پاکستان رائیٹرزفورم کے زیرِ اہتمام جد ہ میں یادگار سیمینار ، مسلمانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی گئی

پاکستان رائیٹرزفورم کے زیرِ اہتمام جد ہ میں یادگار سیمینار ، مسلمانوں کو ...
پاکستان رائیٹرزفورم کے زیرِ اہتمام جد ہ میں یادگار سیمینار ، مسلمانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی گئی

  

جدہ (زمردخان سیفی)گذشتہ دنوں پاکستان رائیٹرز فورم جدہ کے زیرِ اہتمام جدہ کے مقامی ریستوران میں فورم کے چیئرمین انجینئر نیاز احمد کی سرپرستی میں موجودہ عالمی حالات کی مناسبت سے ایک شاندار اور یادگار سیمینار ’’ عصرِ حاضر کا انسانی المیہ ‘‘ منعقد کیا گیا۔

اُردو نیوز جدہ سے وابستہ معروف صحافی مصطفےٰ حبیب نے اپنے خطاب میں اپنے وسیع مشاہدے کی روشنی میں انسانی المیہ کے ناقابلِ فراموش واقعات پیش کیے ۔ افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے ایک ایسے خوشحال گھرانے کے افغان بچے کی دردناک داستان پیش کی جس کا والد غیر ملکی افواج کے ہاتھوں مارا جاتا ہے اور وہ اپنے بھائیوں اور والدہ کے ساتھ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ انسانی المیہ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگ و جدل کے نتیجے میں آج شام ، عراق ، برما ، کشمیر اور دیگر کئی جگہوں پر بے شمار افراد اپنے ہی ملکوں میں پناہ گزین ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ المیہ صرف مسلمان ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ یورپ میں بھی دہشت گردی کے واقعات منظرِ عام پر آرہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عملی طور پر ایسے المیہ واقعات اور سانحات کو اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ختم کرنے کے کوشش بھر پور کریں ۔اُنہوں نے جدہ سے شائع ہونے والے پہلے اُردو روزنامے ’’ اُردو نیوز‘‘ کے حوالے سے کہا کہ یہ اخبار اب مزید بہترین اور نئے انداز میں آرہا ہے اور ویب سائٹ پر بھی موجودہے اور کمیونٹی کی تجاویز اور آرا ء کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

؂ معروف فکائیہ نگار محمد امانت اللہ نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ دینی علم کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کا پھیلانا بھی بہت اہم اور ضروری ہے۔ دیارِ پاک میں کئی دہائیوں سے مقیم افراد اپنے اپنے شعبے میں وسیع تجربہ اور قابلیت

کے حامل ہیں اور اُنہیں چاہیے کے اپنے ممالک میں دورانِ تعطیلات اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے دوسروں کو خصوصاً نئی نسل کو اس سے مستفید کریں۔ اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کی قابلیت بڑھانے کیلئے جن خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے اُن یونیورسٹیوں سے رابطہ کر کے اور بطور مقرر شرکت کرکے نئی نسل کے طالب علموں کی راہنمائی کی جاسکتی ہے۔ جدہ میں مقیم شاعر انجینئر محسن علوی پانچ شعری مجموعوں کے مصنف بھی ہیں اور حمد و نعت کے حوالے سے معروف و مقبول ہیں اُنہوں نے اپنی مشہور نظم ’’ اسلام اور عصرِ حاضر ‘‘ پیش کی ۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر اسرارالحق نے اپنے خطاب میں پاکستان رائیٹرز فورم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں سب سے ہولناک واقعی تاتاریوں کا حملہ جس میں منگول قبائل نے ثمرقند سے عراق تک ہر شے کو تباہ کر دیا گیا وہ ۱۲۵۸ ؁ ء میں ہلاکو کی قیادت میں بغداد میں داخل ہوئے اور آٹھ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ آج کا زمانہ پہلے ادوار کی نسبت زیادہ سنگین اور تباہ کن ہے ، مغربی ثقافت کی یلغار اور یورپی استعمار نے ہمیں ذلت و رسوائی سے دوچار کیا ہے جبکہ ماضی قریب میں ملک جدا جدا ہونے کے باوجود مسلمانوں میں وحدتِ ملی اسطرح قائم رہی جس کی مثال نہیں ملتی ۔ د نیا اگرچہ گلوبل ویلج کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور فاصلے ختم ہو چکے ہیں لیکن دلوں کے

فاصلے بڑھ گئے ہیں اور دلوں میں قدرِ مشترک نہیں ہے۔ ہمیں قوم پرستی ، تعصب اور اخلاقی بگاڑ نے المیے سے دوچار کیا اور جدید دور میں مادیت کی وجہ سے وحدت باقی نہیں رہی اور اس فکر کا فقدان ہے جو انسان کو انسان کے قریب لائے جبکہ نوعِ انسانی کو وحدت کی ضرورت ہے اور وحدت سے دوری کا سبب دین سے ، قران و حدیث سے دوری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے میں ہی ہماری نجات ہے۔

