تاہم انہوں نے کہا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرناکہ پیسٹی سائڈز ہی اس تمام مسئلے کی وجہ ہیں سراسر غلط ہے۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ کسان فصل کاٹنے یا سبزیاں وغیرہ توڑنے کے بعد ان کو کیڑوں اور سنڈیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان سبزیات کو پیسٹی سائڈز میں ڈبو دیتے ہیں اور اسی طرح منڈیوں میں بیچ دیتے ہیں۔ اس عمل سے صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔اس کا تدارک محکمہ زراعت ہی کرسکتا ہے۔قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے جس میں کسانوں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان کا ایک غلط فعل کسی کی جان بھی لے سکتا ہے اور حکومت کو اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہئے جس کے ذمے منڈیوں میں آنے والی سبزیات کی کوالٹی کو جانچنا ہو ۔ گورنمنٹ ایک بوری پر 12 فیصد ٹیکس لیتی ہے۔ گورنمنٹ کو چاہیئے کہ اس ٹیکس میں سے کچھ حصہ لیبارٹریز پر صرف کیا جائے تا کہ سبزیات کی کوالٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔

ملک میں دونمبر پیسٹی سائڈز کی بہتات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ حکومت کی شہ پر پل رہے ہیں ۔ حکومت کو ان کمپنیوں کی سرکوبی کرنی چاہئے ۔ پیسٹی سائڈ کمپنی کھولنے کے لئے ایک خاص مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس میں کچھ شرائط و ضوابط ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ ان باتوں پر کوئی عمل نہیں کرتا اور یوں کرپشن کا کیڑازراعت کا کھارہا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پیسٹی سائڈزکے بغیر سبزیات پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔ موجودہ دور میں ان کا استعمال نا گریز ہے۔ لہذا دونمبر سے بھی نچلے درجہ کی کئی کمپنیاں موجود ہیں تو ان کا سدباب کرنا محکمہ کا کام ہے۔اس مفروضے کے حوالے سے کہ بے موسمی سبزیوں اور پھلوں سے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے 

کیونکہ ان سبزیات اور پھلوں کے صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے البتہ ان میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے۔ پاکستان کا موسم سبزیات اور پھلوں کی بے موسمی پیداوار کیلئے بھی سازگار ہے اور یہ خدا کی نعمت اور فضل ہے جس سے پاکستان مالا مال ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید :

بلاگ -