عمران خان وہ پہلا وزیراعظم ہے جو کم ازکم حوصلہ تو دیتا ہے لیکن کیا مہنگائی کا خاتمہ موجودہ دور حکومت میں ممکن ہے یا نہیں؟ سینئر صحافی نے سارا ماجرا بیان کردیا

عمران خان وہ پہلا وزیراعظم ہے جو کم ازکم حوصلہ تو دیتا ہے لیکن کیا مہنگائی کا ...
عمران خان وہ پہلا وزیراعظم ہے جو کم ازکم حوصلہ تو دیتا ہے لیکن کیا مہنگائی کا خاتمہ موجودہ دور حکومت میں ممکن ہے یا نہیں؟ سینئر صحافی نے سارا ماجرا بیان کردیا

  



لاہور(کالم: نسیم شاہد) کپتان نے پھر کہا ہے ……”گھبرانا نہیں ہے“۔ پہلا وزیراعظم ہے جو کم از کم حوصلہ تو دیتا ہے۔ صرف مہنگائی ایک ایسی برائی ہے، جس کا سوچ کر ہی عوام گھبراتے ہیں۔ عوام کی روٹی دال چلتی رہے تو انہیں گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے: ”جیدے گھردانے اودے کملے وی سیانے“ ……اس کا اُلٹ مطلب یہ ہے کہ جس کے گھر کھانے کو نہ ہو، وہ عملاً پاگل ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کا توڑ تو حکومت کوئی کر نہیں رہی،روزانہ کے حساب سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ لوٹے ہوئے کتنے ڈالر واپس آ رہے ہیں؟ انہیں تو صرف اس بات سے غرض ہے کہ ان کے روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی ہو جائیں۔ یہ کام تو حکومت سے ہو نہیں رہا، بس عمران خان کا ایک بیان آ جاتا ہے…… ”آپ نے گھبرانا نہیں ہے“…… اب اس بیان سے کیا بھوکوں کا پیٹ بھر سکتا ہے، کیا محدود آمدنی میں گزارا کرتے عوام کو کوئی ڈھارس مل سکتی ہے؟

اس کا جواب کوئی بھی دینے کو تیار نہیں ……البتہ عمران خان نے اب یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں گڈ گورننس کی سمجھ آ گئی ہے۔ کیا واقعی سمجھ آ گئی ہے، کیا انہوں نے گڈ گورننس کا واقعتاً کوئی نسخہ حاصل کر لیا ہے؟ اس بارے میں خاموشی ہے۔ شاید ان کا مطلب یہ ہے کہ بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کرکے اور اچھے افسروں کو لگا کر وہ گڈ گورننس کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ کیا یہ بات اتنی ہی سادہ اور آسان تھی کہ ”اچھے افسروں کو لگاؤ اور گڈگورننس دو“…… جو افسران لگائے گئے ہیں وہ کون سا آسمان سے اترے ہیں، ہیں تو وہ بھی زمین کی مخلوق، اسی بیورو کریسی کا حصہ ہیں، پھر یہ کیسے یقین کر لیا جائے کہ ان کے آنے سے گڈ گورننس بھی آ جائے گی؟

حکومت اگر اپنی پالیسیاں نہ بدلے، سیاسی عزم ظاہر نہ کرے، سخت میرٹ کو نہ اپنائے، کڑے فیصلے نہ کرے تو تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟ یہی افسران ہیں، جنہیں بار بار کہا گیا ہے کہ وہ ناجائز منافع خوروں پر نظر رکھیں، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ کریں، مگر یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان کی وہی چال بے ڈھنگی ہے، جو پہلے تھی۔ دفتروں میں بیٹھ کر رپورٹیں بناتے ہیں اور بیان جاری کرکے سرخرو ہو جاتے ہیں۔ عوام کو کہیں گورننس نظر آئے گی تو وہ کہیں گے کہ گورننس اچھی ہوئی ہے۔ اگر انہیں لگے گا کہ ہر طرف ”اندھیر نگری چوپٹ راج“ کی صورتِ حال ہے تو عمران خان کے اس بیان سے ان کی تشفی نہیں ہوگی کہ گڈگورننس کی انہیں سمجھ آگئی ہے۔

حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ایک لٹر پٹرول پر 35روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی بُری صورت حال بجلی کی ہے، جس پر بجلی کی قیمت سے زیادہ تو مختلف قسم کے ٹیکس وصول کئے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی مہنگائی مافیا سے عوام کو بچانا چاہتی ہے تو ٹیکسوں کے نام پر لوٹ مار بھی کم کرے۔

عمران خان خوش قسمت ہیں کہ ہر مشکل صورت حال سے نکل جاتے ہیں اور اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے۔ اصل میں عوام کے اندر ابھی تک عمران خان کے حوالے سے ایک امید موجود ہے۔ اس امید کی وجہ سے ہی وہ عمران خان کا یہ جملہ بھی خوش دلی سے برداشت کر لیتے ہیں کہ عوام نے گھبرانا نہیں۔ اپوزیشن اس وقت بالکل بے بس نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے ایک بڑا شو کرنے کے بعد اپوزیشن فی الحال تھکی ہوئی لگ رہی ہے۔ اب اِن ہاؤس تبدیلی کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔ گویا عوام کو سڑکوں پر لانا اپوزیشن کے بس کا روگ نہیں رہا۔ یہ صورت حال پی ٹی آئی کے لئے اطمینان بخش ضرور ہے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکومت کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ اب موجودہ حکمرانوں کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو چکا ہے۔

