باجی مسعودہ کا تھپڑ

باجی مسعودہ کا تھپڑ
باجی مسعودہ کا تھپڑ

  

اگرچہ باجی مسعودہ اس دُنیا میں نہیں رہیں، لیکن مجھے نہ وہ بھولیں اور نہ ان کا تھپڑ۔یہ میری باجی مسعودہ کون تھیں؟ یہ سارا معاملہ اگرچہ ذاتی ہے،لیکن مَیں اپنا یہ تعلق اور دُکھ آپ سے شیئر کر کے اپنا غم ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔وہ مجھ سے کافی بڑی، میری پھوپھی زاد بہن تھیں،لیکن مرتبے کے اعتبار سے وہ میری دوسری ماں جیسی تھیں۔ان کا مَیں نے اوکاڑہ میں عروج کا دور بھی دیکھا تھا اور پھر ان کے زوال کا منظر بھی دیکھا، جب وہ بیوہ ہو کر برج جیوے خان میں اپنی جاگیر سے بے دخل ہو کر اوکاڑہ شہر میں اپنے چھوٹے بھائی میاں منیر (سابق پارلیمانی سیکرٹری) کے گھر منتقل ہو گئیں۔ان کے عروج کے دور کے بارے میں چک48 تھری آر کے زمیندار،میرے دوست اور کزن عبدالواحد نے ایک مرتبہ شہر میں ان کے گھر میں یہ کہا تھا کہ ایک وقت تھا،جب اوکاڑہ میں سورج بھی ان سے پوچھ کر چڑھتا تھا۔وہ بیمار تھیں اور مَیں امریکہ سے اوکاڑہ آیا تھا اور میرا مقصد ان کا حال دریافت کرنا بھی تھا۔

.

اوکاڑہ شہر میں ہمارے گھرانے کے برج جیوے خان میں میری اس پھوپھی کے گھر سے خصوصی تعلقات تھے،جن کی سب سے بڑی صاحبزادی باجی مسعودہ تھیں۔ان کی چھوٹی بہن نسرین،جو اب ڈسٹرکٹ کونسل اوکاڑہ کے سابق وائس چیئرمین اور منظور وٹو کے قریبی ساتھی میاں فضل الٰہی کی بیوہ ہیں،بچپن میں ہمارے گھر رہیں اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جب وہ تعلیم حاصل کر کے واپس گاؤں جانے لگیں تو تب مجھے پتہ چلا کہ وہ ہماری سگی بہن نہیں،بلکہ پھوپھی زاد تھیں۔ان کی چھوٹی بہن زرین میرے بھائی سیف مرحوم کی بیوہ ہیں۔میاں منیر ان سب کے چھوٹے بھائی ہیں، جن کو سیاست کی وجہ سے سب جانتے ہیں۔

اس تفصیل سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس پھوپھی کے گھر سے ہمارا کتنا گہرا تعلق تھا،لیکن اس سے بھی بڑھ کر ذاتی طور پر میرا باجی مسعودہ سے لاڈ پیار کا ایک الگ ہی رشتہ تھا۔ان کی شادی ان کے والد کے ایک کزن میاں نذیر احمد سے ہوئی،جو برج کے دبنگ جاگیردار تھے۔ وہ میاں عبدالحق کے چھوٹے بھائی تھے،جن کا لندن میں پاکستان کا خاکہ پیش کرنے والے طلبہ کے گروہ میں اہم کردار تھا۔اس تنظیم میں نواب کالا باغ،خواجہ عبدالرحیم، چودھری رحمت علی اور نواب یامین جیسے طالب علم شامل تھے۔ ایوب خان کے دور میں جب نواب آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے تو اس وقت ان کے قریبی دوست میاں عبدالحق ساہیوال میں ملک غلام جیلانی(حنا جیلانی اور عاصمہ جہانگیر کے والد) کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن اور پھر پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ میاں نذیر احمد اوکاڑہ شہر سے منتخب تو صوبائی اسمبلی کے رکن ہوئے،لیکن گورنر سے براہِ راست تعلق کی بناء پر شہر میں ان کا طوطی بولتا تھا۔

