حالات دن بدن گھمبیر صورت اختیار کررہے ہیں ،مڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں:سراج الحق

حالات دن بدن گھمبیر صورت اختیار کررہے ہیں ،مڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ ...
حالات دن بدن گھمبیر صورت اختیار کررہے ہیں ،مڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں:سراج الحق

  



مانسہرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 126 دن کا دھرنا دینے والوں کو کشمیر میں 126 دن کا کرفیو نظر نہیں آتا ، جب حکمران خود اپنے لئے صبح شام نئی قبریں کھودنے میں لگے ہوئے ہوں تو حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں،حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کا احساس اس وقت ہوگاجب وقت اُن کےہاتھ سے نکل چکاہوگا،حکومت ڈیلیور نہیں کرپارہی،حالات دن بدن گھمبیرصورت اِختیار کررہے ہیں تومڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں،  اِن ہاؤس تبدیلی اورقبل اَز وقت الیکشن بھی جمہوریت کاحصہ ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ معاملات مشاورت اورجمہوری طریقے سےحل ہوں، 22دسمبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کیلئےملک بھرسےلاکھوں لوگ اسلام آبادپہنچیں گےاورحکمرانوں سےکشمیرپرخاموشی توڑنے کامطالبہ کریں گے،بھارتی غاصب فوج نے80لاکھ کشمیریوں کو126دن سے یرغمال بنارکھاہےاورہمارے حکمران خاموش تماشائی بنےہوئےہیں،پاکستان کے22کروڑ عوام مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، حکمرانوں نے عوام کی نہ سنی تو پھر عوام بھی حکمرانوں کی نہیں سنیں گے۔

مانسہرہ میں ضلعی اجتماع ارکان سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت کے معاملے کو ایک بارعدالت میں تماشابناچکی،اَب اسمبلی میں محتا ط رہے،اِس حساس معاملےپرحکومت کارویہ اَب بھی مثبت اورسنجیدہ نہیں ہے ، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اتفاق رائے سےہونی چاہئے،اِس منصب کا تقاضا ہے کہ ایک غیر جانبدار فردکو چیف الیکشن کمشنر بنایا جائے،ہمارا موقف یہی ہے کہ تمام فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں، پالیسیاں،نظام اور قانون کسی ایک فرد کیلئےنہیں بلکہ ملک اورعوام کیلئےبنتےہیں،حکومتی گاڑی ایک جگہ پرکھڑی ہےاورباوجود کوشش کے چل نہیں رہی تو قبل اَز وقت الیکشن ہی بہتر آپشن ہےاورآئین اس کی اجازت دیتاہے،پوراملک اس وقت دلدل جبکہ سیاست اور جمہوریت ایک بندگلی میں ہے ،عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہورہاہے،مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں،جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف مظاہرے کئے ہیں،پورے ملک کے عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں،حکمرانوں کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ وہ مہنگائی کے جن کو کس طرح بوتل میں بند کریں،یہ نالائق اور ناکام لوگ ہیں جو پہلے سابقہ حکومتوں اور مشرف آمریت کا حصہ رہے اور اب موجودہ حکومت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ جن لوگو ں کواپنا ہوش نہ ہو،جو رات بھرجاگتےاورصبح سوتے ہوں اورعوام سےکٹےہوئےہوں،اُن سےکوئی اُمیدرکھناخودفریبی کےسوا کچھ نہیں ، حکمرانوں نے اپنے ووٹرز، سپو رٹرز اور سب سے بڑھ کر ان نوجوانوں کو سخت مایوس کیا ہے جنہوں نے بڑی امنگوں اور ارمانوں سے ان کا ساتھ دیا تھا۔اس لئے قبل از وقت الیکشن میں کوئی خرابی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جن معاشی پالیسیوں اور قرضوں کی معیشت کو لیکر چل رہی ہے یہ اس کی اپنی نہیں بلکہ سابقہ حکومتوں اور مشرف کی پالیسیاں ہیں۔ماضی کی تمام حکومتوں نے 31ہزار ارب روپے قرضے لیئے جبکہ موجودہ حکومت نے قرضوں کی ٹرین کو نیا انجن لگایا ،اب یہ قرضے بڑھ کر 45ہزار ارب تک پہنچ گئے ہیں۔تبدیلی کے نام پر حکومت مسلط کی گئی ہے ،یہ تبدیلی نہیں عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور دھوکہ ہے ۔حکومت نے احتساب کے نعرے کو بھی بدنام کیا،حکمران نہیں چاہتے کہ ان کا کوئی احتساب کرے ۔ حکومت کو احتساب پسند ہے مگر دوسروں کا 

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 22دسمبر کا اسلام آباد کشمیر مارچ اسلام آباد پر چڑھائی کا نہیں،پاکستان کوبچانےاورکشمیرکوآزادکروانے کا ہے،کشمیرکے بغیر پاکستان نامکمل ہے،کشمیری پاکستان کے تحفظ اور تکمیل کی جنگ لڑرہے ہیں،یہ محض جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے لئے ایمان نظریے اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،کشمیر کی ساری قیادت جیلوں میں بند ہے،اسی لاکھ کشمیر بھارتی فوج کے ہاتھوں یرغمال اور محصور ہیں،کشمیر میں زندگی گزارنا ناممکن بنادیا گیا ہے،مساجد اور تعلیمی ادارے بند ہیں،بیماروں کو ہسپتالوں میں علاج کی اجازت نہیں،مودی نے الیکشن کے وقت اعلان کیا تھا کہ ہم کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنائیں گے،اس نےاپنے اعلان پر عمل کیا اور ہمارے حکمران کشمیر یوں کے ساتھ مسلسل بے وفائی کررہے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /مانسہرہ


loading...