اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 90

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 90

  

اس زمانے میں سومنات نام کا ایک بہت بڑا شہر شمالی بحیرہ عرب کے کنارے واقع تھا۔ یہ شہر سومنات کے مندر کی وجہ سے ہندوؤں کے نزدیک ایک مقدس ترین مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ برہمنوں کی کتابوں سے جو کئی ہزار سال پہلے لکھی گئی تھیں پتہ چلتا ہے کہ یہ مندر سری کرشن کے عہد سے برہمنوں کا معبد ہے اور سری کرشن نے اس جگہ دنیا اور اہل دنیا سے روپوشی اختیار کی تھی۔ لفظ سومنات، سوم اورنات سے مل کر بنا ہے۔ سوم اس مندر کا نام تھا اور نات کے معنی مالک کے ہیں۔ یہی لفظ ناتھ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ ’’سوم‘‘ اس راجہ کا نام تھا جس نے یہ مندر بنوایا تھا لیکن اتفاق سے اس زمانے میں میرا گزر ادھر سے نہیں ہوا۔

سومنات ہندوستان کے تمام ہندوؤں کے نزدیک بے حد متبرک تھا اور جب کبھی سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو یہاں تقریباً دو لاکھ تیس ہزار ہندو جمع ہوتے۔ بھجن گاتے اور نذریں چڑھاتے۔ ہندوستان کے راجاؤ ں نے اس مندر کے لئے بڑے بڑے گاؤں قصبے وقف کررکھے تھے جن کی آمدنی سے اس مندر کے اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔ سومنات کے مندر میں ہر وقت دو ہزار پجاری پوجاپاٹ کے لئے موجود رہتے تھے۔ یہ پجاری روزانہ رات کے وقت سومناک کے بت کو گنگا کے تازہ پانی سے غسل دیا کرتے۔ حالانکہ سومنات اور دریائے گنگا کے درمیان فاصلہ چھ کوس کا ہے۔ پجاریوں نے مندر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سونے کی زنجیر باندھ رکھی تھی جس کا وزن دو سو من تھا۔ اس زنجیر میں چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ پوجا پاٹ کے وقت اس زنجیر کو ہلایا جاتا اور گھنٹیاں بجنے لگتیں اور پجاری پوجا پاٹ کے لئے وقت مقررہ پہنچ جاتے۔ مندر میں پانچ سو گانے بجانے والی دیوداسیاں اور تین سو مرد سازندے موجود تھے۔ پجاریوں کے سر اور داڑھیاں مونڈنے کے لئے چار سو مرد حجام ملازم تھے۔ ہندوستان کے اکثر راجہ اپنی بیٹیوں کو سومناک کی خدمت کے لئے مندر میں بھیج دیتے۔ یہ لڑکیاں تمام عمر کنواری رہ کر مندر میں مختلف فرائض انجام دیتیں۔ مندر کی وہ خاص جگہ جہاں سومنات کا عظیم الشان بت نصب تھا وہاں کوئی شمع روشن نہیں کی جاتی تھی بلکہ ان ہیرے جواہات کی چمک سے وہاں روشنی پھیلی رہتی جو بت کے چہرے اور بازوؤں پر جڑے ہوئے تھے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 89 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہندوؤں کا یہ عقیدہ تھا کہ موت کے بعد ہندو کی روح بدن سے جدا ہوکر سومنات کی خدمت میں حاضر ہوتی ہے اور سومنات ہر روح کو اس کے اعمال و کردار کے مطابق نیا جسم عطا کرتا ہے۔ سلطان محمود کو بتایا گیا تھا کہ بت جن کو سلطان نے اپنے پہلے حملوں میں پاش پاش کیا تھا وہ ایسے بت تھے جن سے سومنات ناراض تھا اس لئے اس نے ان بتوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ ورنہ اس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ جسے چاہے برباد کرسکتا ہے۔ سلطان کو یہ بھی مخبروں نے بتایا تھا کہ برہمنوں کے اعتقاد کے مطابق سومنات بادشاہ ہے اور باقی تمام بت اس کے دربان اور مصاحب ہیں۔ اس قسم کے بے معنی اور لغو افسانوں کو سن کر ہی سلطان محمود نے سومنات کو فتح کرنے اور وہاں کے تمام بتوں کو پاش پاش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

20 شعبان 415 ھ کا دن تھا جب سلطان محمود اپنے لشکر جرار کو لے کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا۔ رمضان المبارک کے وسط میں یہ لشکر ملتان پہنچا۔ آگے ایک بے آب و گیاہ جنگل پڑتا تھا۔ سلطان نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے پاس چھ دنوں کا غلہ رکھ لے۔ اس کے علاوہ بیس ہزار اونٹوں پر غلہ اور پانی لاد دیا گیا۔ اس خطرناک جنگل کو عبور کرنے کے بعد غزنوی لشکر اجمیر شریف پہنچا تو ہواں کا راجہ محمود غزنوی کی آمد کی خبر سن کر پہلے ہی روپوش ہوچکا تھا۔ چنانچہ اس شہر کو سلطانی لشکریوں نے جی بھر کر لوٹا مگر قلعے کی تسخیر پر توجہ نہ دی گئی۔ راستے میں کچھ اور قلعے بھی آئے جس کے سپاہیوں نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دئیے۔ لشکر گجرات پہنچا تو وہاں کے باشندے خوفزدہ ہوکر شہر چھوڑ گئے تھے۔ محمود کے حکم سے اس شہر کا سارا غلہ اونٹوں پر لادا گیا اور لشکر روانہ ہوا۔ جب سلطانی لشکر سومنات کے قریب دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ سومنات کا مندر بلند قلعے پر ہے اور دریا کا پانی قلعے کی فصیل سے ٹکرا رہا ہے۔ اہل سومنات قلعے کی دیوار پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کے لشکر کو حیرت سے دیکھ رہے تھے مگر انہیں یقین تھا کہ ان کا معبود سومنات مسلمانوں کو تباہ و برباد کردے گا۔