تب میرا سکول کا زمانہ تھا اور مَیں باجی مسعودہ کا ”دُم چھلا“ ہونے کے سبب دونوں میاں بیوی کے سیاسی اور خاندانی دوروں میں عموماً ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔اوکاڑہ میں کرپا رام کے کارخانے سے موسوم ایک چھوٹی سی آبادی میں ظفر اقبال(شاعر) کا گھر تھا،جن کی بیگم اور آفتاب اقبال (آپ ٹی وی) کی والدہ شمع باجی،باجی مسعودہ کی گہری سہیلی تھیں، جہاں مَیں کئی بار باجی کی وجہ سے ان کے گھر گیا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا جب مَیں اوکاڑہ سے میٹرک کر کے گورنمنٹ کالج ساہیوال میں داخل ہوا اور پاکستان کے اس انتہائی خوبصورت اور وسیع و عریض کالج کے انتہائی عقب میں واقعہ ہوسٹل میں رہائش اختیار کر لی۔ اس دوران میاں نذیر احمد اور باجی مسعودہ بھی ساہیوال آ گئے اور شہر میں میاں عبدالحق کی تاریخی کوٹھی میں رہنے لگے۔ اس کوٹھی میں لان کی طرف واقع ایک کمرے پر میاں عبدالحق کا تالا لگا تھا، جب بھی وہ ساہیوال آتے تو اس کمرے کو استعمال کرتے،باقی تمام کوٹھی میاں نذیر احمد کے تصرف میں تھی۔ باجی مسعودہ کو پتہ تھا کہ مَیں ہوسٹل میں رہ رہا ہوں۔انہوں نے آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ مجھے نوٹس دیا کہ مَیں حساب کتاب کر کے ہوسٹل سے فارغ ہو کر ان کے ساتھ کوٹھی میں آ جاؤں۔مَیں نے سامان پیک کیا۔میاں نذیر احمد باجی مسعودہ کے ہمراہ خود جیپ چلا کر ہوسٹل پہنچ گئے اور مَیں ان کے ساتھ چلا آیا، جہاں انہوں نے میاں عبدالحق کے کمرے کے سامنے والا کمرہ مجھے دے دیا۔وہ سال بھر ساہیوال میں رہے، اس دوران مَیں بھی وہیں رہا، باجی کا حکم تھا کہ جتنا عرصہ وہ ساہیوال میں ہیں،مَیں ان کے پاس رہوں گا۔اگلے سال وہ واپس برج چلے گئے تو مَیں پھر ہوسٹل شفٹ ہو گیا۔

وقت گزرتا رہا اور مَیں ایف سی کالج لاہور سے بی ایس سی کر کے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے شعبہ صحافت میں داخل ہو کر ہوسٹل میں رہ رہا تھا۔اس وقت باجی مسعودہ خاندان کی چند اور لڑکیوں کے ہمراہ لاہور آئیں اور چند روز کے لئے اپنی کسی سہیلی کے ہاں ٹھہر گئیں۔دن کے وقت مال روڈ اور اس کے آس پاس ان کو گھمانے کی میری ذمہ داری تھی۔ایک روز وہ مال روڈ پر کسی جگہ رکیں اور انہوں نے مجھے ساتھ والی عمارت سے کچھ لینے بھیجا۔مَیں جا کر کچھ اور خریدنے لگ گیا اور دیر ہو گئی۔ جب مَیں واپس آیا تو وہ وہاں نہیں تھے،مَیں ان کو دیکھنے کے لئے پھر اِدھر اُدھر چل پڑا۔ بالآخر مَیں نے ان کو دیکھ لیا۔مَیں جلدی جلدی ان کے پاس پہنچا۔باجی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ جونہی مَیں قریب گیا تو انہوں نے زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا اور غصے کے عالم میں زور زور سے مجھے صلواتیں سنائیں۔مَیں گال سہلاتا ہوا مسکراتا رہا، میرے ساتھ پہلی مرتبہ انہوں نے یہ یادگار سلوک کیا اور باجی مسعودہ کا یہ تھپڑ آج تک نہیں بھول سکا۔

