پریکٹیکل کے بہانے میٹرک کی17 طالبات سے 2 سکول مینجرز کی رات بھر جنسی زیادتی ، بھارت سے انتہائی شرمناک خبر آ گئی 

پریکٹیکل کے بہانے میٹرک کی17 طالبات سے 2 سکول مینجرز کی رات بھر جنسی زیادتی ، ...
پریکٹیکل کے بہانے میٹرک کی17 طالبات سے 2 سکول مینجرز کی رات بھر جنسی زیادتی ، بھارت سے انتہائی شرمناک خبر آ گئی 

  

اترپردیش(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستانی ریاست اتر پردیش کےایک نجی سکول کےدو سکول مینجرز پریکٹیکل کروانے کےبہانے دسویں جماعت کی طالبات کو قریبی گاوں لے جا کر سکول میں رات بھر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے،متاثرہ بچیوں نےاگلے دن گھر والوں کےسامنے’ساری رام کہانی‘بیان کردی جس پر والدین سکول مینجرز کی شکایت لے کرتھانےجا پہنچے تاہم بھارتی پولیس نےروایتی ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتےہوئے16روز تک واقعہ چھپائےرکھااورمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا،معاملےنےطول پکڑا اوروالدین کے احتجاج پر سنیئر سپریڈنڈنٹ پولیس(ایس ایس پی)نے مقامی تھانےکےکوتوال کو فوری معطل کرتےہوئےنہ صرف مقدمہ درج کر لیا بلکہ ایک نامزد ملزم  کو بھی حراست میں لے لیا ہے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مظفر نگر کےپرکاجی تھانےکی حدود میں ایک انتہائی شرمسار واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو سکول مینجرز اپنے سکول میں میٹرک کی زیر تعلیم 17طالبات کو پریکٹیکل کروانے کے بہانے دوسرے گاوں میں لے گئے ،رات زیادہ دیر ہونے پر انہوں نے بچیوں کو سکول میں ہی روک لیا اور گھر والوں کو فون پر اطلاع دے دی کہ بچیاں سکول میں رات گذاریں گی ،بچیاں جب سکول کےکمروں میں پہنچیں اورگھر سےلایا ہوا کھانا کھانےلگیں تو سکول مینجرز نےگھر سے لائی کھچڑی خراب دے کر پھنکوا دی اور بچیوں کو اپنی طرف سے نشہ آور کھانا کھلا دیا ،کھانے کے بعد بچیوں کو ہوش نہ رہا اور درندہ صفت سکول مینجرز رات بھر بچیوں سے جنسی زیادتی کرتے رہے ۔

گھر واپسی پر بچیوں نے اپنے والدین کو سارے واقعہ بارے بتا دیا تاہم پولیس نے واقعہ کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے 16روز تک مقدمہ درج کرنے سے ٹال مٹول سے کام لیتے رہے ، ،والدین کے احتجاج پر 16روز بعد افسوسناک واقعہ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔اتر  پردیش کے سیاسی و  سماجی حلقوں نے  اس  واقعہ  اور  پولیس کے انتہائی  غیرذمہ دارانہ رویے پر شدید  احتجاج کرتے  ہوئے واقعہ کی  مذمت کی ہے۔

مزید :

جرم و انصاف -