سومنات کا تین اطراف سے محاصرہ کرلیا گیا اور مسلمانوں کے لشکر نے میدان میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اگلے روز اسلامی لشکر نے سلطان محمود کی قیادت میں سومنات کے قلعے کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ قلعے کی دیوار کے نیچے جنگ شروع ہوگئی۔ قلعے کی جانب سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ صبح و شام تک جنگ ہوتی رہی۔ بہت سے مسلمان شہید ہوگئے۔ رات کی تاریکی پھیلی تو اسلامی لشکر اپنی قیام گاہ کی طرف واپس آگیا۔ دوسرے روز قلعے کے آس پاس کے راجاؤں نے اپنے لشکر بھیج کر مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ طرفین میں گھمسان کا رن پڑا اور ہندو لشکر بھاگ گیا۔

سومنات کا محاضرہ جاری رہا۔ سومنات کا قلعہ بے حد بلندی پر تھا اور اوپر سے تیروں اور نیزوں کی بوچھاڑیں آتیں اور کھولتا ہوا تیل پھینکا جاتا قلعے کا دروازہ پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا اور بیچ میں سوراخ رکھ کر ان میں ایک ایک من کے وزنی نوکدار نیزے جڑدئیے گئے تھے جنہوں نے ہاتھیوں کو زخمی کردیا۔ ایک رات سلطان محمود نے مجھے طلب کیا اور کہا

’’تم ان لوگوں کی زبان اور رسم و رواج سے واقف ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم دریا کی طرف سے قلعے پر حملہ آور ہوں تو قلعے کو فتح کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں قلعے کی دیوار کے کسی کمزور پہلو کا علم ہو تم کسی طرح قلعے کے اندر داخل ہوکر ہمیں اس کمزور پہلو کی خبر دے سکتے ہو؟‘‘

قلعے کی اندرونی نشیب و فراز سے میں بھی بے خبر تھااور مجھے وہی کچھ معلوم تھا جو میں برہمنوں کی پرانی کتابوں میں پڑھ چکا تھا لیکن میں نے حامی بھرلی اور سلطان سے اجازت لے کر رات کے اندھیرے میں قلعے کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں نے ہندو برہمنوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔ ماتھے پر رام نام کا ٹیکا لگا رکھا تھا۔ گیروے کپڑے اور جینو پہن کر ہاتھ میں ترشول رکھ لیا تھا۔ میں دریا کے کنارے کنارے چلا جارہا تھا۔ میرے پاس سوائے اپنے دوست سانپ قنطور کے مہرے کے اور کچھ نہیں تھا۔ دریا قلعے کے عقب میں جاکر بائیں جانب چٹانوں کی طرف مڑجاتا تھا۔ یہاں میں نے دریا میں چھلانگ لگادی اور تیرتا ہوا چٹانوں میں جاکر چھپ کر بیٹھ گیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ مشرق میں جب سپیدہ سحر نمودار ہوا تو میں دریا میں اتر گیا اور قلعے کی دیوار کی طرف تیرنے لگا۔

اس وقت مجھے قلعے کی فصیل پر کھڑے سومنات کے مندر کے ہندو دکھائی دے رہے تھے جو پہرے پر تھے کہ اگر اسلامی لشکر دریا کی طرف سے حملہ آور ہو تو سب کو خبردار کردیں۔ انہوں نے مجھے دریا میں تیرتے اور قلعے کی فصیل کی جانب آتے دیکھا تو مجھ پر تیر برسانے لگے۔ میں نے ترشول والا ہاتھ فضا میں بلند کرکے والبشیلم ویدوں کے اشلوک بلند آواز میں پڑھنے شروع کردئیے اور کہا کہ میں والبشیلم راجہ کے دربار کا برہمن منتری ہوں مجھے بچاؤ۔ میں ڈوب رہا ہوں۔ میرا ترشول، ماتھے کا ٹیکہ اور میرے اشلوک سن کر فصیل کے ہندو آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ ظاہر ہے کہ انہیں یہی خدشہ تھا کہ میں مسلمانوں کا جاسوس تو نہیں ہوں۔ ان میں ایک پنڈت پجاری بھی تھا اس نے میرے سنسکرت کے قدیم ودک اشلوک سنے تو اوپر سے رسے کی سیڑھی لٹکادی۔

سیڑھی کے ذریعے میں اوپر قلعے کی فصیل پر پہنچا تو انہوں نے مجھے گرفتار کرلیا اور وہیں ایک پردے میں لے جاکر برہمن پنڈت نے میرا طبعی معائنہ کیا۔ عباسی عہد میں مَیں نے جب اسلام قبول کیا تو اسوقت مختون نہیں تھا۔ جس کی وجہ سے سومنات کے ہندوؤں کا شک رفع ہوگیا اوپر سے میری سنسکرت دانی اور اشلوک پڑھنے کے باعث انہیں یقین ہوگیا کہ میں سلطان محمود کی فوج کا جاسوس نہیں ہوں۔ میں نے گھڑی گھڑائی کہانی بیان کردی۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 91 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -