نئی سیاسی رشتے داریاں وجود میں آرہی ہیں عمران خان بھی اس کا حصہ بنیں گے ؟

نئی سیاسی رشتے داریاں وجود میں آرہی ہیں عمران خان بھی اس کا حصہ بنیں گے ؟
نئی سیاسی رشتے داریاں وجود میں آرہی ہیں عمران خان بھی اس کا حصہ بنیں گے ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور عوامی تحریک کے چیئرمین طاہر القادری کی لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس دیکھ کر وہ دن نگاہوں کے سامنے آگئے جب موخرالذکر نے اسلام آباد میں پہلا دھرنا دیا تھا، یہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی طاہر القادری نعرہء انقلاب لگاتے ہوئے سردی کے موسم میں اسلام آباد پہنچے تھے، جس کنٹینر کا ان دنوں پھر ذکر آرہا ہے یہ ان دنوں نیا نیا بنا تھا، یہ کمانڈر انچیف کا مورچہ بھی تھا اور مقام استراحت بھی، اس کنٹینر کے ایک روزن سے وہ دن میں کئی کئی مرتبہ ٹھٹھرتے ہوئے دھرنیلوں سے خطاب کرتے تھے، ایک دن دورانِ خطاب ایک عدالتی حکم نامے کی اطلاع آئی تو انہوں نے فوراً اعلان کردیا ’’مبارک ہو 50 فیصد کامیابی حاصل ہوگئی ہے، باقی کامیابی بھی زیادہ دور نہیں ہے‘‘ مگر کسی کو آج تک معلوم نہیں کہ اس کامیابی کی نوعیت کیا تھی؟ پھر حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کنٹینر پر حاضر ہوئی۔ مذاکرات ہوئے، کچھ وعدے وعید ہوئے اور چار روز بعد دھرنا اٹھا لیا گیا، اس دھرنے کے مطالبات کیا تھے؟ کتنے منظور ہوئے، کون سے رد ہوئے، کیا کوئی مطالبہ پورا بھی ہوا یا نہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ دھرنے کے خاتمہ بالخیر کے تھوڑے عرصے بعد حکومت کے معتبرین نے ماڈل ٹاؤن میں تحریک کے ہیڈ کوارٹر میں بنفسِ نفیس حاضری دی تھی، کچھ وعدے وعید بھی ہوئے تھے، لیکن یاد نہیں پڑتا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران دھرنے والوں کا کوئی مطالبہ منظور ہوا ہو، البتہ اس کے بعد عوامی تحریک نے 2013ء کا الیکشن ملتوی کرانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا، دھرنے سے پہلے اور بعد عوامی تحریک کا نعرہ تھا سیاست نہیں، ریاست بچاؤ، بظاہر تو ان الفاظ میں بڑی کشش ہے لیکن جو سیاستدان ہیں وہ تو یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سیاست، ریاست کو بچانے ہی کا نام ہے، اور یہ وہ آرٹ ہے جو پوری دنیا کی ریاستیں اپنی اپنی ریاستوں کو مضبوط بنانے کیلئے استعمال کرتی ہیں لیکن یہ نستخہ کیمیا کیا تھا کہ سیاست کو تیاگ کر ریاست بچانے کا سوچا جارہا تھا، سیاست تو ریاست کی بہتری کیلئے ہی کی جاتی ہے، اور جس سیاست میں ریاست پیشِ نظر نہ ہو وہ اور سب کچھ ہوسکتی ہے سیاست نہیں ہوسکتی، جب ناکام دھرنے کے بعد یہ نعرہ اپنا مفہوم کھو بیٹھا تو عوامی تحریک نے الیکشن ملتوی کرانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا، اس وقت تک عوامی تحریک یہ اعلان کرچکی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے گی، اس سے پہلے دوبار اس نے بڑے طمطراق سے الیکشن لڑا تھا کوئی انتخابی کامیابی تو اسے حاصل نہیں ہوسکی تھی البتہ سیاسی جوڑ توڑ کے کمالات کی وجہ سے ڈاکٹر طاہرالقادری کو ایک بار ایک سیاسی اتحاد کی سربراہی میسر آگئی تھی۔ اتنا ہی کافی تھا کہ بے نظیر بھٹو اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی جماعتیں اس اتحاد میں ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں کام کررہی تھیں یہ اتحاد کس طرح وجود میں آیا اس کی کہانی کئی بار ہمارے سینئر ساتھی چودھری خادم حسین اپنے کالموں میں لکھ چکے ہیں اب بھی بہتر ہے وہی قندِ مکرر کے طور پر دوبارہ اس لذیذ داستان کو بیان کردیں ہم تو صرف یہ حوالہ دے سکتے ہیں کہ عوامی تحریک نے جب سے سیاست شروع کی تھی 2002ء تک وہ صرف قومی اسمبلی کی ایک نشست جیت سکی تھی اور یہ نشست ڈاکٹر صاحب نے لاہور سے جیتی تھی، نامعلوم وجوہ کی بناء پر ان کا یہ خیال تھا کہ انہیں کوئی اہم ذے داری سونپی جائیگی، حکومت سازی کے مراحل شروع ہوئے تو وزارتِ عظمیٰ میر ظفر اللہ جمالی کے حصے میں آگئی جو مسلم لیگ (ق) کے رہنما تھے اب نہ ’’ن‘‘ میں ہیں نہ ’’ق‘‘ میں، بس اسمبلی میں ہیں، ان کی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی اور حکومت سازی کے لئے صدر پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے دو ٹکڑے کروائے تھے جن ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی سے دیرینہ تعلق توڑا تھا وہ بھی وزارتوں کے امیدوار تھے، جن آزاد ارکان نے حمایت کی تھی وہ اپنے حصے کے طلب گار تھے ایسے میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب نظر التفات نہ کی گئی تو حیرانی کی بات کیا تھی؟ چند مہینوں کے اندر اندر قومی اسمبلی کی بے روح کارروائی سے ان کا جی بھر گیا اور وہ استعفا دے کر کینیڈا چلے گئے جس کے اب وہ معزز شہری ہیں۔ ساری دنیا میں کینیڈا کے پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں کہ اس کی بڑی عزت و توقیر ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو تو بسا اوقات شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسمبلی سے مستعفی ہونے کے کچھ عرصے بعد انہوں نے اعلان کردیا کہ اب ان کی جماعت الیکشن نہیں لڑے گی اپنے اس اعلان پر وہ ’’دھرنا 2‘‘ تک قائم تھے البتہ جب یہ دوسرا دھرنا ختم ہوا تو انہوں نے دوبارہ انتخابی سیاست شروع کرنے کا اعلان کردیا جو ضمنی انتخاب لڑے وہ ہار گئی، واپس 2013ء کے الیکشن سے پہلے کے دور میں چلتے ہیں وہ جب الیکشن کے التواء کی درخواست لے کر عدالت پہنچے تو استفسار کیا گیا کہ ان کی جماعت تو الیکشن لڑ ہی نہیں رہی اس لئے یہ اب ہوں یا بعد میں، انہیں کیا فرق پڑتا ہے ان کا تو کچھ داؤ پر نہیں لگا ہوا، ان کی درخواست مسترد ہوگئی تو 2013ء کے انتخابات بروقت ہوگئے ورنہ با خبر حلقوں کو معلوم تھا کہ ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کے پردے میں وہ در اصل الیکشن ملتوی کرانے کے لئے ہی ملک میں تشریف لائے تھے، اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف دھرنا دیا اور حکمرانوں کو فرعون اور شداد کے القابات سے یاد کیا، دھرنا ختم ہوگیا، عدالت سے درخواست مسترد ہوگئی، الیکشن وقت مقررہ پر ہوگئے لیکن آج وہ آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھے تھے تو ہمارے کانوں میں ان کے وہ خطابات گھوم رہے تھے جو انہوں نے ’’دھرنا ون‘‘ میں کئے تھے اور جن میں ٹیپ کا بند فرعون اور شداد تھا۔اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ سیاست کے پہلو میں دل ہوتا ہے یا نہیں، ویسے اگر ایسا ہوتا تو سیاسی دوستیاں اور دشمنیاں کچے دھاگے سے بندھی ہوئی تو نہ ہوتیں، اب آصف علی زرداری اور ڈاکٹر طاہر القادری نئے سیاسی کزن بن گئے ہیں دیکھیں یہ ساتھ کب تک چلتا ہے، دھرنے کے دنوں میں عمران خان بھی سیاسی کزن تھے، کیا وہ اب کسی اتحاد میں آصف علی زرداری کے ساتھ ہوں گے۔ جنہیں وہ روزانہ ڈاکو کہہ کر جلسوں میں خطاب کرتے ہیں، بلاول بھٹو انہیں جعلی خان کے نام سے یاد کرتے ہیں، تو گویا اب نئے مُتبرک اتحاد میں فرعون، شداد، ڈاکو اور جعلی خان سب شانہ بہ شانہ ہوں گے اور ڈاکٹر طاہر القادری ان کے سرپرست، اے چشم بینا رکھنے والو! کیا تم عبرت پکڑو گے؟

نئی سیاسی رشتے داریاں

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...