لاشوں کی سیاست

لاشوں کی سیاست
 لاشوں کی سیاست

ساڑھے تین برس پہلے جون کی ایک گرم صبح کولاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں غیر ملکی شہریت لے لینے والے مذہبی سیاسی رہنما کی رہائش گاہ پر غیر قانونی رکاوٹوں کو ہٹانے اوربچانے کے دوران جو کچھ ہوا تھا وہ ہماری تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔ نہتے سیاسی کارکنوں کوپولیس مقابلے کے لئے اکسایا اور شہید ہونے کے لئے ورغلایا گیا۔اس واقعے کو اس دور کے سیاسی واقعات کے پس منظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ وہ وقت تھا جب اپوزیشن میں موجود سیاسی رہنماوں کا ایک گروہ ایک خاص قسم کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جس میں زمانہ قبل از مسیح کی بے آئین اور بے مہار ریاستوں جیسی لشکر کشی کے ذریعے حکومت کا گرایا جانا شامل تھا، شیخ رشید احمد کے ہمیشہ کی طرح کسی آفت کی اطلاع دیتے بیانات کو اٹھا کے دیکھ لیں،انہیں حالات کو سنگین بنانے کی اشد ضرورت تھی۔ لاشوں کی سیاست مہذب ریاستوں میں صدیوں پہلے مسترد ہو چکی، مگر ہمارے دیہات میں روایت موجود ہے، جس میں اپنے کامے مروا کے دشمن کے پورے خاندان کو جیل کرا نے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مَیں کبھی کبھی پنجاب پولیس کے مجرم پکڑنے کے لئے اس روایتی تفتیشی طریقہ کار کو کافی موثر پاتا ہوں، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جرم کا فائدہ کس کو پہنچا۔

یہ سترہ جون کی شام کو ہی واضح تھا کہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر لگے ہوئے درجنوں غیر قانونی بیرئیروں کا ہٹانے کا فیصلہ پنجاب حکومت کی سطح پر کیاگیا تھا اور اس بارے اجلاسوں میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کے سیکرٹری توقیر شاہ بھی شامل رہے ۔ باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں بیرئیر ہٹانے کے فیصلے کی بجائے اس بات کا تعین کیا جانا تھا کہ گولیاں چلانے کا حکم کس کی طرف سے جاری کیا گیا،جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ یک رکنی کمیشن کا جس پارٹی کی طرف سے بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد اسی پارٹی کی طرف سے اس رپورٹ کو افشا کرنے کے لئے دباو ڈالا جاتا ہے۔ کامن سینس کی بات ہے کہ جب کوئی فریق کسی تحقیقات کا بائیکاٹ کرتا ہے تو لازمی طور پر بیانات اور حقائق مخالف فریق کے حق میں ہوجاتے ہیں مگر یہ ایک ایسی عجیب و غریب رپورٹ ہے، جس میں بائیکاٹ کرنے والی پارٹی کے حق میں شبہات اور اندیشوں کی مدد سے ایک خاص ماحول تیار کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی جائز ہے کہ جب ایک فریق نے کسی رپورٹ کی تیاری کا بائیکاٹ کر دیا تو اس کے بعد وہ کون سے ذرائع تھے، جنہوں نے اس فریق کو اطلاع دی کہ رپورٹ منظر عام پر لانے کے لئے دباو ڈالا جائے کہ اس میں ان کا فائدہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رپورٹ مرتب کرنے والا تحقیقاتی کمیشن رپورٹ کے آخر میں کہتا ہے کہ اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے والے ذمہ دار تک خود ہی پہنچ جائیں گے، تو سوال یہ ہے کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والا خود ذمہ دار تک کیوں نہیں پہنچا اور ان حقائق کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا کہ خون کے وارث ہونے کے دعوے داروں نے ہفتوں تک تحقیقاتی ٹیم کو جائے حادثہ پر ثبوت اور شواہد اکٹھے کرنے سے کیوں روکا۔ جب تحقیقاتی کمیشن پولیس کی طرف سے تعاون نہ ہونے کا شکوہ کر رہا تھا تو اس نے اس سیاسی رہنما کے مشکوک اور قابل اعتراض روئیے کو اجاگر کیوں نہیں کیا جن کے مقاصد اور کرداربارے ہائی کورٹ کے ایک اور تحقیقاتی ٹریبونل کی ایک رپورٹ بھی موجود ہے۔ اس ایف آئی آر کی حقیقت کیوں بے نقاب نہیں کی، جس میں عمومی روایت کے مطابق مخالفین کے تمام چاچے ، بابے اور بھانجے ، بھتیجے تک نامزد کر دئیے جاتے ہیں۔ کمیشن نے مختلف ایجنسیوں کی متضاد رپورٹوں کو بھی شامل کیا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر اس امر پر زور نہیں دیا گیا کہ پولیس رات ایک ، ڈیڑھ بجے ماڈل ٹاون پہنچتی ہے اور صبح ساڑھے گیارہ سے بارہ بجے تک کوئی ہلاکت نہیں ہوتی۔ اس دوران پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے بہت سارے کارکنوں کو ماڈل ٹاون پہنچنے کی کال دے دی جاتی ہے ،غیر ملکی شہریت کے حامل مذہبی سیاسی رہنما اوران کے مقامی ساتھی لاؤڈ سپیکر پر کارکنوں کو بیرئیر بچانے کے لئے شہید ہوجانے کی عجیب و غریب ترغیب دیتے ہیں۔ ایک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پہلی گولی منہاج کے گارڈ کی طرف سے چلتی ہے پولیس پیش قدمی کرتی ہے تواس پر پتھرو ں اور لاٹھیوں ہی نہیں،بلکہ مقامی سطح پر تیار کئے ہوئے پٹرول بموں سے حملہ کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار باقاعدہ فائرنگ کر دیتے ہیں اور ایک ایسا سانحہ وقوع پذیر ہوجاتا ہے، جس میں پہلی اطلاعات کے مطابق چوبیس،دوسری کے مطابق18، تیسری کے مطابق 14او ر اب رپورٹ کے مطابق10 افراد جاں بحق قرار پاتے ہیں۔