تقریب کے صدر عامر خورشید رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افریقہ سے غلاموں کی خریداری اور جانوروں سے بھی بدترطریقے سے اُن کی شمالی اور جنوبی امریکہ منتقلی تاریخ کے اوراق پر انمٹ دھبہ ہے۔ بیس (۲۰) ملین غلاموں کو منتقل کیا گیا جس میں ان گنت جانیں ضائع ہوئی اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار چاہیں بھی تو چھپا نہیں سکتے ، منگول بربریت میں چالیس (۴۰) ملین لوگوں کو تہس نہس کیا گیا صرف نیشاپور میں ایک (۱) ملین

لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا ، انقلابِ روس کے دوران چالیس (40) ملین لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، رہی سہی کسر جنگِ عظیم اوّل و دوئم نے پوری کردی جس میں تقریباً پچہتر (75) ملین انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اس کے علاوہ نہ جانے کیا کیا ظلم ڈھائے ہوں گے۔ یہ سلسلہ ان المیوں کا ہے جو انسان نے خود انسان پر ڈھائے ، قیامت ہے کہ انسان نوعِ انسان کا شکاری ہے ۔ افسوس ہے کہ کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر شام ، عراق ، افغانستان ، فلسطین اور کشمیر میں غارت گری کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔اُنہوں نے تہذیبی اور اخلاقی گراوٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر میں تہذیبی انحطاط کی ایک اہم وجہ گلوبلائزیشن کا المیہ ہے اس نے ہماری گلیوں ، بازاروں ، دسترخوانوں اور لباس سے ان کی دلکشی اور شناخت چھین لی ہے، ہمارے رنگ ، خوشبوئیں ، زبانیں اور طریقہٗ اظہار سب گلوبلائیزیشن کا شکار ہوگئے ہیں اور ہماری دلکش انفرادی شناخت کو درہم برہم کر دیا ہے ، عصرِ حاضر میں نئی سے روابط استوار کرنے کی صلاحیتیں بھی سلب کر لی ہیں، ہمارے بچے کمپیوٹر ، ٹیبلٹ اور موبائل کی اسکرین تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں یہ کیسی تہذیب فروغ پا رہی ہے جہاں ساتھ بیٹھے ہوئے بچے ایک دوسرے سے باتیں نہیں کرتے ۔ تقریب کے اختتام پر مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اکیڈیمی کے سرپرست بہجت ایوب نجمی نے اجتماعی دعا کے ساتھ انتہائی رقت آمیز انداز میں اُمتِ مسلمہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ کیا خصوصاً قیام پاکستان کے دوران جان و مال کی لازوال قربانیوں کا ذکر کیا۔

عالمی اُردو مرکز کے ذیلی ادارے مجلسِ اقبال کے چیئرمین نوجوان دانشور عامر خورشید رضوی نے سیمینار کی صدارت کی ، مہمانِ خصوصی علمی و ادبی حوالوں کی معروف شخصیت پروفیسر اسرارالحق تھے۔ مقررین اور شعرائے کرام میں اُردو نیوز جدہ کے مصطفےٰ حبیب ، فکاہیہ کالم نگار محمد امانت اللہ ، معروف شاعر اور پانچ کتابوں کے مصنف انجینئر محسن علوی اور زمرد خان سیفیؔ شامل تھے ۔ جبکہ علمی و ادبی اور مذہبی و سماجی شخصیات نے بھی اس تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ ان خاص شرکاء میں پاکستان رائیٹرز فورم کے سابق چیئرمین انجینئر الطاف حسین ، روہنگیا کمیونٹی کے نمائندے سلیم عبدالرحمن ، عطاء الرحمن ، مشتاق منور ، احترام الہی ، اشفاق احمد ، نذیر مغل ، عیسب خان نیازی ، اسد علی ، محسن رضا ، آغا محمد اکرم ، ذوالفقار مرزا کے علاوہ دیگر افراد شامل تھے۔ پاکستان رائیٹرز فورم کے اراکین بہجت ایوب نجمی ، عبدالرشید ، توقیر احمد اور زاہد حسین نے انتظامات کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں، انس زیبر نے اس یادگار تقریب کو فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کے ذریعے محفوظ کیا۔ نظامت پاکستان رائیڑز فورم کے فعال رکن یاسر محمود نے کی۔ قرانِ پاک کی بابرکات آیات کی تلاوت اور ترجمہ پیش کرنے کی سعادت پاکستان ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے معروف قاری محمد آصف نے حاصل کی۔ معروف نعت خوان محمد شیر افضل نے ہدیہ نعت بحضور سرورِ کونین ﷺ پیش کیا۔اس موقع پر ناظمِ تقریب یاسر محمود نے پاکستان رائیٹرز فورم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا اس ادارے نے علم و ادب ، حالاتِ حاضرہ اور اُمتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کے حل کے حوالے سے بامقصد تقریبات منعقد کی ہیں اور آج کی یہ تقریب بھی اسی مثالی سلسلے کی ایک قابلِ قدر کڑی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -