مغربی معاشروں میں مسلمان مخالف جذبات اُبھرنا خطرناک رجحان ہے:سینیٹر پروفیسر ساجد میر

مغربی معاشروں میں مسلمان مخالف جذبات اُبھرنا خطرناک رجحان ہے:سینیٹر پروفیسر ...
مغربی معاشروں میں مسلمان مخالف جذبات اُبھرنا خطرناک رجحان ہے:سینیٹر پروفیسر ساجد میر

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ مغرب قرآن کی عالمگیر دعوت کو سمجھے، اسلام امن وسلامتی کا دین ہے،قرآن کو جلاکر یا اہانت آمیز خاکے بنا کر مسلمانوں کو مشتعل نہ کیا جائے،پہلے صلیبی جنگوں اور پھرنائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا کی وبا عام ہوئی، یواین او آسمانی کوآسمانی کتابوں اور انبیاء کرام کی ناموس کی حفاظت کے لیے عالمگیر قانون سازی کرنا ہو گی۔

لاہور پریس کلب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث سٹی کے زیر اہتمام’اسلامو فوبیا اور عظمت قرآن سیمینار‘ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر  کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا فوری اجلاس بلاکر اسلاموفوبیا پر موثر قانون سازی ہونی چاہئے،اقوام متحدہ کی طرف سے نفرت اورجرم پر مبنی تقاریر روکنے کے لئے نظام وضع کرنے کی حمایت کی جائے،اقوام متحدہ میں اِنسداد دہشتگردی کے لسٹنگ فریم ورک پر جامع نظرثانی کی جائے،اسلاموفوبیا کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دیا جائے ،مغربی معاشروں میں مسلمان مخالف جذبات کا ابھرنا خطرناک رجحان ہے،احترام اور برداشت کے کلچرکی جگہ تعصب اور نکال باہر کرنے کا بیانیہ جگہ لے رہا ہے ، پردے پرپابندیاں اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاجارہا ہے،اسلامی مقامات اور علامات پر حملے ہورہے ہیں،اِظہار رائے کی آزادی کے نام پر نفرت پھلائی جارہی ہے،دانستہ توہین آمیز خاکوں کےمقابلے کرائے جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مسلمان جہاں اقلیت میں ہیں،اُنہیں خاص طورپر منفی انداز سے پیش کیا جارہا ہے اور اُن کے خلاف نسلی تعصب کو ہوا دی جارہی ہے،مسلمانوں کو سفید فام پر بوجھ قرار دے کر نسلی تعصب کو ابھارا جارہا ہے،یہ رجحان مغرب تک ہی محدود نہیں رہا،اسلامو فوبیا کے مسئلے کی موجودگی سے انکار کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز،اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا،سیاسی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی لہر کو روکنا ہوگا،مسلمان ممالک میں اتحاد کے بغیر اس لہر کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں ہوگا۔

سینیٹر ساجد میر کا کہناتھا کہ اوآئی سی کی سطح پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام اورنگرانی کرے،مستقل بنیادوں پر رپورٹس کا اجرا کیا جائے جس میں مسلمانوں کے خلاف ایسے رویوں کی نگرانی پر مبنی حقائق جمع ہوں،مسلح تنازعات، عدم مساوات،مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی وجوہ کو حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا،اسلام کا حسین اورسلامتی والا چہرہ سازش کے تحت مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنا ہو گا،مغرب میں اسلامو فوبیا کی وجہ اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور لوگوں کا اسلام قبول کرنا ہے،اسلام کا حسین اورسلامتی والا چہرہ سازش کے تحت مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنا ہو گا،مذہبی سکالرز کو عصری تقاضوں کے مطابق اسلوب دعوت اختیار کرنا ہو گا۔اںہوں نے کہا کہ اسلام کیخلاف پراپیگنڈا کا توڑ تحقیق وتعلیم کے میدان میں کرنا ہو گا،ہمارے پاس کسی بھی مذہب کے مقابلے زیادہ اخلاقی قوت ہے،آج مغرب میں قرآن اور ہمارے نبیﷺ کی توہین کے واقعات سے مسلمانوں کا ردعمل فطری ہے،یواین او آسمانی کتابوں اور انبیاء کرام کی ناموس کی حفاظت کے لیے عالمگیر قانون سازی کرے.سیمینار سے ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی، ڈاکٹر عبدالغفور راشد،علامہ معتصم الہی ظہیر،حافظ بابر فاروق رحیمی، فیصل افضل شیخ،حاجی عبدالرزاق سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...