مَیں نے اس رپورٹ پر بہت ساروں سے پوچھا ہے کہ اس سے کیا نتیجہ برآمد ہوا، اس سوال کے بہت سارے دلچسپ جوابات سامنے آئے ہیں،جو تفریح طبع کے لئے کافی ہیں، یقینی طور پر یہ رپورٹ کسی پر براہِ راست ذمہ داری عائد کرنا تو ایک طرف رہا ،فائرنگ کا حکم دینے والی اتھارٹی بارے بنیادی سوال تک کا جواب نہیں تلاش کرپائی کہ اس سوال کا اصل ، سچا اور حقیقی جواب بہت چونکا دینے والا ہوسکتا ہے۔مجھے اس واقعے سے آگے بڑھنا ہے ،جون کے بعد جولائی اور اگست آجاتا ہے ، اسی اگست میں وہ تاریخ میں بہت دیر تک یاد رکھے جانے والا لانگ مارچ شروع ہوجاتا ہے،جس میں پاکستان کی اکیس کروڑ آبادی میں سے 21ہزار سے بھی بہت کم لوگ دارالحکومت کا محاصرہ کر لیتے ہیں، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی کی عمارتوں پر حملہ آور ہو کر کسی جعلی انقلاب کے ذریعے نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے کی سازش کرتے ہیں۔یہاں انہیں مزید لاشیں درکار ہوتی ہیں اور وہ ماڈل ٹاون کے سانحے کا ایکشن ری پلے کرتے ہیں، مگر یہاں حکومت چوکنی اور ان کے طریقہ واردات سے واقف ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ ریاستی اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیتی ہے۔ سازشی عناصر سمجھتے ہیں کہ ان کی سازش جون کی طرح ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوگئی اور ان کے ترجمان چینلز کے ساتھ ساتھ ان کے رہنما بھی ایک سے ڈیڑھ درجن نعشوں کے گرنے کا پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور جب نعشیں نہیں ملتیں تو کہاجاتا ہے کہ مرنے والوں کی ڈیڈ باڈیز کو غائب کر دیا گیا ہے۔ لاشوں کی تلاش میں پاگل پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھی پہنچ جاتے ہیں، مگر پتا چلتا ہے کہ ان کی ماڈل ٹاون کی طرح نعشیں حاصل کرنے کی خواہش پوری نہیں ہوسکی ۔ خواہشیں تو اس گروہ کی بہت ساری پوری نہیں ہوسکیں مثال کے طورپریہ خیال کہ پنجاب حکومت نقائص سے بھری یہ یک طرفہ اور کسی نتیجے سے عاری یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائے گی اور ہمارے کینیڈین بابا آسانی کے ساتھ ایک اور دھرنا دینے کی سازش میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مَیں جوں جوں تفصیلات میں جاتا چلا جاوں گاتوں توں اقتدارکی خواہش میں پاگل ہوجانے والوں کا افسوس بھی بڑھتا چلا جائے گا، مگر یوں لگتا ہے کہ مجھے یہاں لاشوں کی سیاست سے زیادہ اِسی رپورٹ کے صفحہ ستاون پر موجود ان فقروں کو زیادہ سنجیدگی سے لینا ہوگا، جن میں کہا گیا ہے کہ پولیس والوں نے عورتوں کو بالوں سے پکڑ کے گھسیٹا اور کہا کہ بلاو ( حضرت) علی ( کرم اللہ وجہہ) اور (سید الشہداء سید امام) حسین ( علیہ السلام) کو کہ وہ تمہیں آکر بچائیں۔ مَیں پولیس اہلکاروں کو ظالم مان سکتا ہوں، مگر ان سے منسوب یہ الفاظ اور فقرہ تو قطعی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس والے بھی مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت مخالف چینلز کی مدد سے اس رپورٹ کو فرقہ وارانہ فساد کی بنیاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کوشش ختم نبوت والے معاملے میں کھڑے کئے گئے فساد کی ہی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔مَیں رپورٹ کے ناقص ہونے کے بارے میںیقینی طور پر شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتا، مگر ان الفاظ اور فقروں نے اس رپورٹ کی قلعی مکمل طور پر کھول کے رکھ دی ہے۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ پنجاب حکومت کا اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ ملک و ملت کے عین مفاد میں اور سوفیصد سے بھی کچھ زیادہ درست تھا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...