سندھ کے عوام کا مقدمہ

چیف جسٹس آف پاکستان نے صاف پانی کی فراہمی کے ایشو پر تاریخ ساز ریمارکس دیتے ہوئے جہاں سندھ اور کراچی کے عوام کی ترجمانی کی ہے وہاں کرپشن اور بد انتظامی پر سندھ حکومت کے چیف ایگزیکٹو سید مراد علی شاہ اور دیگر ذمہ داران کو بھی جھنجھوڑا ہے۔چیف جسٹس نے کیا خوب کہا ہے کہ کرپشن سے جان چھڑا لیں،عہدکر لیں کہ کرپشن نہیں کرینگے خود بخود معاملات درست ہونا شروع ہو جائیں گے چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری بچوں کی طر ح ہیں لیکن اگر وہ یہاں ہوتے اور دیکھتے لاڑکانہ کا کیا حال ہے،جواباً وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ باقی صوبوں کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں ہے مگر نشانہ ہمیں بنایا جاتا ہے ۔


پتہ نہیں ہمارے روئیے ٹھیک کب ہونگے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سپریم کورٹ میں حکمران خاندان سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ آپ نے کرپشن کی ہے ،جھوٹ پہ جھوٹ بولا ہے تو آگے سے جواب آتا تھا کہ فلاں نے بھی تو فلاں وقت ایسا ہی کیا تھا یا فلاں نے بھی ماضی میں یہ سب کچھ کیا تھا ،یعنی وزیر اعلیٰ سندھ ہوں یا کوئی اور ہر کوئی اپنا جواب دینے کی بجائے معاملے کو الجھانے کی کوشش کرتا ہے کراچی میں گندگی کے ڈھیروں سے لیکر پانی کی فراہمی سے تعلق رکھنے والے ٹینکر مافیا یا پھر چائنہ کٹنگ اور جگہ جگہ سرکاری زمینوں پر قبضے کا معاملہ ہو ہر معاملے میں حکومت اور انتظامیہ بالکل لا تعلق نظر آتی ہے جبکہ عدلیہ اس نا اہلی،کرپشن اور بد انتظامی پر نوٹس لیتی ہے تو پھر مظلومیت اور سندھ کارڈ کاڈرامہ شروع کر دیا جاتا ہے۔یقین جانئے جتنا بجٹ سرکاری خزانے سے لاڑکانہ کے لئے گزشتہ20سالوں میں جاری کیا گیا اگر اس کا 50فیصد بھی ایمانداری سے خرچ کر دیا جاتا تو لاڑکانہ کی گلیاں او ر سڑکیں نہ صرف مثالی ہوتیں بلکہ صاف پانی سمیت پورے سندھ سے دیگر مسائل کافی حد تک ختم ہو چکے ہوتے۔ایک طرف چیف جسٹس وزیر اعلیٰ سندھ اور انتظامیہ کو عدالت میں طلب کر کے آئینہ دکھا رہے تھے تو دوسری جانب زیڈ اے بھٹو کی پارٹی کے جانشین اسلام آباد میں کروڑوں روپے خرچ کرکے عوامی جلسے میں ڈانس کرنے میں مصروف تھے۔ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ہے ، یہ اس لئے ہے کہ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دو دن کی بات ہے اس کے بعد کیس دوبارہ ان کے ہی پاس آئے گا اور دوسرے بہت سے کیسز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا ،کاش سید مراد علی شاہ مظلومیت کا رونا رونے کی بجائے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس مسئلے کا حل پیش کرتے،لیڈر وہ ہوتا ہے جو مسائل کو دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کرتا بلکہ ان کو حل کرنے کی جدو جہد کرتا ہے پھر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زردار ی نے بھی عوام کے اتنے سنگین معاملے کو اہمیت نہ دیکر ثابت کر دیا ہے کہ سندھ اور کراچی کے عوام پرحکمرانی تو ان کا حق ہے لیکن کراچی اور سندھ کے عوام کے مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج کراچی اور سندھ کے عوام کئی لحاظ سے لاوارث نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ وہ کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کریں۔ وہ کس کے پاس کراچی اور سندھ کی بے بسی کا مقدمہ لے کر جائیں اگر عدلیہ نے صاف پانی ،چائنہ کٹنگ،کرپشن کے کچھ مقدمات اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے مقدمات کا نوٹس لیکر انتظامیہ کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تو وزیر اعلیٰ اور سرکاری مشینری کو یہ بھی اچھا نہیں لگ رہا،یہ بات تو طے شدہ حقیقت ہے کہ جب حکومتی ادارے کام نہیں کریں گے ،عوام کو انصاف کی فراہمی کی بجائے اس کے راستے میں رکاوٹ پیدا کریں گے تو پھر عدلیہ کو میدان میں آنا پڑے گا۔


