پاکستانی قوم کا آخری امتحان؟

پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے طاغوتی قوتیں قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہونے والی سازشوں میں سب سے بڑی اور حتمی ضرب لگانے میں مصروف ہیں۔ اہل پاکستان کا سب سے بڑا امتحان شروع ہے کیونکہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے کلمہ طیبہ پر بنیاد رکھی گئی ہے دشمنان دین اور پہلے دن سے پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والے کسی نہ کسی انداز میں پاکستان کی سلامتی پر وار کرتے چلے آ رہے ہیں۔کبھی اخلاقی قدروں کی پامالی، کبھی نظریاتی سرحدوں کا استحصال تو کبھی فرقہ واریت کا ناسور، تازہ ترین حملہ پوری امت مسلمہ کی مذہبی بنیادوں پر تفریق اس سے بڑھ کر مذہب اور سیاست کو علیحدہ کرکے مذہب کی چھتری تلے سیاست کا فروغ کا ایجنڈا سامنے آیا ہے۔ بطور مسلمان ختم نبوت ہمارا عقیدہ ہے اسی لئے اس کو متنازعہ بناتے ہوئے مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کو لڑانے اور خانہ جنگی کروانے کی سازش بے نقاب ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے 2018ء کے الیکشن کو جمہوری سے زیادہ مذہبی اور اس سے زیادہ مسلکی بنانے کے ایجنڈے پر عمل شروع ہے۔ اسلام آباد دھرنے کا اختتام بظاہر خوش آئند ہے مگر آنے والے سیاسی تناظر میں جو منظر نامہ سامنے آ رہا ہے وہ خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ خون آلود بھی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے میرے سمیت ہر فرد کی انفرادی کونسلنگ کی ضرورت ہے۔ الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نے جو مسلکی منافرت ان دنوں اجاگر کی ہے 70سال میں اس کی مثال نہیں ملتی۔حالات ایسے پیدا کر دیئے گئے ہیں بظاہر جمہوری قوتوں اور سیاسی رہنماؤں کے پاس ووٹ کے لئے عوام کے پاس جانے کے لئے کچھ نہیں ہے سوائے مذہب کے ٹھیکیداروں کے جو مسلکی ایمان کی سلامتی، ختم نبوت کے نام پر مرنے کی قسم دے کر ووٹ حاصل کرنے کا ایجنڈا دے رہے ہیں اور یہ پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں بالعموم اور دیگر شہروں میں بالخصوص ہو رہا ہے اور یہ وہاں ہو رہا ہے جہاں عوام کو زندہ رہنے کے لئے روزگار دستیاب نہیں اور مرنے کے لئے قبرستان موجود نہیں۔ مغربی قوتوں کو ہمارا سی پیک منظور نہیں تھا اس کے لئے انہوں نے سب سے پہلے اس جمہوری حکومت کو منظر سے ہٹایا جس نے گوادر پر توجہ دی اس کے بعد بلوچستان میں آگ اور خون کا کھیل دوبارہ شروع کرا دیا ہے۔ حالات کو تیزی سے بگاڑا جا رہا ہے۔ ڈومور کا مطالبہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستانی قوم مذہب کی آڑ میں شروع ہونے والی جنونیت اور پرتشدد سیاست سے کس طرح سرخرو ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم کا کڑا امتحان ہے پاکستان کی سالمیت، پاکستانی اداروں، نظریاتی تشخص کے خلاف جاری سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ پاکستانی فوج کے خلاف جاری سازشیں بھی اب ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ مذہبی منافرت، فرقہ واریت کے ناسور کو مختلف انداز میں جس انداز میں سوشل میڈیا پر سلگایا جا رہا ہے یا پھیلایا جا رہا ہے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایک طرف خانہ جنگی دوسری طرف اداروں کے تشخص کی تباہی تیسری طرف جمہوریت سے بیزاری یہودی لابی کا ایجنڈا خوفناک ہی نہیں ہولناک بھی ہے اس سے نبرد آزما ہونا کسی ایک فرد یا ادارے یا حکومت کے بس میں نہیں ہے اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی سازش علیحدہ کی جا رہی ہے مساجد کو متنازعہ بنانے کا پروگرام علیحدہ سامنے آ رہا ہے۔ ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قتل کرنے کے فتوے دیئے جا رہے ہیں پاکستانی قوم کا امتحان معمولی نہیں ہے آخری امتحان اس لئے کہا جا رہا ہے ختم نبوت کے بعد مسلمان کے لئے موت کے سوا کچھ نہیں۔ لمحہ فکریہ ہے طاغوتی قوتوں کی اس سازش یہودی لابی کے ایجنڈے کی تکمیل باہر سے آکر کوئی نہیں کر رہا ہمارے گردونواح میں بسنے والے ہی سستے داموں ضمیر فروشی کر رہے ہیں۔ مزاروں پر دھماکے کئے جارہے ہیں بعض لوگ دہشت گردوں کے آلہ کار اور سہولت کار بنے ہوئے ہیں ان حالات میں پوری قوم کو اجتماعی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنا ہے ہر فرد ہر ادارے کو اپنے اپنے کردار کا تعین کرنا ہے وہ کہاں اور کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے پاک فوج کے تقدس اور تشخص سمیت دیگر قومی اداروں کی بحالی فرقہ واریت کے خلاف اجتماعی جدوجہد بذریعہ ایثار محبت کرنا ہوگا، مذہب اور سیاست کو الگ الگ کرنے کی سازش کا توڑ باہمی ہم آہنگی کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے۔سب سے اہم کردار سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا کا ہے انہیں بھی اپنی حدود قیود طے کرنا ہوں گی۔ اینکرز تجزیہ نگار کالم نگار حضرات کو بھی حب الوطنی کا درس دینے کی بجائے ملک کے خلاف جاری سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عملی طور پر میدان میں آنا ہوگا۔ گروپ اور فرقوں کی لڑائی لڑنے کی بجائے پاکستان کی بقاء اور استحکام کی لڑائی لڑنا ہوگی جب پوری قوم بیدار ہوگی 23مارچ اور 14اگست 1947ء والا جذبہ پیدا ہوگا تو انشاء اللہ سب سازشیں ناکام ہوں گی اور قوم آخری امتحان میں بھی کامیاب ہوگی، اب تک ہم پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کو زخمی کر دیا ہے۔حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔انتظار کرنا ہوگا۔پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...