لیگی رہنما سہیل ضیاء بٹ، شریف فیملی کے رشتہ دار لیکن دراصل کس کے کہنے پر انہوں نے ن لیگ میں شمولیت کی تھی؟ کالم نویس نے بھانڈا پھوڑ دیا

لیگی رہنما سہیل ضیاء بٹ، شریف فیملی کے رشتہ دار لیکن دراصل کس کے کہنے پر ...
لیگی رہنما سہیل ضیاء بٹ، شریف فیملی کے رشتہ دار لیکن دراصل کس کے کہنے پر انہوں نے ن لیگ میں شمولیت کی تھی؟ کالم نویس نے بھانڈا پھوڑ دیا

  



لاہور (کالم: احمد جواد بٹ)صوبائی دارلحکومت میں یوسف صلاح الدین اور سہیل ضیاء بٹ میں کافی سے زیادہ اقدار مشترک ہیں۔ دلچسپ، عوامی اور زندہ دل! آج ہم صرف سہیل ضیاء بٹ کے بارے میں اظہار خیال کریں گے، جو میاں یوسف صلاح الدین کی طرح لاہور میں اپنی ایک خاص شناخت رکھتے ہیں۔ کوچہء سیاست میں ان کا نام اول اول 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ وہ اس سے پہلے لاہور میٹرو پولٹین کارپوریشن کے ممبر منتخب ہوئے،پھر وہ پہلی بار ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے!…… اسی دہائی میں ہی ایک پارٹی ”پاکستان نیشنل فرنٹ“ کا نام بھی گونجا، جو لاہور کی فضاؤں سے باہر پنجاب کی سطح پر سنا گیا،تاہم سابق وزیراعظم پاکستان محمد خان جونیجو مرحوم کی خواہش پر ہمارے ممدوح ”پاکستان مسلم لیگ“ کے ہو گئے۔یہ پاکستان مسلم لیگ جنرل ضیاء الحق کے عہد میں تخلیق ہوئی، اور بظاہر محمد خان جونیجو کو اس کا بانی کہا جا سکتا ہے۔

میدانِ سیاست میں سہیل ضیاء بٹ کی خوش قسمتی اور بدقسمتی سب ایک ہی فیملی سے ہے۔ ”شریف فیملی“! موصوف اس فیملی سے قریبی رشتہ داری رکھتے ہیں، لہٰذا انہوں نے سیاسی سفر میں جو کچھ بھی پایا، ان کے کھاتے میں جمع ہوتا رہا اور جوکھویا، وہ ان کا اپنا اکاؤنٹ ٹھہرا۔ ایک دور میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے جا رہے ہیں۔ تبھی تو ”انوار سہیل ضیاء“ کا حوالہ وضع ہوا…… کیوں؟ ”اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں“…… عمر سہیل ضیاء بٹ ان کے فرزند ارجمند ہوتے ہیں۔یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے اورلاہور میں خوب نام کمایا۔

الغرض ان کی سیاسی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تمام سلسلہ میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف سے جڑا ہوا ہے۔ رشتہ داری اور لحاظ نے آگے بڑھتے قدم روک لئے! اب وہ ایسی جگہ کھڑے ہیں، جہاں سے آگے یا پیچھے ہونا چاہیے تھا۔وہاں نہیں کھڑے، جہاں واقعی کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ عجب اور غضب یہ ہے کہ ایسے پیارے انسان کو سنجیدہ حوالوں سے کم ہی زیر بحث لایا جاتا ہے۔یہ کام دشمنوں سے زیادہ دوستوں نے کر دکھایا۔ اس سلسلے کی زندہ مثال برادرم محترم سہیل وڑائچ کا ”فیض عام“ کالم ہے، جس میں ”میرا انقلابی فیصلہ“بطور خاص قابلِ ذکر ہے۔ اس کالم میں کیا ہے؟ کیا نہیں ہے؟؟ مزاحیہ زندگی اور سنجیدہ مزاح! محترم سہیل ضیاء بٹ ایک وضع دار اور یار باش انسان ہیں۔ کھرے، صاف گو اور صاف دل! جو کچھ بھی کہا، ہمیشہ سچ کہا اور منہ پر کہا ہے۔

بہرحال حق گوئی کی ایک قیمت مقرر ہے، جو انہوں نے ہر مرحلے پر ادا کی! بیگانے تو بیگانے ہوتے ہیں، ان کا راستہ دراصل یگانوں نے روکا ہوا ہے۔ مَیں نہیں جانتا کہ ان کا نیا سیاسی کارنامہ، جو مارکیٹ میں ”عام عوام پارٹی“ کے نام سے سننے میں آ ہا ہے، مستقبل میں کیا رخ اختیار کرے گا، مگر یہ بات بہرحال خوشگوار ہے کہ انہوں نے اپنی روش قائم رکھی ہے۔ دن میں بھی ایک خواب دیکھا۔ خواب دیکھنے اور دکھانے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہاں! لیکن یہ حقیقت ہے کہ فقط خواب دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا……مگر خواب دیکھے بغیر بھی تو کبھی کچھ نہیں ہوا۔

امر واقعہ یہ ہے بٹ صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ کمزور و ناتواں اور بے بس و بے کس عوام کی خوشحالی کا متواتر خواب دیکھتے ہیں۔ نیب بھی انہیں اپنے ریڈار پر لایا تھا، تاہم ان کے ہاتھ صاف، بلکہ شفاف پائے گئے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ان کے گناہ بے گناہی کو خوب سراہا اور قابلِ ذکر الفاظ کا استعمال کیا۔گوالمنڈی لاہور میں وائس چیئرمین یونین کونسل ممتاز بزنس مین خواجہ ندیم سعید وائیں ان کا ایک مضبوط بازو ہیں۔ اگر ”عام عوام پارٹی“ کا تشخص برقرار رکھا گیا تو لازم ہے کہ جلد یا بدیر یہ اپنے ہونے کا احساس دلائے گی۔ مجھے تو صرف یہ علم ہے کہ جناب سہیل ضیاء بٹ ایک درد مند دل رکھنے والے باشعور فرد ہیں۔ زندہ دلانِ لاہور میں ایک معتبر نام!

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...