سموگ

سموگ
سموگ

  

آج کل ڈینگی کے بعد ایک آفت،جس کا نام سموگ ہے، کا بہت چرچا ہے۔چند سال پہلے شروع ہونے والی یہ آفت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر سال اس کے سد ِباب کے دعوے کئے جاتے ہیں، مختلف میٹنگز اور اجلاس ہوتے ہیں، لیکن اس کا حل ابھی تک نہیں ملا۔ اس آفت سے بچوں اور بوڑھوں کی تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ آلودہ فضا میں سانس لینا سخت تکلیف دہ اور صحت کے لئے بھی ٹھیک نہیں۔اس سے دمہ کے مریضوں کی تکلیف بھی بڑھ جاتی ہے۔بچوں کے سکول بند ہونے سے پڑھائی پر اثر پڑتا ہے، لیکن پڑھے لکھے احباب اختیار اس کا حل نہیں نکال پا رہے۔کبھی اس کا الزام ہندوستان کے لوگوں کی فصلیں جلانے کو دیا جاتا ہے تو کبھی ملک میں آلودگی پھیلانے والے آلات کو۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی سے کام لینا چاہئے اور اس کے عناصر کو کنٹرول کرنے کی پلاننگ کرنی چاہئے۔آج تک فصلیں جلانے کے علاوہ،اینٹوں کے بھٹے، دھواں پھیلانے والی فیکٹریاں، گاڑیاں اور گندگی کے نالے سر فہرست ہیں۔اگر کسان فصلوں کو جلا کر تلف کر کے آلودگی پھیلا رہے ہیں تو ہمارے احباب اختیار آج تک اس کا کیا آسان حل دے سکے ہیں۔

ظاہر ہے کہ زراعت کی اگلی فصل لینے کے لئے ان چیزوں کو جلد تلف کرنا ضروری ہے، ورنہ اگلی فصل حاصل کرنا مشکل ہو جائیگا۔ہمارے ملک میں بہت سے ایسے دماغ موجود ہیں،جو اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں، صرف اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اینٹوں کے بھٹوں کے بارے میں تبدیل شدہ ٹیکنالوجی پر زوردیا جا رہا ہے اور صرف سموگ کے سیزن میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کی باتیں ہو رہی ہیں۔کیا اس ٹیکنالوجی کے بغیریہ موسم گزرنے کے بعد جب بھٹے چلیں گے تو وہ آلودگی نہیں پھیلائیں گے؟اس وقت اس ٹیکنالوجی کے علاوہ آگ جلانے والے…… Raw Material ……کو بھی ایسا ہونا چاہئے کہ اس سے دھواں کم اُٹھے۔ آلودگی پھیلانے میں زیادہ حصہ ٹائروں کے جلانے سے ہوتا ہے۔اس کے استعمال پر قابو پانا ضروری ہے۔ کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں ایسے پاور جنریشن ہاؤس لگائے جا رہے ہیں جو ڈیزل،فرنس آئل اور کوئلے سے چلتے ہیں۔چاہے جتنی بھی کوشش کی جائے اس سے آلودگی کو صفر تک نہیں لا سکتے۔ پاکستان میں جو نہری نظام ہے، اس پر اگر توجہ دی جائے تو نہروں پر سروے کر کے گرین انرجی حاصل کی جا سکتی ہے، چھوٹے چھوٹے یونٹ اس کے لئے بہت کار آمد ہوتے ہیں۔

سردیوں میں سموگ کا زیادہ زور ہوتا ہے، اس وقت پانی بھی کم ہوتا ہے، ہائیڈل بجلی کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک میں شوگر ملیں ایک خاص تعداد میں لگی ہوئی ہیں، ان کی…… Waste ……بگاس ہوتی ہے جو ضائع کی جاتی ہے۔ایک ٹیکنالوجی کے تحت اس ……Waste ……سے مختلف شوگر ملز نے بجلی پیدا کرنی شروع کر دی ہے جو ایک طرف آلودگی سے پاک ہے تو دوسری طرف جب ہائیڈل کی سستی بجلی نہیں ہوتی،اس کو متبادل کے طور استعمال کیا جا سکتا ہے۔چند شوگر ملز ملک کی معیشت میں ایک اچھی مقدار میں بجلی شامل کر رہی ہیں، اس میں ایک طرف تو ان شوگر ملز کے…… Over Heads…… کم ہوتے ہیں اور انڈسٹری کی پیداوار بڑھتی ہے، بلکہ یہ فرنس آئل وغیرہ سے بہت سَستی ہوتی ہے۔اس سے ہمارا…… Import ……بل بھی کم ہوتا ہے۔بگاس سے بجلی پیدا کرنے کے لئے مختلف شوگر ملز نے پلانٹ لگانے کے پرگرام بنائے۔

