سکھوں نے 1947سے بند مسجد مسلمانوں کے حوالے کردی لیکن ایسی شرائط پر جس سے ہر مسلمان اتفاق کرے گا

سکھوں نے 1947سے بند مسجد مسلمانوں کے حوالے کردی لیکن ایسی شرائط پر جس سے ہر ...
سکھوں نے 1947سے بند مسجد مسلمانوں کے حوالے کردی لیکن ایسی شرائط پر جس سے ہر مسلمان اتفاق کرے گا

  



چندی گڑھ(ڈیلی پاکستان )بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع موگاکے گاوں منہا میں سکھ برادری نے باہمی رواداری کی مثال قائم کردی۔تقسیم ہند کے بعد سے بند پڑی ایک مسجد کی مرمت کرکے اسے مسلمانوں کے حوالے کردیا ۔سکھ کمیونٹی نے مشاورتی اجلاس میں یہ شرط بھی عائد کی کہ مسلمان اس مسجد کو آباد رکھیں گے دن میں پانچ مرتبہ اذان دی جائے گی اور نمازاداکی جائے گی۔ایسا نہ ہوکے مسجد بحالی کے بعد بھی غیر آباد رہ جائے۔

بی بی سی اردو کی جاری کردہ ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق یہ مسجد 1947 میں بٹوارے سے پہلے تعمیرکی گئی تھی ۔سکھوں کا کہنا ہے کہ تقسیم کے بعد جب وہ یہاں آئے تو اسی مسجد نے انہیں پناہ دی تھی اس لئے وہ اس کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ سکھ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ان کے گرو نے انہیں تمام مذاہب کے لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرنے کا درس دیاہے۔

گاوں کے سرپنج رنجیت سنگھ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد بے یارومددگار یہاں پہنچے ۔انہوں نے کہا یہ مسجد بٹوارے سے پہلے موجود تھی اور بند پڑی تھی۔انہوں نے کہا یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے کہ بٹوارے سے پہلے اس میں نماز ہوتی تھی یا نہیں۔تقسیم کے بعد زیادہ تر مسلمان پاکستان چلے گئے جبکہ سکھ مہاجر یہاں آباد ہوگئے۔جو مسلمان ہجرت نہ کرسکے وہ آج بھی یہاں آباد ہیں۔

رنجیت سنگھ نے کہا انہوں نے سوچا کہ مسجد پڑے ہونے سے مسلمانوں کو پریشانی ہوتی ہوگی ۔اس لئے مسجد مسلمانوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ماضی میں یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی آج سکھوں کی ہے اور یہاں کے لوگ مذہبی رواداراوربہت اچھے ہیں ۔تمام مسلمانوں اور سکھوں نے میری تجویز کی تائید کی، باہم صلاح مشورے کے بعد سب اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے۔تاہم رنجیت کے مطابق یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ مسلمان اس مسجد کو آباد رکھیں گے دن میں پانچ مرتبہ اذان دی جائے گی اور نمازاداکی جائے گی۔ایسا نہ ہوکے مسجد بحالی کے بعد بھی غیر آباد رہ جائے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...