انہیں عوام کو ریلیف دینے کی طرف آنا ہو گا۔ یہ ریلیف امن و امان کی شکل میں بھی چاہیے اور مہنگائی سے نجات کی صورت میں بھی۔ مہنگائی سے مراد صرف اشیاء کی مہنگائی نہیں، بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار کی شکل میں بھی عوام کو ریلیف چاہیے۔ سرکاری ہسپتالوں میں تمام ادویات ختم کرکے اور ہر قسم کے ٹیسٹوں کی فیسیں مقرر کرکے حکومت نے جو نیا بوجھ ڈالا ہے، وہ بہت ناگوار گزرتا ہے، کیونکہ انہی ہسپتالوں میں عوام کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں میسر آتی تھیں، اب ہر قدم پر معاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ خالی خولی باتوں سے عوام کا دل نہیں بہلایا جا سکتا، عملی اقدامات کی ضرورت ہے، جو نہیں کئے جا رہے۔ اب حکومت کے معاشی منیجرزیہ نوید سنا رہے ہیں کہ موجودہ مہنگائی پر قابوپانے کے لئے تین سے چار سال درکار ہوں گے۔ گویا اس حکومت کے دور میں تو عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ اگلی بار جب یہ دوبارہ حکومت بنائے گی تو شاید کوئی ریلیف دے سکے؟

ہر حکومت شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں بناتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کو فوری نوعیت کا ریلیف بھی دیا جا سکے اور لانگ ٹرم پالیسی کے ذریعے اصلاحات بھی کی جائیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت پندرہ ماہ کی مدت گزر جانے کے باوجود کسی شعبے میں بھی کوئی ریلیف نہیں دے سکی۔ بس ایک ہی کارنامہ گنوایا جاتا ہے کہ ”کسی لٹیرے کو نہیں چھوڑیں گے، کوئی این آر او نہیں دیں گے“…… بجلی تاریخ کی بلند ترین سطح پر مہنگی ہے۔ آئے روز اس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس ملا کر ایک یونٹ 20سے 22روپے کا پڑتا ہے۔ عام سے گھروں کا بل ہزاروں روپے کا آتا ہے۔

یہ درست ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے، مگر اب تو لوڈشیڈنگ غریب عوام کو نعمت محسوس ہو رہی ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی بجلی کم خرچ ہوتی تھی اور بل بھی کم آتا تھا۔ اب تو لگاتار بجلی استعمال ہوتی ہے اور بجلی کا بل آتا ہے تو ہر شخص اسے دیکھتے ہوئے گھبرا جاتا ہے۔ یہ خوشخبریاں تو تسلسل سے سنائی جا رہی ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو گیا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، مگر عوام کو اس کے اثرات کہیں نظر نہیں آ رہے۔ پٹرول کی قیمت میں صرف پانچ پیسے کمی کرکے لوگوں کی بے چارگی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

اس پر تو لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ”ہم پریہ احسان جو نہ کرتے تو یہ احسان ہوتا“…… سوروپے چھین کر دس روپے پکڑا دینا کیا خوشی دے سکتا ہے؟……”ہنوز دلی دور است“…… نجانے کب وہ لمحات آئیں گے جب عوام سکھ کا سانس لیں گے، ابھی تو وہ ہرروز دھڑکتے دل کے ساتھ بازار جاتے ہیں اور ہر نئے دن کے ساتھ انہیں یوں لگتا ہے، جیسے وہ لٹیروں کے حصار میں ہیں اور انہیں کوئی بچانے والا نہیں۔ عمران خان صاحب! عوام نے تو گھبرانا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اب گھبراہٹ کی ہمت بھی نہیں رہی، مگر آپ آئے روز انہیں یہ کہہ کر ”گھبرانا“ یاد دلا دیتے ہیں۔

آپ نے پورے پنجاب کی بیورو کریسی تو بدل دی ہے،کیا اس پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام بھی وضع کیا ہے؟ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو کیا اہداف دیئے ہیں، ان اہداف کی تکمیل کے لئے کون سا مانیٹرنگ نظام بنایا ہے؟ اگر پہلے کی طرح مکھی پر مکھی ہی مارنی ہے تو پھر اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بیورو کریسی نیب سے گھبرا جائے تو آپ کو فوراً اس کی گھبراہٹ کے سدباب کا خیال آ جاتا ہے۔ عوام گھبراہٹ کا شکار ہوں تو آپ انہیں تسلی دے کر ٹال دیتے ہیں۔ اب کچھ عملی اقدامات بھی کریں، تاکہ عوام کی گھبراہٹ واقعتاً دورہو سکے، کیونکہ اب تو انہیں ہر وقت دھڑکا ہی لگا رہتا ہے۔

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...