مَیں نے اپنے ماں باپ سے کبھی مار نہیں کھائی تھی،لیکن میری یہ عزت افزائی صرف باجی مسعودہ کے حصے میں آئی۔پھر حالات تبدیل ہوئے۔ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔میاں نذیر احمد نے دوسری شادی کر لی،جن سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔اِس دوران ان کا قتل ہو گیا اور باجی مسعودہ برج جیوے خان کی حویلی چھوڑ کر اوکاڑہ شہر میں میاں منیر کے گھر آ کر رہنے لگیں۔وہ بہت ہنس مُکھ اور ملنسار تھیں،جہاں جاتیں رونق پیدا کر دیتیں۔خاندان میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا،لیکن اپنی حویلی چھوڑ کر شہر آئیں تو بجھی بجھی سی رہنے لگیں۔اولاد نہ ہونے کے سبب زیادہ تر جائیداد دوسری بیوی اور بیٹے کو مل گئی۔اتنے عیش و آرام کے بعد معمولی سی زرعی زمین پر گزر بسر شروع کی تو شاید ان کا دِل ٹوٹ گیا تھا، بیماریوں نے گھیر لیا اور پھر اچانک دُنیا سے رخصت ہو گئیں۔

مجھے یاد ہے جب مَیں بھانجیوں بھتیجوں کے گروپ کے ساتھ ساتھ ان کے سمیت بڑوں کے لئے تحفے اور پیسے لے کر آتا تو ان کے سامنے ڈھیر کر دیتا تھا۔ وہ یہ فیصلہ کرتیں کہ کس کو کون سا تحفہ دینا ہے اور ساتھ کتنے پیسے دینے ہیں۔جب وہ تقسیم کر چکی ہوتیں تو پھر مَیں ان کے لئے پیسے نکالتا۔پہلے وہ بے تکلفی سے پوچھتیں تمہارا خرچ تو کم نہیں ہو جائے گا؟پھر شوق سے یہ کہہ کر بالکل ماؤں کی طرح وصول کر لیتیں کہ یہ زمان کی حق حلال کی کمائی سے میرا حصہ ہے۔چند سال قبل مَیں نے اپنے بھائی سیف کی رحلت پر شہر میں اپنے دوسرے گھروں کی بجائے دُعا کا اہتمام گاؤں میں کرایا تو باجی مسعودہ اپنی علالت کی وجہ سے وہاں نہ پہنچ سکیں۔چند ماہ قبل مَیں نے اپنے بھائی سلطان کی جدائی پر اس کے لئے دُعا کا اہتمام شہر میں اس کے گھر میں کرانے کا سوچا۔اس دُعا کے انتظام کے لئے میرا بھتیجا سلمان اور بھانجا ناصر مل کرکام کر رہے تھے اور مَیں پاکستان پہنچنے کی تیاریاں کر رہا تھا کہ باجی مسعودہ کے دُنیا سے رُخ موڑنے کی تکلیف دہ خبر سن لی۔

اس طرح جس دَُعا کا اہتمام کیا جا رہا تھا، اس میں باجی مسعودہ کا نام بھی شامل ہو گیا۔واپس امریکہ پہنچ کر جب مَیں باجی کے لئے یہ چند سطریں لکھنے بیٹھا اور تحریر کے آخر میں خود سے پوچھنے لگا کہ کیا مَیں نے ان کے لئے دُعا کا اہتمام کر کے اور ان کے لئے یہ ماتمی کالم لکھ کر ان کی شفقت کا بدلہ چکا دیا جو وہ بے لوث مجھ پر نچھاور کرتی رہیں؟ مجھے فوراً ہی جواب مل گیا،رتی بھر بھی نہیں! وہ میری امی کی بہت دلدادہ تھیں۔ باجی مسعودہ کبھی اپنے خاوند پر ناراض ہوتیں تو اپنی امی،یعنی ہماری پھوپھی کی بجائے میری امی کے پاس آ کر پناہ حاصل کرتیں۔ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور کزنوں کا خیال بھی بہت رکھتیں،لیکن رعب بھی بہت جھاڑتیں،مجھ پر اُن کی خاص شفقت تھی اور اس کے ساتھ ساتھ مَیں ان کے غصے کا بھی آسان نشانہ بن جاتا تھا۔مجھے باجی مسعودہ کبھی بھول سکتی ہیں اور نہ کبھی ان کا تھپڑ۔

مزید :

رائے -کالم -