تاریخ پہ تاریخ: پی ڈی ایم 23مارچ کو اسلام آبادکا رخ کرے گی!

تاریخ پہ تاریخ: پی ڈی ایم 23مارچ کو اسلام آبادکا رخ کرے گی!

  

شہر اقبال میں سری لنکن منیجر کا قتل ایک ایسا دردناک سانحہ ہے جسے بھلاتے ہوئے بھی نہیں بھلایا جاسکتا،کیونکہ جس بے دردی کے ساتھ فیکٹری ملازمین نے اسے موت گھاٹ اتارنے کے بعد نعش کی بے حرمتی کی وہ نہ صرف انتہائی افسوس ناک ہے بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،دین اسلام تو امن و آشتی اور صلہ رحمی کا درس دیتا ہے اور ایسے افراد اسلام اور مسلمانیت کے نام پر دھبہ ہیں انہیں مٹا دینا دینا ہی بہتر ہوگا کیونکہ جب تک اس طرح کا مائنڈ سیٹ پروان چڑھتا رہے گا تب تک عدم برادشت کا کلچر بھی بڑھتا رہے گا۔اس کلچر کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ سیاستدانوں اورعلما ء کرام کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود ہر ایک شخص کو  برداشت و صلہ رحمی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کو  بھی اپنے قول و فعل سے اس طرف راغب کرنے کی کوشش کرنا چاہئے مگر بدقسمتی سے ایسا بہت کم ہوتا ہے، کیونکہ دوسروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو بیان کرنے میں تو ہم ہر حد تک چلے جاتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے تو پھر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے اور شاید بطور قوم ہماری ناکامی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں پریشانیوں اور مشکلات نے گھیر رکھا ہے جس دن ہم نے اپنے آپ کو بدل لیا اُس دن سے نہ صرف سب کچھ ٹھیک ہونا شروع ہوجائے گا، بلکہ معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت کا کلچر بھی دم توڑ جائے گا، مگر اس کے لئے سب کو خلوص نیت کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو مشعل ِ راہ بنا کر آگے بڑھنا ہوگا تب ہی ایسا ہوگا وگرنہ اسی طرح قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوتے ہوئے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور بدلے میں بطور پاکستانی شہری ہمارے پاس احساس ندامت کے علاوہ اور کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

متحدہ اپوزیشن کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے رواں دسمبر کی بجائے مارچ میں اسلام آباد کی طرف مہنگائی مارچ کا اعلان کردیا ہے اب پتہ نہیں مولانا صاحب نے حکومت کو تین ماہ کا ٹائم کس مصلحت کے تحت دیا ہے اس کا جواب تو وہ خود ہی بہتر طور پر دے پائیں گے کہ ایسا انہوں نے، کیوں کیا ہے، مگر دسمبر کی بجائے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے فیصلے سے ایک بات تو واضع ہو رہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن حکومت مخالف مہم کو زبانی کلامی بیانات تک محدود رکھنا چاہتی ہے، جس کی وجہ سے وہ عملی اقدامات کے لئے تاریخ پہ تاریخ دے ر ہی ہے اس کی بھی بنیادی طور پر دو وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو پی ڈی ایم کے مختلف ایشوز پر آپس کے اختلافات ہیں،جو گاہے بگاہے اخبارات و نیوز چینلز کی زینت بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ حکومت کو قوم کے سامنے مکمل ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں تاکہ تحریک انصاف دوبارہ عوام کے پاس جانے کے قابل ہی نہ رہے اب اس میں سے کون سی بات سچ ہے اس کا فیصلہ تو وقت پر ہی ہوگا مگر (ن) لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے ترین گروپ کے ساتھ کی خواہش کا اظہار کردیا ہے، اب پتہ نہیں رانا ثنا اللہ کو اچانک کیوں ترین گروپ کی یاد ستا رہی ہے، مگر ان کے موجودہ بیانیے سے تو لگ یہی رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جہانگیر خان ترین سے تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے ادھر سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف و سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی لودھراں میں میڈیا نمائند گان کے ساتھ گفتگو میں جہانگیرخان ترین کی تاحیات نااہلی کے خلاف نظرثانی کیلئے اپیل کا مشورہ دیا۔ اب دیکھیں سید یوسف رضا گیلانی کے نظر ثانی اپیل کے مشورے اور رانا ثنا اللہ کی تحریک عدم اعتماد کی خواہش پر پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین کس قدر عمل کرتے ہیں یا پھر وہ اسی طرح حکومت جماعت کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔

ملتان ڈویژ ن سے مرحوم سیاستدانوں کی بیوگان کی سیاست میں انٹریوں کا سلسلہ جاری ہے نغمہ مشتاق لانگ،شازیہ عباس کھاکھی اور نورین نشاط ڈاہا کے بعداسد مرتضی گیلانی کی بیوہ نادیہ گیلانی نے بھی شجاع آباد کے قومی حلقہ این نے 158 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔پی پی 219،220اور 221 پر مشتمل این اے 158 سے 2018 ء کے عام انتخابات میں حکومتی امیدوار ابراہیم خان کامیاب ہوئے تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید جاوید علی شاہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،اب اسدمرتضی گیلانی کی بیوہ نادیہ گیلانی کا اسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اعلان سیاست میں مزید گرما گرمی کا باعث بنے گا۔ دوسری جانب نورین نشاط ڈاہا خانیوال کے پی پی 206 میں 16 دسمبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں حکومتی جماعت کی امیدوار ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ مرحوم نشاط احمد خان ڈاہا کی وفات سے خالی سیٹ پر اُن کی بیوہ کامیاب ہوتی ہیں یا پھر مسلم لیگ(ن) کا امیدوار، اس کا فیصلہ تو 16 تو دسمبر کو ہی ہوگا۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی سیاست میں اگر خواتین کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو چند خواتین نمایاں نظر آتی ہیں ان میں بیگم عابدہ حسین، تہمینہ دولتانہ، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، نتاشہ دولتانہ، زرتاج گل، نغمہ مشتاق لانگ و دیگر شامل ہیں۔ بیشتر خواتین مخصوص نشستوں پر اسمبلیوں تک پہنچتی ہیں جبکہ چند ہی الیکشن لڑ کر ایوان میں پہنچ پاتی ہیں۔اگر اسی تواتر کے ساتھ خواتین جنوبی پنجاب کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں تو ایک دن ضرور وہ کامیاب ہوکر ملکی سیاست میں اپنا اہم کردار ادا کریں گی۔

 ٭٭٭

یوسف رضا گیلانی کا جہانگیر ترین کو نااہلی کیخلاف نظر ثانی اپیل کا مشورہ

مرحوم سیاستدانوں کی بیوگان کی سیاست میں انٹری، نغمہ مشتاق لانگ،شازیہ عباس کھاکھی،نورین نشاط ڈاہا کے بعد نادیہ گیلانی نے بھی اعلان کردیا 

مزید :

ایڈیشن 1 -