پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد کی تشکیل نئی بات نہیں اور نہ ہی ہم خوفزدہ ہیں ،منیارٹی بل پر تحفظات دور کریں گے :سید مراد علی شاہ

پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد کی تشکیل نئی بات نہیں اور نہ ہی ہم خوفزدہ ہیں ...
پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد کی تشکیل نئی بات نہیں اور نہ ہی ہم خوفزدہ ہیں ،منیارٹی بل پر تحفظات دور کریں گے :سید مراد علی شاہ

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد کی تشکیل کو نئی بات نہیں، ہم کسی الائنس سے خوفزدہ نہیں کیونکہ سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ انہیں مسترد کیا ہے، مینارٹی بل کے حوالے سے تحفظات کا تدارک کریں گے۔

پی پی پی کے رہنما عمر جٹ کے لواحقین سے تعزیت کے بعد میڈیا سیگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے مخالفین کو سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ رد کیا ہے ، جنہوں نے ہمیشہ مختلف طریقوں سے پیپلز پارٹی کے خلاف محاذ آرائی کی،مگر ان کے کیلئے یہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کو سندھ کے عوام کا بھرپور اعتماد اور تعاون حاصل ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے پیروکار اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارکنوں نے ہمیشہ ایک ہمت اور جذبے کے ساتھ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے،ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اقلیتوں کے مینارٹی بل کے حوالے سے تحفظات کا تدارک کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی ہے جس نے اقلیتوں کا خیال رکھا ہے، کیونکہ ہم انہیں اس ملک کا برابر کا شہری سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت میری کابینہ میں 18وزراء شامل ہیں اور میری کابینہ بہت اچھے طریقے سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری کارکردگی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ میڈیا مجھ پر مہربان ہے، نہیں تو میرے تمام وزراء بھی سخت محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جوکہ صحیح کارکردگی نہیں دکھائیں گے انہیں پارٹی کی قیادت سے مشاورت کے بعد تبدیل کیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری نے ہائی کورٹ کو نہیں بتایا ہے کہ مشیروں کو ہٹادیا گیا ہے،مگر انہوں نے کہا کہ مشیروں کے ایگز یکٹو اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ چائینز کو کچڑا اٹھانے کا کانٹریکٹ دیا جا رہا ہے، اصل میں یہ ایک بین الاقوامی ٹینڈر تھا جس میں کامیاب ہونی والی کمپنی کو یہ کام دیا گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ آئی جی سندھ کو ہدایت کریں گے کہ وہ شہر میں کام کرنے والے ہر ایک پولیس سٹیشن میں تعینات اہلکاروں کی تعداد کا جائزہ لیں،وہ پولیس سٹیشن جہاں پر فورس کی قلت ہے انہیں اضافی فورس دیگر مستحکم کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس سٹیشنوں کی تعمیر کی منصوبابندی کی جا رہی ہے، اور پولیس اہلکاروں کی رہائشی کالونی کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ضلع ملیر سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ انکا ضلع ہے اور وہ اس کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی علاقے یا ضلع کو نظرانداز نہیں کرونگا اور ہر ضلع ،شہر اور دیہات کا مجھ سے اور میری پارٹی سے تعلق ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت بلاامتیاز ان کی خدمت کرے گی۔

مزید :

کراچی -