بینکوں سے قرضے لے کر مشینری بھی درآمد کر لی، لیکن چند لوگوں کی ہٹ دھرمی اور ناسمجھی سے ان کوپیداوار سے روک دیا گیا ہے۔کہا یہ جا رہا ہے کہ اس کے لئے پلانٹ لگانے کا طریق کار بدل دیا گیا ہے۔ اب نئے سرے سے وہ اپلائی کر کے لائسنس حاصل کریں،لیکن وہ انڈسٹری جو مشینری لا کر کروڑوں کی سرمایہ کاری کر چکی ہے، اس کے لئے یہ سہولت عذاب بن رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ملک میں صنعتی سرمایہ کاری میں سہولتیں مہیا کرے گی، لیکن یہاں پر جن صنعتوں نے اس پر سرمایہ کاری کی ہے، وہ پھنس گئی ہیں، ان کی سرمایہ کاری پر خاصہ سود چڑھ گیا ہے۔سمجھ نہیں آتا کہ مقابلے کی سرمایہ کاری کہاں سے آئی، شوگر ملز کے مالکان نے ہی اپنی مل میں پاور پلانٹ لگا نے ہیں نہ کہ دوسری انڈسٹری نے۔حکومت وقت کو اس وقت تو ان کی فوری مدد کرنی چاہئے اور سود کی مد میں بغیر وجہ کے جو رقم وہ دے رہے ہیں، اس کا سدباب کر کے فوری طور پر یہ پاور پلانٹ چلانے کی راہ ہموارکرنی چاہئے۔ اس وقت بھی 200 میگاواٹ کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں اور ان کی مشینری آچکی ہے، یہ پروڈکشن ایسی نعمت ہو گی جو نہ صرف آلودگی کو کم کرے گی، بلکہ سَستی بھی ہو گی۔اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے،بلکہ دوسری ایسی سکیمیں،جو سبز توانائی لا سکتی ہیں، ان کو سہولتیں دینی چاہئیں۔ جس میں سولر انرجی ایک بہت بڑا جزو ہے۔

سموگ کے حوالے سے ٹرانسپورٹ کا دھواں ایک بہت بڑا عنصر ہے۔تما م بڑے شہروں میں عموماً اور لاہور میں خصوصاً چنگ چی رکشا جو صرف لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں ہونے کی وجہ سے دھوئیں کے بادل پھیلاتا ہے۔یہ نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے،بلکہ ٹریفک کی خلاف ورزی کر کے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پیدا کرنا ہے۔نہ تو ان کے پاس ڈرائیونگ کا لائسنس ہوتاہے اور نہ ہی روٹ پرمٹ۔ اوپر سے وہ ون وے اور اشارے کی خلاف ورزی کرنے کو بُرا نہیں سمجھتے، بلکہ دلیری سے وہ یہ خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔اگر ان رکشوں کو ایک طرف تو لائسنس کے ساتھ آرگنائز کیا جائے تو دوسری طرف پٹرول سے بیٹری پر لایا جائے، اسی طرح اس کے متبادل مختلف شہروں میں گورنمنٹ کی ائیر کنڈیشنڈ بسیں انہی روٹوں پر خالی جاتی ہیں، ان میں کارڈ سسٹم کی بجائے کوئی دوسرا طریق کار اپنایا جائے۔ایک ایسی سہولت جو صرف مسافروں کو عزت سے اپنے مقام تک لے جا سکتی ہے، آسان بنا کر نہ صرف آلودگی کم کی جائے، بلکہ گورنمنٹ کی آمدنی بھی بڑھائی جائے۔

آلودگی کا ایک بہت بڑا جزو کھلے گندے نالے اور…… Waste Dumping ……سٹیشن ہیں۔ ایک طرف تو یہ گندہ نالہ چوبیس گھنٹے مضر صحت گیس فضا میں چھوڑتا ہے۔ اس میں اضافہ مختلف مقامات پر گورنمنٹ کے فکس کردہ کوڑوں کے ڈھیرسے ہوتا ہے۔ ایک اہم چیز جو اس آلودگی اور سموگ میں کمی کر سکتی ہے، وہ نرسری (قاعدہ) سے لے کر میٹرک تک تمام سکولوں میں صفائی اور حفظان صحت کی تعلیم دینا،ان کے اُصولوں پر عمل کرانا اور گندگی کو مقرر کردہ جگہ پر ڈھیر کرنا ہے۔ اگرچہ یہ کام لمبی پلاننگ مانگتا ہے، لیکن ملکوں کی تقدیریں دنوں میں نہیں بدلتیں اس کے لئے دونوں طرح کی، یعنی کم مدتی پالیسی اور لمبے عرصے کی پالیسی کی از حد ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایاہے، اس میں اس وقت یہ بھی ایک اہم جزو ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ لوگوں کو مواقع دیئے جائیں کہ ملک کی خدمت میں حصہ ڈال سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -