ایم کیو ایم تمام تر کوشش کے باوجود دفاتر واپس نہیں لے سکی

ایم کیو ایم تمام تر کوشش کے باوجود دفاتر واپس نہیں لے سکی

  

کراچی۔ڈائری۔مبشر میر

ایم کیو ایم پاکستان کی دیرینہ خواہش اور کوششوں کے باوجود ان کو تنظیمی دفاتر واپس نہیں مل سکے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے کئی ملازمین بھی ان کے باقاعدہ ورکرز تھے، کے ایم سی کی گراؤنڈز اور دیگر عمارات بھی دفاتر کی حیثیت سے ان کے ورکرز اور رہنماؤں کے تصرف میں تھیں۔ پارٹی پر بہت دباؤ تھا کہ عزیز آباد کے مرکزی دفتر میں کام کرنے کا موقع ملے، خاص طور پر نائن زیرو کو آباد کیا جائے جو پارٹی کا مرکزی دفتر رہا ہے اور ایک سیاسی علامت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ 

ایم کیو ایم کو ایک بُری خبر کا سامنا ہوا جب نائن زیرو پر قائم خورشید میموریل ہال کو گرادیا گیا، خورشید بیگم، بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی والدہ ماجدہ کا نام ہے اور یہ ہال انہی سے موسوم تھا، ایم کیو ایم یہاں پریس کانفرنس کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ کارکنوں کی جانب سے دباؤ اور مطالبے کے باوجود ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے اپنا یہ مطالبہ منوانے میں ناکام رہی۔ چونکہ وفاقی حکومت میں وہ ایک اتحادی پارٹی ہے، مگر تین سالوں میں وہ تنظیمی لحاظ سے فعال نہیں ہوسکے، اب آئندہ الیکشن سے پہلے ان کو کچھ ایسا اقدام کرنے کی ضرورت ہوگی جس سے اپنے کارکنوں اور ووٹرز کو مطمئن کرسکیں، چنانچہ ایم کیو ایم نے مسلم لیگ ن سے رشتوں کی بحالی کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایک طرف وفاقی حکومت خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف پر دباؤ ڈالنا اور دوسری جانب اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنا، سابق گورنر سندھ محمد زبیر سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ملاقات کی۔ ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملنے کے بعد لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔ گویا ایم کیو ایم کے راہنما اپنا اتحاد قائم کرنے سے پہلے اپنی لابی بھی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

سندھ میں پیپلز پارٹی نے بلدیات کا نیا نظام متعارف کروانے کیلئے جو فارمولا تیار کیا ہے، اس میں کلی اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہی ہونگے۔ مسلم لیگ ن نے بھی ایم کیو ایم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس مسئلے پر پیپلز پارٹی کے خلاف محاذ میں شامل ہونگے۔ ہوسکتا ہے کہ دیگر جماعتوں کے لوگ بھی اس کا حصہ بن جائیں لیکن تحریک انصاف نے اس قانون کو چیلنج کردیا ہے۔ 

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ کئی مرتبہ ایک ہی نظریہ یا موقف ہونے کے باوجود سیاسی رہنما مشترکہ جدوجہد کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ گویا اکثر لوگ سولو فلائٹ کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن جب مقتدر قوتوں کی خواہش ہوتی ہے تو تمام رہنما اختلافات بھلا کر ایک پرچم تلے جمع ہونے میں دیر نہیں لگاتے، پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر اتفارق رائے پیدا ہونا اس کی بہترین مثال ہے۔ 

سندھ بھر میں سالانہ کلچر ڈے منایا گیا، اس مرتبہ بھی کراچی میں اس کا جوش و جذبہ نمایاں تھا، یہ بات خوش آئند ہے کہ سندھ میں رہنے والے تمام رنگ و نسل کے افراد نے بخوشی اس دن کو منایا اور سندھ کلچر سے اظہار محبت کیا۔ اجرک اور ٹوپی کی خریداری اور نمائش کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ سندھی ثقافت جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، اسے زندھ کھنا اور اس سے اظہار محبت زمین سے جڑے ہوئے لوگوں کا خاصا ہے۔ پاکستان کی ثقافت جس میں کئی علاقائی رنگ شامل ہیں، ان میں ایک خوبصورت حصہ وادی مہران کا ہے۔ ہر پاکستانی کو اپنے تمام علاقوں کے کلچر کا احترام کرنا چاہیے۔ ایسا ہی اظہار اس مرتبہ بھی شہر قائد میں نظر آیا، جو لائق تحسین ہے۔ 

سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی اپنی روپوشی ختم کرتے ہوئے سپریم کورٹ  میں پیش ہوگئے، جہاں سے ان کو نیب نے گرفتار کرلیا۔سندھ اسمبلی کا اجلاس ان کی موجودگی کے باوجود چلتا رہا۔ لیکن سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔البتہ بلاول بھٹو زرداری نے ان کی گرفتاری کے بعد نیب پر اپنی تنقید جاری رکھی، آغا سراج درانی پر مقدمے کے آغاز کے بعد ہی علم ہوگا کہ نیب اس کیس کا کیا رُخ متعین کرتی ہے۔ اس سے پہلے نیب کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے۔ڈاکٹر عاصم حسین نیب کی طویل حراست میں رہنے کے بعد اب خوش و خرم زندگی گذار رہے ہیں۔

وفاقی وزیر مراد سعید نے ایک ہنگامی دورہ کیا، کراچی پہنچ کر تندوتیز جملوں سے حملے کئیاور جواباً سندھ کے وزراء بھی حسب توفیق گفتگو کرتے رہے۔ وفاقی وزیر نے عمر کوٹ اندرون سندھ، سندھی کلچر ڈے منانے کی تقریبات میں شرکت کی، وہاں بھی پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بنایا۔وفاقی وزیر اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان عنقریب گرین لائن منصوبے کا کراچی میں افتتاح کریں گے۔ وزیراعظم کی رواں ہفتے آمد متوقع ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس گرما گرم ماحول میں صوبائی حکومت سندھ کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو خوش آئند ہوگا، ورنہ روایتی منطقی گولہ باری کا عمل جاری رہے گا جو کہ انتہائی فضول مشق ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر نسلہ ٹاور گرانے کا عمل جاری ہے۔ اب عمارت کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ لوگوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ مالکان کو معاوضے کب ملیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق عمارت کے پچاس فیصد سے زا ئد اپارٹمنٹ بلڈرز کی ہی ملکیت ہیں جبکہ انتہائی کم فلیٹ ایسے ہیں جو مختلف خاندانوں نے خرید رکھے تھے۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوئی تو زیادہ نقصان بلڈر کا ہی ہوگا اور کمشنر کراچی مالکان کو جلد ادائیگی کر پائیں گے۔ 

اقتصادی اعشاریے ابھی بھی مشکل وقت کی نشاندہی کررہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی فروخت کا عمل جاری ہے اور گراف گررہا ہے جو کہ غیریقینی صورتحال کی علامت ہے۔ حکومت کے اکنامک منیجرز صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ 

،اتحاد کی کوششوں کے علاوہ دوسری جماعتوں سے رابطے؟

وفاقی وزیر مراد سعید کی سندھ آمد،پیپلزپارٹی پر شدید کلماتی گولہ باری،صوبائی وزراء  نے بھی جواب دیا

سندھی ثقافت کا دن منایا گیا،بلالحاظ سب طبقات نے بھرپور شرکت کی،وزیراعظم کا دورہ متوقع! 

مزید :

ایڈیشن 1 -