سندھ کے شہریوں کو آلودہ پانی کی فراہمی

سندھ کے شہریوں کو آلودہ پانی کی فراہمی

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی کے شہریوں کو آلودہ پانی کی فراہمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے سندھ کے 80سے 90فیصد عوام انتہائی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔پینے کے پانی میں فضلہ جان بوجھ کر شامل کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ اس صورتحال کو بدلنا چاہتی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ صاف پانی کی فراہمی سے متعلق تفصلی رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس شہریوں کو آلودہ پانی کی فراہمی پر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ادا کئے۔ سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی طلب کرنے پر کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پینے کے پانی میں آلودگی ضرور ہوتی ہے لیکن صورتحال اس قدر بھی خراب نہیں، جتنی بیان کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو کمرۂ عدالت میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا اگر بلاول بھٹو یہاں موجود ہوتے تو وہ بھی دیکھ لیتے کہ لاڑکانہ اور دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگ کس قدر گندہ اور آلودہ پانی پیتے ہیں۔ لوگ آخر کہا ں جائیں، کیا کریں؟ گندہ پانی آخرعوام کے لئے کیوں؟؟پینے کے پانی کی آلودگی کا مسئلہ گزشتہ بیس بائیس سال سے چلا آرہا ہے۔ کچھ عرصے پہلے بھی سپریم کورٹ نے پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے واٹر کمیشن تشکیل دیا تھا جس کی رپورٹ میں جو حقائق بیان کئے گئے، اُن کی تردید نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ نصف درجن اداروں نے سندھ کے چودہ اضلاع کے زیر زمین پانی کے 460نمونوں کا ٹیسٹ کروایا تو بتایا گیا کہ وہاں پینے کا پانی 77 فیصد آلودہ ہے۔ پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے والوں میں پاکستان کونسل فار ریسرچ بھی شامل تھی۔ آلودہ پانی کی وجہ سے لوگوں میں ہیپاٹائٹس، ٹائیفائڈ اور گردوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور امیر طبقے کو اس سنگین مسئلہ کا کوئی احساس نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو صاف پانی مہیا کرنے کا ایک بیان جاری کر دیا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام تفصیلات سُنیں اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی، کہ سندھ ہی نہیں پنجاب میں بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہاہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ دودہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی گندے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی پلان نہیں بنایا جاسکا، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ وہ پانچ سے آٹھ ہزار روپے ادا کر کے صاف پانی کا ٹینکر ہر روز حاصل کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ پینے کے پانی کے لئے ہر مہینے اتنی زیادہ رقم کون سا عام آدمی خرچ کر سکتا ہے۔ حکمرانوں کو اس جانب خاص توجہ دے کر صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ جتنی رقم لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے مختص کی جاتی ہے، وہی رقم صاف پانی کی فراہمی کے پلان پر عملدرآمد کے لئے خرچ کی جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سیلابی پانی کو کراچی کے شہریوں کے لئے استعمال کی تجویز بھی دی ۔ حکومتی مشینری کی کارروائی کا یہ عالم ہے کہ صوبے میں 963سکیمیں نامکمل پڑی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ مسئلہ حکومت کی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...