آصف علی زرداری بھاری وفد لے کر طاہر القادری کے پاس یکجہتی کے لئے لاہور تو پہنچ گئے ہیں کاش وہ بلاول بھٹو زرداری کو لیکر کراچی اور لاڑکانہ جاتے اور گندہ پانی پینے پر مجبور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کرتے ،یہ بات اپنی حقیقت ہے کہآزاد عدلیہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں باعث رحمت ہوا کرتی ہے اور آزاد عدلیہ ہی وہ ادارہ اور فورم ہے جو ریاست اور شہریوں کے مابین طے شدہ آئین کی شکل میں معاہدے کی پاسداری اور پاسبانی کرتی ہے اس عدلیہ کے بارے چرچل نے زمانہ جنگ میں بڑے فخر کے ساتھ کہا تھا کہ اگر میرے ملک میں عدالتیں ٹھیک کام کر رہی ہیں تو پھر ملک کو کچھ نہیں ہو سکتا،وطن عزیز میں جس طرح ملک و قوم 70سالوں سے نشیب و فراز سے گزر رہے ہیں بالکل اسی طرح ہم نے عدلیہ کی بھی کئی اشکال تبدیل ہو تی دیکھی ہیں،خاص کر عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے نتیجے میں جب چیف جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی بحالی ہوئی تو قوم نے عدلیہ اور افتخار چودھری کا ایک نیا روپ دیکھا ،افتخار چودھری کی سربراہی میں پہلی عدلیہ نے انتہائی خوفناک اور مشکل مقدمات پرہاتھ ڈالااس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ عدلیہ کی آزادی یا بحالی کسی ریفارمز وغیرہ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک ڈکٹیٹر کے حکم کے خلاف رد عمل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی جو بعد ازاں عدلیہ کی آزادی کے نام سے موسوم کی جانے لگی ۔عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی کامیابی کے ساتھ ہی عوام نے عدلیہ کے ساتھ بے شمار امیدیں وابستہ کر لیں اور افتخار چودھری نے عام آدمی تک ہر صورت میں انصاف کی فراہمی کا میکنزم ترتیب دینے کی بجائے 20کروڑ عوام کے دکھوں کا اکیلے مداوا کرنے کی بھر پور کوشش کی ،نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا ،انصاف کا عمل گراس روٹ لیول تک منتقل نہ ہو سکا،لوئر کورٹس سے کرپشن اور بد انتظامی کا خاتمہ نہ ہو سکا آج کی عدلیہ جس طرح مافیاز کے خلاف سربر پیکار ہے اس سے عوام کو یقیناًحوصلہ اور نیا عزم ملتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا ایک ایسا نظام پوری طرح بنایا جائے جو عام آدمی کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کر سکے، ورنہ صاف پانی کا مقدمہ ہو یا پھرپانامہ کیس کا معاملہ ہو اس کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکیں گے ،پوری قوم ایک بار پھرعدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے اور سوال کر رہی ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کیلئے انقلابی ریفارمز کب کریں گے تا کہ صاف پانی جیسے مسائل سے عوام کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جان چھوٹ جائے، یہ کام کوئی ایک شخص نہیں کر سکتا،دنیا کی چھٹی بڑی پاپولیشن کو انصاف کی فراہمی کے لئے باقاعدہ ایک میکنزم کی ضرورت ہے۔ ابھی کل ہی کی خبر تھی کہ ایک خاتون قتل کے مقدمہ میں20سال کی سزا کاٹ کر اس لئے رہائی پانے میں کامیاب ہوئی ہے کیونکہ عدلیہ اور قانون کو بیس سال کے بعد پتہ چلا ہے کہ وہ بے گناہ تھی یہ کیسا گونگا بہرہ نظام ہے جس کو 20سال تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ خاتون بے گناہ ہے ،یہ خاتون اپنے 20سال کا حساب کس سے مانگے گی،اگر چیف جسٹس جوڈیشنل ریفارمز کر جائیں تو تاریخ اس کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یاد رکھے گی ورنہ افتخار چودھری سے بڑے جرات مندانہ ریمارکس کون دے سکتا ہے؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...